شوہر کو منظر عام پر لاکر انصاف فراہم کیا جائے -اہلیہ جمیل سرپرہ

344

کوئٹہ گونر ہاؤس کے سامنے دھرنے پر بیٹھی لاپتہ جمیل احمد سرپرہ کی اہلیہ نے شوہر کی بازیابی کا مطالبہ کیا ہے میڈیا سمیت انسانیحقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ ہماری آواز کو حکام بالا تک پہنچانے میں میری اور میرے بچوں کی مدد کریں

لاپتہ جمیل سرپرہ کی اہلیہ نے کوئٹہ میں دھرنے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایاکہ جمیل احمد سرپرہ جو ایکسرکاری ملازم اور سابقہ گورنر بلوچستان احمد خان اچکزئی کا پی آر او تھا 25 جولائی کی رات کو ہمارے گھر واقع گرین ٹاؤنسریاب روڈ کوئٹہ سے اے ٹی ایف اور ایف سی کے اہلکاروں نے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا

جمیل سرپرہ کی اہلیہ نے میڈیا کو بتایا کہ میں نے اپنے شوہر کے رہائی اور اپنے چھوٹے معصوم بچوں کے ساتھ تمام ذمہ دار فورمز پر آوازاٹھائی لیکن میرے شوہر کو اب تک رہا نہیں کیا گیا اور نا ہی اس حوالے سے ہمیں کوئی اطلاع دی گئی ہے کہ وہ کس حال میں ہے ہمانتہائی کرب و غم سے اس وقت گزر رہے ہیں میرے سسر اور جمیل احمد سرپرہ کے والد عبدالغنی اپنے بیٹے کے انتظار میں اس دنیافانی سے رخصت ہوگئے

لاپتہ جمیل احمد سرپرہ کی اہلیہ نے بتایا کہ جمیل احمد کی والدہ 7 سالوں سے ساری رات دروازے پہ نظریں لگائے بیٹھی رہتی ہے کہکب میرا بیٹا واپس آئے گا۔

انہوں نے کہا میرے 2 چھوٹے بچے ہیں میں حکام بالا سے پرزور مطالبہ کرتی ہوں کہ میرے بچوں اور مجھ پہ رحم کریں اور جمیل احمدسرپرہ کو رہا کریں سانحہ زیارت کے بعد ہم بے حد پریشان اور ذہنی اذیت سے گزر رہے ہیں

لاپتہ جمیل احمد سرپرہ کی اہلیہ نے اپنے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ اگر کوئی گناہ میرے شوہر سے سرزد ہوا ہے تو اسے عدالتمیں پیش کریں اور جو قانون کے مطابق سزا ہوگی مجھے میرے بچوں اور جمیل احمد سرپرہ کی والدہ کو قبول ہوگا لیکن جس کربمیں ہم مبتلا ہیں ہمیں اس سے نجات دیں ہمیں ہمارے گھر کی خوشیاں اور میرے بچوں کو ان کے والد لوٹا دیں

انہوں نے کہا کہ آج رات 7 سے 10 بجے تک ایک ٹوئیٹر کیمپین چلایا جائے گا جس میں تمام انسان دوست افراد سے شرکت کی اپیلکرتی ہوں کے وہ جمیل احمد سرپرہ کے لئے بھرپور آواز بلند کریں