جامعہ پنجاب میں بلوچ اور پشتون طلباء پر حملہ، متعدد زخمی

161

گذشتہ روز پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں مبینہ طور پر ایک مذہبی جماعت کے طلباء تنظیم کے ارکان نے بلوچ و پشتون طالب علموں پہ دھاوا بول کر کئی طالب علموں کو زخمی کردیا، بعدازاں پولیس نے ہاسٹل میں چھاپہ مارکر بلوچ و پشتون طالب علموں کی گرفتاری شروع کردی۔

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل لاہور کے ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج جمعیت کے غنڈوں نے پولیس اور انتظامیہ کی موجودگی میں ہمارے طلبہ پر فائرنگ کی، بدترین تشدد کی اور کئی طلبہ کو زخمی کرکے وہاں سے فرار ہو گئے۔ جمعیت کی فراری کے بعد انتظامیہ کی سرپرستی میں پولیس نے بلوچ، پشتون طلبہ پر لاٹھی چارج کیا اور ہاسٹلوں و مختلف مقامات سے طلبہ کو گرفتار کیا۔

بی ایس سی لاہور نے الزام عائد کیا ہے کہ جمعیت کی غنڈوں پر انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے تمام گرفتار طلبہ کو رہا کیا جائے اور جامعہ میں بدامنی پھیلانے پر شرپسند عناصر جمعیت کے غنڈوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایس سی لاہور، کی جانب سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ بلوچ طلبہ کی گرفتاریوں کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے ۔بلوچ طلبہ کی مختلف مقام پر پروفائلنگ کی جا رہی ہے اور ان کو ہاسٹل جامعات اور تمام حاضر مقامات سے غیر قانونی طور پر اٹھایا جارہا ہے۔ بلوچ طلبہ کو پہلے سے ہی پنجاب اور وفاق میں مختلف حربے استعمال کرکے ہراساں کیا جارہا ہے، جس کا واضح معنی یہ ہے کہ بلوچ طلبہ کو تعلیم سے دور رکھنے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ طلبہ کی پروفاہلنگ کی کھڑی میں حال ہی میں ایرڈ یونیورسٹی اسلام آباد کے طالب علم فیروز بلوچ کو جبری طور پہ لاپتہ کیا گیا جس کا تاحال کوئی پتہ نہیں ہے۔

بلوچ سٹوڈنٹس کونسل کے ترجمان نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ جتنے بلوچ اور پشتون طلبہ گرفتار ہوئے ہیں ان سب کو جلد از جلد بازیاب کیا جائے اور جماعتی غنڈوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ ہم تمام انسانی حقوق کے علمبرداروں، سیاسی و سماجی رہنماؤں، طلبہ تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچ اور پشتون طلبہ کی آواز بنکر تمام طلبہ کی رہائی میں اپنا کردار ادا کرے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں جامعہ پنجاب میں بلوچ اور پشتون طالبعلموں پر جمیعت کے حملے اور بعد ازاں گرفتاریاں صوبہ پنجاب میں جاری بلوچ و پشتون طالبعلموں کے ساتھ متعصب رویے کے تسلسل کی کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز پنجاب یونیورسٹی میں جمیعت نے ایک بار پھر غنڈہ گردی کا تسلسل اپناتے ہوئے پشتون و بلوچ طالبعلموں کو تشدد کا شکار بنایا اور نہتے طالبعلموں پر فائرنگ بھی کی گئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور پولیس کی موجودگی کے باوجود طالبعلموں کو جہاں عتاب کا شکار بنایا گیا وہیں ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی ہے۔ بعدازاں پولیس نے جبر کا شکار بنے بلوچ و پشتون طالبعلموں کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے سلاخوں کے نظر کردیا جو کہ متعصب رویے کی واضح دلیل ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی بلوچ طالبعلموں کو پنجاب یونیورسٹی سمیت دیگر جامعات میں ہراسانی اور پروفائلنگ جیسے غیر قانونی اور غیر آئینی عمل کا مرتکب ٹھرایا گیا۔ آج ایک بار پھر جمیعت کی غنڈہ گردی کو جواز بنا کر جہاں طالبعلموں کو ہراساں کیا گیا وہیں پروفائلنگ کی بنیادوں پر ہاسٹلوں میں چھاپے مارے گئے اور درجنوں طالبعلموں کو گرفتار کیا گیا۔ پنجاب کے جامعات میں اس طرح کا متعصبانہ رویہ نہایت ہی تشویشناک ہے۔اپنے بیان کے آخر میں انھوں نے کہا کہ ہم حکومت وقت سے اپیل کرتے ہیں کہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں زیر تعلیم بلوچ و پشتون طالبعلموں کی حفاظت یقینی بنائی جائے جامعہ پنجاب میں مسلسل متعصب رویوں کی پروان پر یونیورسٹی انتظامیہ کو جوابدہ کی جائے۔