پاکستان سے مذاکرات کےلئے دباؤ، افغانستان میں ٹی ٹی پی کے متعدد رہنماء گرفتار

698

افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد سے پاکستانی حکام بالخصوص فوج اور آئی ایس آئی کی جانب سے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف عملی کارروائی کی جائے، تاہم بار بار کے مطالبے کے باوجود جب ٹی ٹی پی کے خلاف کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا، تب پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ہوئی جس کے بعد سے طالبان نے ٹی ٹی پی کو مذاکرات کے لئے آمادہ کیا۔

ٹی ٹی پی کی جانب پاکستان سے مذاکرات کے پہلے دور میں طالبان کے کہنے پر یک طرفہ ایک ماہ کی جنگ بندی کی گئی، تاہم دوران جنگ بندی پاکستان آرمی اور خفیہ اداروں کا ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن جاری رہا۔

اب جبکہ گذشتہ ماہ خوست و دیگر علاقوں میں پاکستان فضائیہ کے طیاروں نے تحریک طالبان پاکستان کے اہل خانہ و مہاجرت کی زندگی گزارنے والے افراد کو بمباری میں نشانہ بنانا جس کے نتیجے میں خواتین و بچوں سمیت درجنوں افراد جانبحق ہوئے، کے بعد سے ایک مرتبہ پھر افغان طالبان نے ٹی ٹی پی پہ پاکستان سے مذاکرات کےلئے دباؤ ڈالنا شروع کیا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کے ذرائع کے مطابق افغان طالبان کسی بھی صورت یہی چاہتے ہیں کہ پاکستان سے امن معاہدہ کیا جائے، چاہے وہ بہت ہی کمزور و ناقص شرائط کی بنیاد پہ ہی کیوں نہ ہو لیکن ٹی ٹی پی جب افغان طالبان کے دباؤ کو خاطر میں نہ لایا تو افغانستان کے متعدد علاقوں سے اس وقت تک 16 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ٹی ٹی پی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاکستان سے مذاکرات کی خاطر کندھار اور برمل ضلع سے ہمارے 16 افراد کو گرفتار کیا ہے ۔

خیال رہے کہ ٹی ٹی پی نے عید الفطر کے موقع پر دس روزہ یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا جس میں مزید پانچ دن کا اضافہ اس وقت کیا گیا جب کابل میں قبائلی علاقوں کے معتبرین و پاکستانی حکام سے مذاکرات ہوئے ۔

ٹی ٹی پی کے ایک مرکزی رہنماء نے یہ اقرار کیا کہ اس دفعہ کے مذاکرات میں افغان طالبان بالخصوص حقانی کا رویہ یکسر مختلف اور جھکاؤ پاکستان کی جانب تھا ۔

تحریک طالبان پاکستان کے رہنماء کے مطابق وہ مذاکرات کو جاری رکھیں گے لیکن کمزور شرائط پہ اور افغان طالبان کی دباؤ پہ کسی صورت نہیں آئیں ، بقول ٹی ٹی پی رہنماء اگر مذاکرات میں تحریک طالبان کو فائدہ رہا تو مذاکرات آگے لے جائیں گے، تاہم دوسری صورت جنگ جاری رہے گا۔