ریاستی ادارے منشیات فروشی میں ملوث ہیں – منشیات کے عالمی دن بلوچستان میں ریلیاں

157

انسداد منشیات کے عالمی دن کی مناسبت سے بلوچستان کے صنعتی شہر حب چوکی، ساحلی شہر گوادر، تربت، پنجگور اور دیگر علاقوں میں ریلیاں نکالی گئی اور منشیات سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد ہوئے –

اتوار کے روز کراچی سے متصل بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں بی ایس او کے مختلف دھڑوں کے سابقہ رہنماؤں کی قیادت میں ایک ریلی نکالی گئی – ریلی کے شرکاء نے شہر کے مختلف سڑکوں پر گشت کرتے ہوئے منشیات کے خلاف نعرہ بازی کی –

اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کو مظلوم و محکوم قوموں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے منشیات بلوچستان میں پیدا نہیں ہورہی ہے بلکہ پڑوسی ممالک سے منشیات کئی چیک پوسٹوں سے پار کرکے بلوچ علاقوں تک پہنچائی جارہی ہے، بلوچستان کے علاوہ کراچی کے بلوچ علاقوں تک منشیات پہنچائی جارہی ہے بلوچستان کا صنعتی شہر حب منشیات کا ڈمپنگ پوائنٹ بن چکا ہے حب کے ہر گلی محلے میں منشیات باآسانی دستیاب ہے-

مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے سیاسی کارکنوں سمیت ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والوں کو لاپتہ کیاجارہا ہے لاپتہ افراد کے لواحقین ایک اذیت کی زندگی گزار رہے ہیں – انہوں نے گزشتہ دنوں کراچی میں لاپتہ افراد کے حوالے سے احتجاج کرنے والی خواتین پر تشدد اورگرفتاریوں کی مذمت کی –

مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے لیکن چونکہ آج منشیات کا عالمی دن ہے اس لئے منشیات کے خلاف منعقدہ ریلی میں مشیات کی تباہ کاریوں کے متعلق بات ہوگی منشیات کے عادی افراد سماج سے لاتعلق ہوجاتے ہیں آج کی ریلی نشے سے نفرت کا پیغام دے رہی ہے اس ریلی میں منشیات کے کل کے عادی افراد بھی شامل ہیں جو کہ حب میں واجہ خدابخش بلوچ و دیگر دوستوں کی جانب سے اپنی مدد آپ چلائے جانیوالے ڈرگ ریکوری سینٹر میں زیر علاج رہے اور آج ایک باشعور شہری کے طور پر نشے سے نفرت کا پیغام دے رہے ہیں-

مقررین نے کہا کہ حب کی صنعتوں میں حب کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے دروازے بند ہیں حب میں یونیورسٹی،کالج ،ٹیکنکل ٹریننگ سینٹرنہیں ہیں جبکہ منشیات عام ہے یہاں کے ہمیشہ منتخب نمائندوں نے منشیات کے حوالے سے کبھی کوئی اقدامات نہیں کئیے یہاں تک حب میں قائم ڈرگ ریکوری سینٹر کا آج تک دورہ کیا اور نہ ہی اس کی حوصلہ افزائی کی-

مقررین نے کہا کہ منشیات کے عادی افراد قابل علاج ہیں حکومت بلوچستان اوتھل میں زیر تعمیر بحالی سینٹر کو فوری فعال کرے منشیات کے عادی افراد کو علاج کرکے دوبارہ سماج کا بہترین کردار بنایا جاسکتا ہے

وہاں بلوچستان کے ضلع پنجگور میں ڈسٹرکٹ کونسل ہال میں سول سوسائٹی، انٹی ڈرگ سوسائٹی اور مارس فاؤنڈیشن کی جانب سے ایک سمینار کا انعقاد کیا گیا – اس دوران مقررین نے منشیات کے حوالے سے اپنے تاثرات بیان کیئے- پروگرام کے مہمان خصوصی سوشل ویلفیئر کے ڈپٹی ڈائریکٹر میڈیم خدیجہ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ منشیات ہمارے معاشرے کی ناسور ہے جس نے پورے قوم کو تباہ کردیا ہے اسی لعنت نے ہمارے گھروں اور پھول جیسے بچوں کو کس مقام تک پہچایا ہے لیکن اس کی باوجودِ سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہم ہر منشیات فروش ہر اس شخص کو جانتے ہیں لیکن ہم انکے خلاف نہیں گئے ہیں چاہے جو بھی ہو جو ہمارے معاشرے ہمارے بچوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں وہ معافی کے مستحق نہیں ہیں –

انہوں نے کہا ڈسٹرکٹ پنجگور ایک تعلیمی زون تھا آج کس مقام تک پہنچایا ہے تو اس کے ذمہ دار نہ صرف وہ ہیں جو منشیات پھیلا رہے ہیں بلکہ ہم بھی ہیں جو اس پر خاموش تماشائی ہیں-

انہوں نے کہا ہے کہ کہ اس ڈسٹرکٹ میں اب تعلیم کے ریشو سے منشیات زیادہ بڑھ رہی ہے اس کا ذمہ دار سماج ہے جو خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اس دوران حاجی افتخار حاجی عبد العزیز ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عنایت اللہ بنگلزئی شیر جان بلوچ اقبال ظہیر رفیق چاکر ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے معاشرے کو بہت سے مشکلات کا سامنا ہے لیکن معاشرے کی بہتری بغیر کسی قربانی کے ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہے سیاسی جماعتیں معاشرے کے اصلاح میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں لیکن حقیقت بیان کرنے میں گونہ گو کے شکار ہیں سیاست سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے ہمیں صحت تعلیم دینے کا ہر فورمز پر تقریر کیا ہے لیکن منشیات کے خاتمے کیلئے کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں اٹھایا –

تربت اور گوادر سے آمد اطلاعات کے مطابق حق دو تحریک کے کارکنوں نے اس دن کی مناسبت سے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ منشیات کو ریاستی اداروں کی سرپرستی میں بلوچستان بھر میں فروغِ دیا جارہا ہے –

انکا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سخت ترین سیکورٹی حصار اور چیک پوسٹوں سے ایک کلو ایرانی گھی گزرانا مشکل عمل ہے لیکن منشیات باآسانی انہی چیک پوسٹوں سے گزر جاتے ہیں اور آج بلوچستان میں ایف سی کا عام صوفیدار کروڑ پتی بن چکا ہے –

مظاہرین نے کہا کہ اس ملک اور سرکار سے ہمیں یہ امید نہیں کہ وہ منشیات کے خلاف کاروائی کرے گا تاہم ہمیں اپنے قوم کو متحد کرکے اس ناسور کے خلاف جنگ کرنا ہوگا-