درد کے تیرہ سال کیا ہو تے ہیں؟ ۔ محمد خان داؤد

67

درد کے تیرہ سال کیا ہو تے ہیں؟
تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

تیرہ سال! جی ہاں تیرہ برس،ایک عشرہ،یہ کیا ہو تے ہیں تیرہ سال؟جس میں کئی ماہ،کئی دن،کئی گھنٹے،کئی منٹ اور کئی سیکنڈ ہوں،پر اگر یہ تیرہ سال درد کے تیرہ سال ہوں،انتظار کے تیرہ سال ہوں،ہیجانی کیفیت کے تیرہ سال ہوں،دلاسے کے تیرہ سال ہوں،وہ آئیگادرد مٹ جائیں کے جیسی کیفیت کے تیرہ سال ہوں،دادی کو دلاسہ دینے کے تیرہ سال ہوں،ماں کے آنسو پوچھنے کے تیرہ سال ہوں،چھوٹی بہن کی دل جوئی کرنے کے تیرہ سال ہوں،سفر کے تیرہ سال ہوں۔مسافر بن جانے کے تیرہ سال ہوں،مذاق بن جانے کے تیرہ سال ہوں!
گھر سے تھانے،تھانے سے کورٹ،کورٹ سے جے آئی ٹی،جے آئی ٹی سے مظاہروں کے تیرہ سال ہوں!
اُداس پریس کلب کے در پر بیٹھنے کے تیرہ سال ہوں!
گھر،گھر سے گلی،گلی سے شہر،شہر سے درد بدر ہونے کے تیرہ سال ہوں
سفر،سفر در سفر اور پھر مسافر بن جانے کے تیرہ سال ہوں
ان سفروں میں کب جوان ہوئے کب بڑھے ہوئے اس بے خبری کے تیرہ سال ہوں
ماں کے بالوں میں چاندی اتر آئی اور دادی کی نظر جا تی رہی اس کے تیرہ سال ہوں
پاؤں میں پڑی جوتیوں،پیروں میں دھول اور چھالوں کے تیرہ سال ہوں
منتظر اداس آنکھوں کے انتظار کے تیرہ سال ہوں
جھوٹے،سچے دلاسوں کے تیرہ سال ہوں

ایسے تیرہ سال جن تیرہ سالوں میں ہر روز دل ڈوبے اور ہر روز دل تیرے،ایسے تیرہ سال جو ایسے بیِت گئے جیسے کل کی بات ہو،ایسے تیرہ سال جن تیرہ سالوں میں سمی وہیں ٹھہری رہی،وہ بڑی بھی ہوگئی اور درد اس کا دامن تھامے رُکا رہا ایسے تیرہ سال جن تیرہ سالوں میں سمی نے ایسے سفر کیے جن سفروں کا کہیں اندراج نہیں،ایسے تیرہ سال جن تیرہ سالوں میں سمی بے حساب احتجاج کر چکی پر وہ نہیں لوٹا جسے آنا چاہیے،وہ تیرہ سال جن تیرہ سالوں میں سمی نے ہزاروں الفاظ بولے پر وہ الفاظ ان کانوں تک نہیں پہنچ پائے جو کان سنیں،روئیں،پکاریں اور کہہ اُٹھیں ”یہ تو میری سمی ہے“

وہ تیرہ سال جن تیرہ سالوں میں سمی کے سفر میں کئی جو تے پھٹے،پر درد وہیں کا وہیں رہا
وہ تیرہ سال جن تیرہ سالوں میں دورانِ سفر،سمی کی مانگ کئی بار دھول آلود ہوئی پر درد دفن نہیں ہوا
وہ تیرہ سال جن تیرہ سالوں میں کئی بار سورج طلوع ہوا اور کئی بار غروب ہوا
پر وہ نہیں ملا جس کے لیے لطیف نے کہا تھا کہ
”آؤن نہ گڈیس پرین ء کھے
تون!تھو لھین سج؟“
”میں تو محبوب سے نہیں مل پائی
اور سورج!تم ڈوب رہے ہو؟“
وہ تیرہ سال جن تیرہ سالوں میں سمی نے ایک دو نہیں پر ہزاروں بار بابا کو یاد کیا ہے
وہ تیرہ سال جن تیرہ سالوں میں ایک،دو بار نہیں سیکڑوں بار وہ خواب میں آیا اور ہر بار کہا
”میں لوٹ آؤن گا!“
اور ان خوابوں کے بعد ہر بار سمی روئی ہے اور چاند نے اپنی آنکھیں ڈھانپ لی ہیں کہ ایک بیٹی درد میں بابا کو رو رہی ہے
ان تیرہ سالوں میں ایک،دو بار نہیں ہزاروں آنسو سمی کی آنکھوں سے گرے اور آستینوں میں جذب ہو گئے
نہ میں نے دیکھے
نہ تم نے دیکھے
نہ بلوچ دھرتی نے دیکھے
نہ بلوچ سرداروں اور لیڈروں نے دیکھے
بس چاند نے دیکھے۔۔۔۔۔۔
ان تیرہ سالوں میں سمی نے ایک بار بھی گھر کا در بند نہیں کیا کہ کہیں بند دروازہ دیکھ کر بابا نہ لوٹ جائے
اور ہر بار درہوا پر جھولتا ہی رہا ہے ایسے جس کے لیے حسن درس نے کہا تھا کہ
”گھر تہ ستو آ بھاتین سان بھاکرین
اے کھڑکندڑ در!
چھو بھلا سُمھین نتھو؟“
”گھر تو اپنوں کو اپنی بہانوں میں بھر کر سو گیا
اے کھڑ کھڑ کرتے در!تم کیوں سوتے نہیں!“
جس گھر میں درد ٹھہر جائے اس گھر کے در بھی نہیں سوتے،تو ڈاکٹر دین محمد کے گھر کا در کیسے سوئے جب اس گھر کی بچیاں نہیں سوتیں؟!
تو سمی اپنے ساتھ تیرہ سال کا درد لیے پھر رہی ہے،وہ درد اب سمی کی بانہوں میں جوان ہو رہا ہے اور ہم جانتے ہی نہیں کہ درد کیا ہوتا ہے؟
تیرہ سال!تیرہ سال کیا ہو تے ہیں ؟
تیرہ سالوں میں کئی بارشیں برسیں،کئی پھول کھلے اور مر جھا گئے،سفید برف کے گالوں نے شال کی گلیوں کو ڈھانپ لیا،کئی گرمیاں آئیں اور چلی گئیں،جوان عورتیں بوڑھی ہوئیں اور کنواری ماؤں نے بچے جنیں اور وہ ان بچوں سے محبوب کے جیسے محبت کرنے لگیں۔دھرتی نئے پھولوں سے ڈھک گئی اور خزاں نے ان پھولوں کو جھاڑ دیا۔کئی عیدیں آئیں،کئی ماتم برپا ہوئے،کئی دلوں میں محبت کی آگ لگی اور وہ دل دیوانے ہوئے۔پرانے درخت تھک کر گر گئے اور نئے درخت جوان ہو کر سایا دینے لگے،ان تیرہ سالوں میں دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی
اگر کچھ نہیں بدلا تو سمی کے شب و روز نہیں بدلے
وہ 28جون2009کو بھی مسافر تھی اور اپنے بابا کے لیے احتجاج کر رہی تھی اور اسے تلاش رہی تھی
وہ آج بھی اپنے بابا کو تلاش رہی ہے اور اس کی بازیابی کے لیے احتجاج کر رہی ہے
تو سمی کی زندگی میں کیا بدلا ہے؟سمی کی زندگی تو درد کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے،وہ بڑی تو ہوگئی ہے پر بدلا تو کچھ بھی نہیں۔
انتظار بھی وہی
درد بھی وہی
آنکھیں بھی وہی
آنسو بھی وہی
مانگ بھی وہی
دھول بھی وہی
پاؤں بھی وہی
سفر در سفر بھی وہی
تصوریں بھی وہی
بینر بھی وہی
مٹتے الفاظ بھی وہی
نام“ڈاکٹر دین محمد بلوچ!“ بھی وہی
تو پھر کیا بدلا ہے؟
ان تیرہ سالوں میں سب کچھ بدل گیا ہے
لوگ بھی
دھرتی بھی
سب کچھ
اگر نہیں بدلا تو سمی کا درد نہیں بدلا
”بات یہ ہے لوگ بدل گئے ہیں
ظلم یہ ہے کہ وہ مانتے بھی نہیں!“


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں