پاکستان: چینی بجلی گھروں کا واجبات کی عدم ادائیگی کی صورت میں بندش کا انتباہ

196

پاکستان میں کام کرنے والی 2 درجن سے زائد چینی فرمز نے متنبہ کیا ہے کہ 3 کھرب روپے سے زائد کے واجبات کی پیشگی ادائیگی نہ کی گئی تو وہ رواں ماہ اپنے بجلی گھر بند کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت توانائی، مواصلات، ریلوے سمیت دیگر مختلف شعبوں میں کام کرنے والی 30 سے زائد چینی کمپنیوں کے ساتھ وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کا یہ خصوصی موضوع تھا۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں چینی فرمز کی جانب سے شکایات کی بہتات تھی، جن میں چینی ایگزیکٹوز کے لیے پیچیدہ ویزا طریقہ کار اور ٹیکس سمیت اسی طرح کی دیگر چیزیں شامل تھیں، تاہم رابطے کی کوششوں کا تاخیر سے جواب دینے پر پاکستان کی جانب سے بھی جوابی شکایات کا اظہار کیا گیا۔

چین کے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے تقریباً 25 نمائندوں نے باری باری اپنی رائے کا اظہار کیا اور اپنے واجبات کے بارے میں شکایت کی اور متنبہ کیا کہ پیشگی ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں وہ چند روز میں کام بند کر دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’حکام موسم گرما کی بڑھتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ان پر زیادہ سے زیادہ پیداوار بڑھانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں، لیکن سنگین لیکویڈیٹی مسائل کے پیش نظر ہمارے لیے یہ ناممکن ہے‘۔

انہوں نے شکایت کی کہ ایندھن، خاص طور پر کوئلے کی قیمتوں میں 3 سے 4 گنا اضافہ ہوا ہے جس کا مطلب ہے کہ انہیں ایندھن کے انتظامات کرنے کے لیے کم از کم 3 سے 4 گنا زیادہ لیکویڈیٹی دی جانی چاہیے۔

کوئلہ پیدا کرنے والی فرمز میں سے ایک نے بتایا کہ کوئلے کے کم ذخائر کی وجہ سے وہ نصف صلاحیت پر کام کر رہے ہیں لیکن حکام کی جانب سے پیداوار بڑھانے کے لیے دباؤ کے سبب ایندھن کا ذخیرہ چند روز میں ختم ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حملوں کے بعد سی پیک مین پورٹ گوادر سے کراچی منتقل کرنے کا انکشاف

ان میں سے کچھ کا کہنا تھا کہ ٹیکس حکام نے ایسے وقت میں زیادہ شرحوں پر ٹیکس لگانا شروع کردیا ہے جب پہلے سے فراہم کردہ بجلی کی ادائیگیاں نہیں ہو رہیں اور وہ کورونا وبا کی وجہ سے مالی لحاظ سے کمزور ہو چکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے واجبات کی خودکار ادائیگی کے لیے ریوالونگ فنڈ کے کنٹریکٹ کے تقاضے اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران پچھلی حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں کو بھی پورا نہیں کیا گیا۔

احسن اقبال نے یقین دہانی کروائی کہ وزیر اعظم نے پہلے ہی صورتحال کا نوٹس لے لیا ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ انہیں مکمل صورتحال سے آگاہ کریں اور فوری ادائیگی کے لیے انتظامات کریں، انہوں نے وعدہ کیا کہ رواں ماہ کے اندر ان کی مالی مشکلات کو دور کر دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک پراجیکٹ ابتک کاغذوں میں ہے، زمین پر کوئی ترقی کے آثار نہیں – سردار اختر مینگل

چینی فرمز کی جانب سے قابل تجدید توانائی کی پالیسی کے آئندہ مسودے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا جس کے لیے بین الاقوامی مسابقتی بولی کی ضرورت ہے۔

اجلاس میں شریک نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ چینی آئی پی پیز کو بھی اپنے معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے، انہوں نے شکایت کی کہ ان کی جانب سے چینی فرمز کو لکھے گئے خطوط کا طویل عرصے تک جواب نہیں دیا گیا، انہوں نے واضح کیا کہ جب تک نیپرا کے تقاضوں پر توجہ نہیں دی جاتی اس وقت تک کچھ مسائل حل طلب رہیں گے۔

سکھر-ملتان موٹر وے کے ٹھیکیداروں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کی جانب سے عدم ادائیگیوں کی شکایت بھی کی اور احتجاج کیا کہ ان کی کارکردگی کے اعتراف میں چینی حکومت کی جانب سے انہیں اے کلاس ایوارڈ سے نوازے جانے کے باوجود پاکستان میں سابق حکومت کی جانب سے ان پر تنقید کی گئی۔

ایک ایگزیکٹیو کی جانب سے گزشتہ حکومت کے دوران کام کی ادائیگی کے بغیر کرپشن کے الزامات لگائے جانے کی شکایت کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ سیکریٹری مواصلات نے ادائیگی کے مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ یہ سیشن 3 گھنٹے سے زائد جاری رہا جس میں چینی سرمایہ کاروں نے وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی کو عہدہ سنبھالنے کے بعد براہ راست مذاکرات کے اقدامات کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ سی پیک منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لیے تمام مسائل حل کر لیے جائیں گے جو کہ 3 سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ وفاقی وزیر نے انہیں یقین دلایا کہ مخلوط حکومت سی پیک کی رفتار کو تیز کرے گی جیسا کہ اسے 18-2013 کے دوران کیا گیا تھا اور متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ وہ مسائل کے حل کے بارے میں جلد از جلد تفصیلی رپورٹ پیش کریں تاکہ ان کے خدشات کو فوری طور پر دور کیا جاسکے۔