لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے احتجاج جاری

58

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتال کیمپ کو 4687 دن ہوگئے، آج احتجاجی کیمپ میں قلات سے سیاسی و سماجی کارکنانعبدالمجید بلوچ، محمد بلوچ اور دیگر لوگوں نے آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے کہا کہ بلوچ فرزندوں کی مسخ شدہ لاشیں بمباری کے شکار ویران بستیاںقدم قدم پر پاکستانی فوج کا وجود اور عالمی سامراج کی لالچی نظروں نے بلوچ سرزمین کو خون آلود کردیا ہے جس کا شعور رکھتےہوئے بلوچ قوم اپنی بقا اور اپنے فرزندوں کی بازیابی کے لئے پرامن جدوجہد کے مرحلے سے سرخرو ہونے کو تیار ہوچکی ہے ۔ جس کامظاہرہ ایک طویل مدت کے بعد بلوچ عوام کی بھرپور شرکت اور ان کے جذبات سے ہوا پاکستان کو درپیش مضبوط لواحقین کے پرامنجدوجہد نے اس خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے جس نے پاکستانی قبضہ بلوچ سرزمین کے استحصال کےسامراجی منصوبوں کو مشکلات سے دوچار کردیا جسے دیکھ کر پاکستان نے بلوچ قوم کی نسل کشی میں اپنی تمام قوت کو میدانمیں اتار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تیرہ سالوں سے بلوچ قوم میں پرامن جدوجہد کرنے والے تنظیموں کو پاکستان نے منظم انداز میں سرچ اینڈڈسٹرائے اور مارو پھینکو کی حکمت عملی کے تحت نشانہ بناکر بلوچستان کے ہر گلی کوچے کو خون آلود کردیا اور سیاسی رہنماوںاور نوجوان سیاسی کارکنوں کو منظم انداز میں ٹارگٹ کرکے پاکستان نے میدان سیاست میں موجود جماعتوں اور تنظیموں کو اپنیسرگرمیوں کو محدود کرنے پر مجبور کردیا ہے پاکستانی فوج خفیہ اداروں ڈیتھ اسکواڈ اور پاکستانی میڈیا منظم انداز میں سرگرمتھی۔

ماماقدیر بلوچ نے مزید کہا کہ پاکستانی ریاست اپنی ظلم و بربریت میں مزید شدت لایا ہے پورے بلوچستان کو پاکستان نے بارود کاڈھیر بنادیا ہے حالیہ دنوں میں پاکستانی لشکر نے بولان ہرنائی لجے خاران اور قلات کے آس پاس گن شپ ہیلی کاپٹروں جنگی جہازٹینکوں کے ذریعے یلغار کی درجنوں بلوچ شہید و زخمی ہوئے اور بلوچ فرزندوں کی جبری گمشدگیوں اور حراستی قتل میں مزید تیزیلائی گئی ریاستی بربریت میں بربریت میں اضافہ محض اتفاق نہیں بلکہ یہ پاکستانی پارلیمان پسند مفاد پرست پارٹیوں کی فرمائشکا نتیجہ ہے۔