بی ایل اے حاضر سروس فورسز افسران کو اغواء کرنے کی منصوبہ بندی کر چکا ہے – تھریٹ الرٹ جاری

918

گذشتہ دنوں پاکستانی آرمی کرنل کے اغواء اور قتل کے بعد بلوچستان میں سیکورٹی افسران کو سیکورٹی سخت کرنے کی ہدایت جاریکردی گئی ہے

کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ نے تھریٹ الرٹ میں صوبائی پولیس انتظامیہ کو ہدایت نامہ جاری کرتے ہوئے تنبیہ کی ہے کہ بلوچ لبریشنآرمی کے کی جانب سے حاضر سروس فورسز افسران کو اغواء کرنے کا منصوبہ بندی کرنے کے واضح خطرات موجود ہیں

کاؤنٹر ٹیررزم ڈپارٹمنٹ کی جانب سے افسران کو ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے ارکان کرنل لئیق اغواء واقعہ کےطرز کاروائی کرسکتے ہیں، سی ٹی ڈی اور خاص طور پر فوجی آفیسران غیر معمولی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے سیکورٹی کےمزید انتظامات کریں

دوسری جانب انٹیلجنس اداروں نے بلوچستان میں اگلے چند روز شدید حساس قرار دیے ہیں جبکہ تمام آرمی کیمپ اور ہیڈکواٹرز کیسیکورٹی سخت کردی گئی ہے

خیال رہے کہ 12 جولائی کو پاکستانی فوج کے ایک کرنل کو زیارت کے علاقے ورچوم سے اغواء کے بعد ہلاک کردیا گیا تھا مذکورہ کرنلکے اغواء اور ہلاکت کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ بیان میں تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ نے کہا کہ پاکستان کےکرنل لئیق کو سزائے موت دی گئی ہے

جیئند بلوچ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ کرنل لئیق کو بی ایل اے کے اسپیشل فورس اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ نے ایکانٹیلیجنس آپریشن کے دوران 12 جولائی کو گرفتار کیا۔ جبکہ کرنل لئیق کی لاش گزشتہ روز زیارت سے برآمد کرلیا گیا ہے

کرنل لئیق اغواء و ہلاکت کے بعد زیارت سمیت قریبی علاقوں میں فورسز کی جانب سے زمینی و فضائی فوجی آپریشن کے بھی اطلاعاتہیں

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے دوران آپریشن  پانچ افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ ایک اہلکار کے ہلاکہونے کی تصدیق کردی ہے۔