قومی حقوق کی پاداش میں بلوچوں کو جبری لاپتہ کیا جارہا ہے – ماما قدیر بلوچ

126

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا بھوک ہڑتالی کمیپ آج 4645 دن جاری رہا –

اس موقع پر بی ایس اُو کے جوائنٹ سیکرٹری عاطف بلوچ، پاکستان یوتھ مومنٹ کے صدرملک محمد اسلم بازئی اور دیگر نے کمیپ آکر اظہار یکجتی کی-

تنظیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور المیوں کا تسلسل ہر آنے والے دن کے ساتھ شدت اختیار کر رہا ہے جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ یہاں نہ تو بلوچ خواتین کو باوقار طور پر زندہ رہنے کا حق ہے اور نہ ہی بنیادی انسانی حقوق حاصل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ نسل کشی جس کا انحصار ریاستی طاقت کے بے مہار سفاکانہ استعمال پر ہے اس بلوچ نسل کشی میں خواتین کی جبری گمشدگی اور وسیع پیمانے پر فوجی کاراوائیوں کے علاوہ بلوچ قومی حقوق کے لے بلند ہونے والی ہر آواز کو خاموش کرنے کے لئے ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگی، مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی نمایاں ہیں-

اُنہوں نے مزید کہا کہ جبری لاپتہ بلوچوں کی عدم بازیابی کا مسئلہ انتہائی نازک صورت اختیار کر چکا ہے۔ ان جبری لاپتہ بلوچوں کا جرم یہ ہے کہ یہ بلوچ کی حق کے لیے پرامن جمہوری انداز میں آواز بلند کررہے ہیں جو حکمرانوں کے جمہوریت کے دعوؤں اور مسلمہ جمہوری قوانین ‘ اصولوں کے عین مطابق ہے مگر پاکستانی بالادست قوتوں کے نزدیک کیے گئے جمہوری دعوے اور اصول بلوچ قوم کے لیے نہیں بنائے گئے اگر چہ بلوچ قوم پرست حکومت لاہور اسلام آباد کی نوآبادیاتی قوتوں کے اپنے گماشتہ اور کٹھ پتلی وجود کو بلوچستان میں جمہوریت کے نمونے کے طور پر پیش کررہی جبکہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ یہاں بلوچ قوم کے لیے بولنے پر پابندی سوچنے پر تغریریں اور اپنے ضمیر کے مطابق زندہ رہنے کی سزا گردن زنی ہے۔