نیمروز: پاکستان و افغان فورسز کے مابین جھڑپیں، حالات کشیدہ

1926

افغانستان کے بلوچ اکثریتی صوبے نیمروز میں ڈیورنڈ لائن پر افغان علاقے میں گھسنے والی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ سے پاکستانی فوج کا ایک اعلیٰ آفیسر زخمی ہوا ہے۔

پاکستان اور افغانستان حکام سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب پاکستانی فوج کی 41ویں ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل سلمان معین چند دیگر افسران کے ہمراہ ڈیورنڈ لائن کا دورہ کررہے تھے۔

جب ان کی ہیلی کاپٹر افغانستان کے علاقے کلی ذاکر کے حدود میں داخل ہوئی تو نامعلوم سمت سے ہیلی کاپٹر پر بڑے ہتھیار سے حملہ کیا گیا جس کی گولی ہیلی کاپٹر کے سامنے والے شیشے سے آرپار ہوئی۔

ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں میجر جنرل سلمان معین زخمی ہوئے ہیں جس کی تصدیق ایک وٹس ایپ وائس میسج سے بھی ہوئی جس میں پاکستانی فوج کا ایک آفیسر افغان طالبان کو ذمہ داروں کی حوالگی اور کلی ذاکر کو چوبیس گھنٹوں میں خالی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو وہ زور آزمائی کریں گے جس کے ذمہ دار افغان طالبان ہوں گے۔

اس حملے میں ہیلی کاپٹر کو نقصان پہنچنے کے بعد اسے اتار دیا گیا تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ میجرل جنرل سلمان معین گولی لگنے سے زخمی ہوئے یا انہیں شیشے کے ٹکڑے لگے ہیں۔

دوسری جانب اس واقعے کے بعد چاغی سے متصل ڈیورنڈ لائن پر کشیدگی پائی جارہی ہے۔

افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کی امارت اسلامی کسی ممکنہ پاکستانی حملے سے نمٹنے کی تیاری کررہی ہے۔

نیمروز سے ایک شہری کی بھیجے گئے ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ افغان سیکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد کشیدگی والے علاقے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہاں پاکستان میں بھی فوجی دستوں کی بڑی تعداد کوئٹہ سے ڈیورنڈ لائن کے کشیدگی والے علاقے کی جانب روانہ کردی گئی ہے۔