آزاد بلوچستان میں کِس کا نقصان؟ ۔ وحید بلوچ

873

آزاد بلوچستان میں کِس کا نقصان؟

تحریر: وحید بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج ہر بلوچ کا جاننا ضروری ہے کہ کیوں27 مارچ 1948 کو قبضہ گیر پنجابی نے بلوچ قوم پر اُس وقت فوج کشی کرکے بلوچ قوم کی آزاد سرزمین پر جبراً قبضہ کیا، اس قبضہ گیری کے سہولتکار کون تھے کیوں کہ بغیر اندرونی راجدروہ (غداروں) کے کوئی کسی پر حملہ نہیں کرسکتا۔ 1948 شہزادہ عبدالکریم خان سے لیکر آج 2022 تک بلوچ قومی آزادی کی جنگ نے کس طرح کامیابی اور پذیرائی پائی، کیونکہ یہ جنگ بلوچ قوم کی آزادی، خوشحالی اور بقا کی جنگ ہے۔ اسی لئے ہمیں ہر بلوچ کو اس جنگ میں حصہ لینا ہوگا اور اپنی آزادی کی انقلاب کے پیغام کو بلوچ گھر گھر تک پہنچانا ہوگا۔ بلوچ قوم کے مستقبل (طالبعلم) بہن بھائی، جوان پیر و کماش، کِسان اور مزدور اپنی قوم اور قومی آزادی کے کمزوریوں کو بھی سمجھنا ہوگا اور ساتھ ہی دشمن کی کمزوریوں کو جان کر اُن سے فائدہ اٹھانا چاہئے کہ اس میں ہماری کامیابی کے راز چھپے ہیں۔

اگر ہم غور سے دیکھیں تو پنجابی نے بلوچ قوم پر اتنے ظلم و جبر کیے ہیں جس کی وجہ سے بلوچ قوم کو دشمن سے نفرت ہوگئی اور اسی نفرت نے راج کو متحد کرکے آزادی کی راہ دیکھائی اور آج بلوچ قومی آزادی کی جنگ سالا سال ترقی کر رہا ہے اور دشمن کو شکست ہو رہی ہے کیونکہ ہم بلوچ قوم تو شاخوں میں بٹے ہوئے قوم ہیں۔ بے غیرت علاقائی میر، وڈیرے، نواب اور سرداروں نے ہمیں یک قوم بننے ہی نہیں دیا۔ ان قبیلوں کے نام نہاد سربراہ پنجابی کے دلال بن چکے ہیں۔ بلوچ قوم ان نام نہاد نواب، سردار اور میروں کی غلامی کے زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں، اور یہ میر نواب اور سردار بے غیرت ہیں کہ انہیں کی وجہ سے آج قوم غلام ہے کیوں یہ سردار اور نوابزدے پنجابی فوج کے ہمکار بن کر اپنے ہی بھائیوں کے خلاف سِلاھبند ہیں جو ڈیتھ اسکواڈ کے نام سے مشہور ہیں۔ آزاد اور راجمستری(جمہوری) بلوچستان میں سب سے زیادہ نقصان انہی علاقائی میر، نواب اور سرداروں کو ہوگا کیوں کہ آزاد بلوچستان میں ان کی سرداری اور نوابی سسٹم ختم ہوجائے گی اس وجہ سے بلوچستان کے سارے علاقائی میر اور نواب پنجابی فوج کے کاسگ چٹ اور بلوچ قوم کے راجدروہ بنے ہوئے ہیں۔

جب 1958ء میں بابو نوروز خان زہری اور 1973 تا 78 تک بابا خیربخش مری بلوچستان کی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا تو مری قبیلے کے پڑوس میں رند، مگسی، جمالی، کھوسہ، رئیسانی، لیگاری، بُزدار، کھتران، مزاری، جھکرانی، مینگل، ڈومکی، بُگٹی اور جیکب آباد کے بلیدی سمیت دیگر بلوچ قبائل نے بھٹو کی چمچہ گیری کیلئے اُس وقت کی بلوچ قومی آزادی کے جنگ میں حصہ نہیں لیا اور اِن بدبختوں نے بابا ھیر بکش مری اور عطااللہ مینگل جیسے ہستوں کو پنجابی کے خلاف جنگ میں اکیلا اور تنہا چھوڑ دیا اور بالکُل آج بھی وہی سردار اور میروں کے زیر اثر بدبخت قبائل اس جنگ میں اس لئے شامل نہیں ہیں کیوں کہ وہ پنجابی کے کاسگ چٹّ نواب اور سردار وں کے غلام ہیں۔

دوسر ی آپ عجیب بات سُنئیں کہ پنجابی لوگ اور فوج ہمیشہ بلوچ قوم کو ماموں بنا کر کہتے ہیں بلوچ قوم کا حق یہی نواب اور سردار کھا رہے ہیں۔ بلوچستان کی پسماندگی کا زمہ وار قبائلی سردار ہیں پر اصل میں یہی سردار اور نواب پنجابی فوج کے دلار ہیں۔ دشمن کے نظروں میں بھی یہ لوگ بے عزت اور زلیل ہیں اور بلوچ قوم بھی ان کو تھوکتا ہے۔ اس بارے میں زیادہ ڈیٹیل میں بلوچ زانتکار واژہ شاہ محمد مری نے کھول کر بولا ہے جس کی ویڈیو خُوب وائرل ہے۔

بلوچ قوم کے خلاف پنجابی فوج 1948 سے لے کر آج تک تسلسل کے ساتھ جنگ کر رہا ہے جِس سے بلوچ قوم کی قتل عام ، قومی زبان، رسم و رواج کی پامالی، قوم کے نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں اور عقوبت خانوں میں انسانیت سوز تشدد جاری ہیں۔ سڑکوں، چوراہوں اور جنگلوں میں تشدد زدہ لاشوں کی پیھنکنے کا عمل ہو، بلوچ قوم کے گھروں دیہاتوں کو جلانا بلڈوز کرنے کا عمل ہو، بلوچ قوم کے سرزمین سے معدنیات کو بے دریغ نکالنا جس میں سونا تانبا گیس، خام تیل، ساحل سمندر کو اپنے قبضے میں لیکر اپنی منشا کے مطابق لوٹ ماری کے ساتھ بیرونی طاقتوں کو اجازت دیکر لوٹ مار جاری و ساری ہیں اور پنجابی کی ایسی جبر و تشدد نے آج تقسیم در تقسیم بلوچ کو اپنی قومی آزادی کی خاطر یکجا کرکے عملی میدان میں لاکر کھڑا کر دیا ہے۔

مطلب کہ یہ پنجابی کی ظُلم و جبر کی مہربانیاں ہیں قبائیل میں تقسیم بلوچ قوم کو آزادی کی راہ دیکھائی ہے اور اب نوجوان ایجوکیٹڈ رہنماوں کی سربراہی میں دشمن کے خلاف ایک عظیم قومی جنگ شروع ہوچُکا جو صرف دُشمن کی شکست اور آزاد بلوچستان کی صورت میں ختم ہوگی۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بلوچ راجی لشکر بی ایل اے، مجید بریگیڈ ، بی ایل ایف ، اور بی این اے جیسے مسلح تنظیموں کے لیڈران سمیت تمام جہدکار تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں، یہ نہ سردار ہیں نہ میر و نواب ہیں۔ آج کی بلوچ جنگ میں ریحان بلوچ اور بانک شاری جیسے بہادر سرمچاروں کے نام آئے ہیں، بلوچستان کی آزادی اور دشمن کو نیست و نابو کرنے کے لئے انہوں نے قربانیاں دی ہیں۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں بہادر بلوچ نوجوان ریھان بلوچ اور شاری بلوچ کے راستے کا انتخاب کرتے ہوئے بلوچ قومی آزادی کی جنگ میں آگے آ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ جب دُنیا کے کسی بھی قوم کے نوجوانوں نے آزادی کیلئے جانوں کی قربانیاں دینا شروع کی اُن قوموں نے غلامی کی زنجیریریں تھوڑ دی اور وہ قومیں آزاد ہوئیں اور انشااللہ آنے والے کل بلوچ قوم کی آزادی کا ہوگا۔

ہم بلوچستان کے تمام قبائل کے تعلیم یافتہ لوگوں سے گزارش کرتے ہیں کہ اول وہ بلوچ قوم کے راجدروں کو پہچانیں، دشمن کے ساتھ ان راجدروں، خاص کر علاقائی سردار اور نوابوں سے نفرت کریں کہ اصل بلوچ قوم کی غُلامی اور بربادی کے سہولتکار یہی بدبخت ہیں، جب تک غلام قوم اپنے دشمن سے نفرت نہیں کرتا وہ کبھی آزاد نہیں ہوگا۔ بلوچ نوجوان اپنی زُبان، شناخت، رواج اور وطن کہ آزادی کے لئے آگے آئیں اور اپنی قومی آزادی کی جنگ میں حصہ دار بنیں۔ آج نواب اکبر بُگٹی اور شھید بالاچ مری کی شروع کی ہوئی جنگ کو پچلے آزادی کی جنگ کی طرع بے سوب نہیں ہونے دینا ہے۔

انشااللہ بلوچ قوم غلامی سے آزاد ہوگا اور اپنی سرزمین کا مالک اور ایک آزاد خیال و جمہوری بلوچستان میں ترقی کرے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں