نوکنڈی، بلوچ ڈرائیوروں کا قتل: کوئٹہ و حب میں مظاہرے

390

اتوار کے روز سانحہ نوکنڈی کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے حب ریور روڈ پر رئیس گوٹھ کے مقام پر احتجاج کیا گیا –

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں مرد اور خواتین نے مین آرسی ڈی شاہراہ پر بیٹھ کر دھرنا دیا – جس کے سبب بلوچستان کا کراچی سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا اور کئی مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں –

اس موقع پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نوکنڈی واقعہ کربلا کے واقع سے مختلف نہیں، کیونکہ وہاں بھی ظالم نے مظلوم لوگوں پر پانی بند کیا اور یہاں بھی رمضان کے بابرکت مہینے میں جہاں اللہ کی جانب سے ہمیں صبر، رحم اور صدقے کی تلقین ہے وہیں ایف سی فورسز اہلکاروں نے 200 گاڑیوں میں مٹی ڈال کر نہ فقط گاڑیاں جام کیں بلکہ اُن مزدوروں سے بھی کہا کہ پیدل جاؤ۔ تپتی دھوپ اور صحرا، نہ جانے کتنے دن وہ مظلوم پیدل سفر کرتے کرتے زندگی کے سفر سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (کراچی) اس واقع کو سراسر قتل کرار دیتی ہے۔ کسی کو بھی جان بوجھ کر موت کی جانب دھکیلنا قتل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ اس بات کا نوٹس لیں اور جو قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں اُن پر بھی قانون نافذ کریں۔

وہاں بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں  پریس کلب کے سامنے ایک ریلی نکالی گئی۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بلوچستان میں نسل کشی کے خلاف نعرے درج تھے-

ریلی کے شرکاء عدالت روڈ اور جناح روڈ سے ہوتے ہوئے کوئٹہ پریس کلب تک جا پہنچے اور وہیں بیٹھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا –

اس موقع پر سیاسی کارکن بیبگر بلوچ، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے سی سی ممبر اشفاق بلوچ اور ڈسٹرکٹ چاغی سے تعلق رکھنے والی طالبہ بینظیر بلوچ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دنوں سرحدی علاقے میں سیکورٹی فورسز نے محنت مزدوری کرنے والے تقریباً 200 بلوچ ڈرائیورز کی گاڑیوں کو پکڑ کر ناکارہ کردیا اور ڈرائیوروں کو شدید پیاس اور بھوک کی حالت میں چھوڑدیا جو تڑپ تڑپ کر آخرکار بے بسی کی حالت میں شہید ہوگئے۔

انکا کہنا تھا کہ مصدقہ ذرائع کے مطابق ابھی تک تین مزدور بھوک و پیاس کے باعث اپنی جان کھو بیٹھے ہیں اور دیگر سینکڑوں مزدوروں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

 مظاہرین نے خطاب میں غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف بلوچستان کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا جارہا ہے اور دوسری طرف بلوچوں کی صرف لاشیں تحفے میں مل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چاغی نوکنڈی کے صحرا میں پڑے لاشیں دراصل عدلیہ، آئین اور حکمرانوں کی ضمیر کی لاشیں تھیں جو بلوچستان کی ظلم، جبر اور نسل کشی پر خاموشی برت کر تماشاہی بن چکے ہیں۔

 انہوں نے مزید کہا کہ اب ہمیں ترقی کے نام سے ڈر لگتا ہے۔ بلوچستان کو ہمیشہ ترقی کے نام پر لوٹا کیا گیا، اِسکی استحصالی کی گئی اور بدلے میں بلوچستان کو محض ظلم و جبر کی داستانیں سننے کو ملیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ترقی کے نام پر ہرگز دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ جس ریکوڈک کے نام پر بلوچستان کو 25 فیصد منافع دینے کا وعدہ کیا گیا، اسی 25 فیصد کے سلسلے میں بلوچوں کی نسل کشی کی جارہی ہے اور صوبے کو لاشیں تحائف میں دیے جارہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نوکنڈی جیسے سانحے نے کربلا جیسے واقعے کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ بلوچوں کی بدترین نسل کشی کی تسلسل کی ایک کڑی ہے جس کیلئے سیاسی مزاحمت ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہر بلوچ کو سیاسی طور پر باشعور ہونے، سیاسی مزاحمت کا راستہ اپنانے اور بلوچستان کے ہر سائل و وسائل، زبان، کلچر، شناخت اور اس کے لوگوں کی حفاظت و تحفظ کیلئے انفرادی رول ادا کرنے کی تلقین کی۔

واضح واقعے کیخلاف آج تربت میں سول سوسائٹی کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر کمپئین کا اعلان بھی کیا جاچکا ہے۔