ایکس کیڈر کا چلا ہوا کارتوس ۔ ودُود اَبدُل

219

ایکس کیڈر کا چلا ہوا کارتوس

ودُود اَبدُل

دی بلوچستان پوسٹ

کبھی کبھار سیاسی و ادبی حلقوں میں بلوچ طلباء سیاست، خصوصاً بی ایس او کی سیاسی شکست و ریخت اور ماضی کی غیر سنجیدگیوں پر بات ہوتی ہے. زمانہء پارینہ کے کچھ تھکے ہارے، سیاست سے دستبردار، ماضی کے گنہگار، نام نہاد اسٹوڈنٹ ایکس کیڈر، جو کہ اب گلے شکوے اور ماضی میں ہوئے کمزوریوں کو یاد کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے.
“جو کچھ نہیں کرتے وہ کمال کرتے ہیں”

آجکل یہی سوال زیرِ بحث ہے کہ کیا بلوچ سیاست کے بدلتے ڈائنامکس اور خطے میں سر اٹھانے والے حالیہ دگر گوں حالات میں انکا کوئی کردار بن سکتا ہے؟ انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی پائمالی کے خلاف اٹھنے والی آوازوں اور توانا سرگرمیوں میں انکے مقام کا تعین ہوسکتا ہے؟ لگتا تو نہیں… یہ وہ لوگ ہیں جو بی ایس او کے درمیانی دنوں کی نرسری کی پود ہیں. یہ بلوچ طلباء سیاست کے بگڑے شہزادے ہیں. جب کبھی بھی ان کے ساتھ یا انکے دور کے بلوچ طلباء سیاست میں قربت رکھنے والے کچھ کامریڈوں سے گپ شپ ہوتی ہے تو اُن کا موضوعِ بحث بلوچ سیاست میں ایک نظریاتی اور جرات مند لیڈر شپ کے نہ ہونے اور سیاسی یکجہتی کے فقدان پر ہے. بقولِ ان ایکس کیڈر کے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انہیں میں سے ایک نظریاتی لیڈر ابھر کر سامنے آتا اور قومی سیاست کی درست سمت کا تعین کرتا، نچلی سطح پر کام کرکے سماج کے ہر طبقے کو ساتھ لیکر چلتا، مگر یہ کسی طور ممکن دکھائی نہیں دیتا. کیونکہ یہ یا تو کافی عرصے سے بلوچ سیاست سے کٹ کر آئسولیشن میں رہے یا ایسی جماعتوں سے نتھی تھے کہ جنکا بلوچ کے معاملات پر ایک واضح بیانیہ نہیں ہے.

حیرت کی بات یہ کہ ماضی کے سیاسی سرکلوں سے فیض یاب ہونے والے یہ غیر فعال کارکن اپنی آنکھوں سے بلوچ سیاست میں ہر قسم کی سیاسی بے حرمتی کو دیکھ کر بھی گُنگ رہے ہیں. ان میں سے اکثر کسی نہ کسی طرح سے بلوچستان کی بڑی بڑی تعلیمی اداروں کے زمانے سے بلوچ طلباء کی رومانوی سیاست کے ساتھ وابستگی کے دعوے دار ہیں. ان کے دعووں سے واضح طور پر یہ عیاں ہے کہ وہ اُس وقت کی سیاست میں کافی حد تک سیاسی ڈھانچے کی تخریبی کاموں میں کردار نبھاتے رہے. انہوں نے اپنی نادانیوں سے ایک ایسی سیاست کو پروان چڑھانے میں مدد کی جو آج کے بدلتے حالات میں کسی طور بلوچ کی نمائندہ سیاست نہیں مانا جاتا. انکی یادداشتوں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بلوچ طلباء سیاست میں جو لوگ 1998 سے 2013 کے درمیان شامل ہوئے اور کسی نہ کسی طرح پائیدان چڑھ کر کیڈر کی بلندیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، انکی ایک بڑی تعداد نے اس وقت بی این پی اور نیشنل پارٹی کے خرکارے کے طور پر کام کرنے کو ترجیح دی. کچھ تو صرف اس لئے بلوچ طلباء سیاست میں آئے کہ وہ بلوچستان یونیورسٹی میں ایک نمایاں حیثیت کے ساتھ خود کو منوانے کے بعد دوسرے طلباء میں کماش اور چئیرمین جیسے القابات سے نوازے جائیں. یا پھر یونیورسٹی انتظامیہ کی غلط پالیسیوں پر یا اپنے مخالف طالب علموں کی کمزوریوں پر بلیک میلنگ کرکے کچھ سہولیات اور مراعات حاصل کرسکیں.

ان میں سے الگ کچھ لوگ ایسے تھے جو سیاست کے اندرونی سازشوں سے آگاہ تھے، سازشی داؤ پیچ سے واقفیت رکھتے تھے مگر پھر بھی خاموش رہے. ایک اور سیاسی قبیل ان لوگوں کی تھی جو بلوچ کی سیاسی اور حساس معاملات کو بخوبی سمجھتے تھے اور اس میں ایک نئی ہلچل لانے کے حق میں تھے. اسی طبقہ فکر کے کچھ کارکن آج بھی بلوچ قومی سوال پر سوالات اُٹھانے پر تلے ہوئے ہیں. لیکن کچھ دوسرے وہ تھے جو مہم جوئی کے قائل تھے، بلوچ کی سیاسی شناخت کو لسانی بنیادوں پر دوسری زبانوں کے طلباء تنظیموں کے ساتھ گتھم گھتا ہونے اور ہنگامہ آرائی کی زد میں لاکر خوش ہوئے اور اپنی انہی ہنگامہ آرائیوں کو سبوتاژ کا نام دیکر اصطلاحات سے کھیلتے رہے. بجائے اس کے کہ وہ بلوچ پشتون مشترکہ جغرافیائی نسبت کو ایک سیاسی مفاہمت کے طور پر استعمال کرکے فائدہ اٹھاتے، انکو اپنے بد ترین حریف کے طور پر پیش کرنے میں جُت گئے. آج تک بلوچ اور پشتونوں میں ماضی کی کچھ کدورتیں باقی ہیں. جو مہم جوئی کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں لگ گئے، انہی میں سے کچھ بعد میں بلوچ اور پشتون سیاست کے مرکزی دھارے کی نام نہاد قوم پرست جماعتوں کے بغل بچہ تنظیموں کے نمائندوں کے طور پر ابھر کر سامنے آئے اور کافی سرگرم رہے.

انہوں نے کماش اور مشر کے القابات بھی پائے. بلوچ طلباء سیاست کا یہ تیسرا دور اپنے ابتدائی دنوں سے اندرونِ خانہ قیادت کے حصول کی رسّا کشی اور اس سے کٹ کر بننے والی سیاسی جماعتوں کی بے جا مداخلت سے دھڑے بندیوں کا شکار رہی. انہی لوگوں نے مین اسٹریم کی نام نہاد قومی جماعتوں کے طلبا ایجنٹ کے طور پر اپنا کردار نبھایا۔ رہی سہی کسر اسّی اور نوے کے درمیانی دور کے کیڈروں نے مین اسٹریم پالیٹکس میں اپنی جگہ بنانے کے نام پر بی ایس او کے مزید حصے بخرے کرکے پوری کی.

بلوچ سیاست میں بی ایس او ایک سیاسی نرسری کے طور پر اپنی حیثیت منوانے میں کافی حد تک کامیاب بھی رہی مگر اس میں پارلیمانی سیاست کے ذریعے حقوق حاصل کرنے والی سازشی مفروضے نے جگہ بنانی شروع کی. اس مفروضے کو ایک پاپولر آواز بنانے کیلئے جن جن لوگوں نے ساجھے داری کی وہ اسی ایکس کیڈر ہی میں سے تھے۔انہوں نے اگے چل کر بلوچ طلباء سیاست کو مزید پیچیدگی سے دوچار کیا. ان میں سے ہر ایک نے اپنی انا اور ذاتی مفادات کے تحفظ کی خاطر اپنی اپنی راہ لی اور آج کے طلبا سیاست کو گنجلک بنا دیا۔ خود کو طلباء سیاست کا پختہ کارکن سمجھنے والوں نے بلوچ طلباء سیاست کے قلعے کو ملیامیٹ کرکے اپنی انا کو تسکین دی. افسوس اس بات کا ہے کہ یہی لوگ ماضی میں ہوئے سیاسی دھڑا بندیوں میں ملوث رہے مگر آجکل سیمیناروں اور مباحث میں بڑے فخر سے بلوچ طلباء سیاست کی تباہی کی کارستانیاں سناتے پھرتے ہیں اور بی ایس او کے سابقہ کارکن ہونے کا ڈھول پیٹتے رہتے ہیں. اب تو حد ہو گئی ہے، یہ ایکس کیڈر کھُلے میں قومی سوال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر واضح اور دو ٹوک بات نہیں کرتے، مگر بند دروازوں کے پیچھے ان عناصر سے مفاہمت کی کوششوں میں ہیں کہ جنکی وجہ سے یہ خود اپنے حقیقی سیاسی مقام سے محروم رہے اور بلوچ سوال کئی بار ڈیریل ہوتے ہوتے رہ گیا. اب انہی لوگوں کی نئی صف بندی کی جا رہی ہے. لگتا تو یہی کہ بلوچ قومی سیاست کے ان اَن فٹ لوگوں کو آج کی نئی نسل کی واضح اور سیدھی موقف کو بگاڑنے کیلئے میدان میں اتارے جانے کی کوشش ہو رہی ہے. لگتا تو نہیں کہ یہ تھکے ہارے ماضی کی کنفیوژنز کے شکار، طفیلی ذہن کے مالک، آج کی کلئیر اور وائبرینٹ سیاسی دھارے میں شامل ہو سکیں گے. چلے ہوئے کارتوس پر بھروسہ کرنا کسی حماقت سے کم نہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں