میں نیشنل ازم پہ کاربند کیوں ہوں؟ (نواں حصہ) – مہر جان

243

میں نیشنلزم پہ کاربند کیوں ہوں؟

(نواں حصہ)
تحریر: مہر جان

دی بلوچستان پوسٹ

فلسفے کی دنیا میں لازمیت کے کئی پہلو اجاگر کیئے گئے ہیں۔ ایک پہلو جسے پہلے بیان کیا گیا کہ لازمیت میں جبر کے ٹوٹنے کے امکان کو آزادی کہا گیا دوسرا پہلو ارسطو کے فلسفہ جوھر میں پوشیدہ ہے جسے ھیگل وہاں سے اخذ کرکے تاریخی عمل میں دیکھتا ہے۔ اسی بنیاد پہ ھیگل کو تاریخیت کا فلاسفر بھی کہا گیا ہے۔ جہاں کارل پوپر جیسے دانشوروں نے شعور کے فعالی کردار کو ھیگل کے فلسفے میں نظرانداز کیا لیکن ھیگل کے جدلیاتی میتھڈ کو مدنظر رکھ کر ھیگلیئن تاریخیت میں شعور کے فعالی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی جوھر کے پنپنے میں تاریخی پہلو کو نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ تاریخی عمل میں جوھر جب پنپ رہا ہوتا ہے تو وہ دراصل اپنی آذادی کی طرف گامزن ہوتا ہے تاریخی عمل جوھر کی آشکاری کا عمل ہوتا ہے، جوں جوں وجود اپنے آپ پہ آشکار ہوتا رہتا ہے آزادی کی وسعت کا دائرہ کار وسیع تر ہوتا جاتا ہے۔ لازمیت کے اس پہلو پر شاید ہی کسی نے قلم اٹھایا ہو ہاں البتہ لازمیت کے دوسرے پہلوؤں پہ بہت سارے لکھاریوں نے طبع آزمائی کی ہے۔

لازمیت کے دوسرے پہلو میں لازمیت کو جاننا جہاں بقول ھیگل آزادی ہے اب کیا اس لازمیت کے وہی معنی ہے جسے فلسفہ تاریخیت میں میکنزم کے طور پر بیان کیا گیا ہے یا ھیگلیئن نقطہ نظر سے لازمیت میں امکانات کو مدنظر رکھنا بھی ایک الگ (جدلیاتی) امر ہے۔کیونکہ امکانات کی رد طبیعات کی سائنس میں ماہرِ طبیعات بھی نہیں کرتے چہ جائیکہ معاشرتی سائنس میں امکانات کو یکسر نظرانداز کیا جائے، ھیگلیئن منہاج میں شعور کی فعالی کردار کو مدنظر رکھ کر لازمیت میں میکانیکیت کو رد کیا جاسکتا ہے۔ جیسا کے پہلے پہل خود مارکس نے کیا تھا۔اسی طرح لوکاش وہ پہلا مارکسی فلاسفر ہے جس نے اس تضاد کو سامنے لایا۔وہ روزا لگسمبرگ و اسٹالن کے اس فکری تضاد کو بجائے محنت کشوں کے شعور کے صرف انقلابی مافیہ کیلئے سازگار مانتا ہے نہ کہ انقلابی اقدام کے ذریعے خودبخود وجودی تبدیلی تبدیلی (سوشل ازم) کو مانتا ہے۔

ھیگل کی “منطق کی سائنس”جس کو بنیاد بنا کر داس کیپیٹل لکھا گیا جسے گر لیننسٹ نقطہ نظر سے دیکھا جائے جہاں بی اینگ ، نوشن سے گذر کر اوبجیکٹیو (عقلی، علمیاتی) / حقیقی (وجودیاتی) روپ اختیار کرلیتا ہے ۔

اس پورے تاریخی عمل میں یہ پہلو زہن نشین رہے کہ لازمیت کے جاننے سے “آزادی کا مراد لینا”یہ ہے کہ وجود کے اپنے جوھر کو تاریخی عمل میں جان کر تاریخی مراحل سے گذر کر وجود کی آزادی پہ منتج ہونا ہے۔گر وہ اپنے جوھر سے بے بہرہ ہوکر کسی اور امکانی وجود میں ضم ہوتا ہےتو یہاں اپنے وجود کی شناخت جسے وحدانی شناخت کہا جاتا ہے، ختم ہوجاتی ہے۔

بہت سے پوسٹ کالونیل تھیورسٹ بطور خاص اسپیوک گرچہ اس لازمیت کے پہلو کو اخلاقیات کی بنیاد پہ حکمت عملی کے طور پر اپناتے ہیں۔لیکن میں اسے تاریخی طور پہ “لازمیت بطور حکمت عملی” کے نہیں بلکہ لازمیت جان کر مانتا ہوں۔اس پورے پس منظر میں ھیگل کا ایک جملہ (عقلی حقیقی ہے ،حقیقی عقلی ہے) جو فلاسفی آف رائٹ کی دیباچہ میں لکھا گیا اس ایک جملے کی حقیقت کو سمجھنا بہر طور بہت ضروری ہے کیونکہ اس ایک جملے پہ کئی متھس بنائی گئیں اور کالونیل ازم کیلئے راہیں تراشی گئیں جو ھیگل کے فلسفے کے ساتھ ظلم ہے ۔ھیگل شاید واحد فلاسفر ہے جس کو براہ راست پڑھنے و سمجھنے کے بجائے دوسرے مصنفین سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے اسی لیئے کالونیل ازم و فاشزم کے لیے فلسفہ ھیگل کو بطور استعارہ لیا گیا۔

ھیگل کو تاریخ کا فلاسفر اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ وہ تاریخی عمل پہ یقین رکھتا ہے، تاریخی عمل میں کسی بھی تضاد کو سمجھنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ بقول لینن کہ “تشکیل کا یہ عمل جدلیاتی ہے” جسے مابعد جدید مفکرین سمجھنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہ بجاۓ کسی تضاد کو تاریخی عمل میں جانچ پرکھ لیں وہ صرف واقعات پہ اکتفاء کرکے غیر حقیقی کو عقلی مان کر مستقبل کی جانب گامزن ہوتے ہیں اور کالونیل ازم کے راہیں کھولتے ہیں۔ آج گر کوئی ترقی پسند بھی صرف اک آدھ واقعات کو بنیاد بناکر بلوچ قومی سوال کے ساتھ کھڑا نہیں ہوتا تو وہ وہی مابعدجدیدیت کے طرز فکر کو اپنا رہا ہے تاریخی عوامل سے نا بلد وہ محکوم کو اخلاقیات کے کٹہرے میں کھڑا کرکے اپنی تشفی قلب کررہا ہوتا ہے۔

بلوچ قومی سوال یا کسی بھی سیاسی مسئلہ کو اس کی تاریخی عوامل میں سمجھنا عین جدلیاتی طریق کار ہے۔ زمین و تاریخ سے جڑی ہوئی تحاریک کو کبھی بھی زمین و تاریخ سے الگ کر کے نہیں دیکھا جاسکتا یہاں بدقسمتی سے عوام الناس تو دور کی بات بڑی بڑی جامعات میں بڑے بڑے نام جب بھی بلوچستان پہ لکھتے ہیں تو ان کا قلم ستر کی دھائی سے شروع ہوکر تہتر کے آئین سے گذر کراٹھارویں ترمیم پہ دم توڑ دیتا ہے۔ جو ایک مابعد الطبیعاتی طریق کار ہے وہ بنیادی عوامل و بنیادی تضاد کو سمجھنے سے یا تو قاصر ہیں یا پھر وہ بنیادی تضاد کو سمجھنے کے لیے تیار ہی نہیں ہے۔ لیکن یہی تضاد تاریخی عمل میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے بھلے وہ اس تضاد کو وقتی طور پہ اہمیت نہ دے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اور آگے کے مراحل میں یہ تضاد شدت اختیار کرتا جائیگا کیونکہ غلام کی مزاحمت تاریخی عمل میں کارگر ثابت ہوتی ہے اور یہی تضاد تاریخ کی حرکت کے لیے محرک قوت کا سبب بنتا ہے۔

ھیگل کی “فینامنالوجی آف اسپرٹ” نہ صرف ھیگل کے فلسفیانہ نظام کیلئے مقدمے کی حیثیت رکھتی ہے بلکہ تاریخی عمل میں شناخت کی جنگ کیلئے بھی ایک مقدمہ کی حیثیت رکھتی ہے۔جہاں حرکت فلسفہ کا خمیر ہے۔تاریخی عمل کو اگر آقا و غلام کی جنگ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ امر ذہن نشین رہے کہ آقا کھبی تبدیلی کا خواہاں نہیں ہوتا ،آقا کے نصاب سے لیکر اداروں تک اس تبدیلی کو غداری کے زمرے میں دیکھا جاتا ہے۔آقا سے تبدیلی کی امید رکھنا تاریخی عمل میں سراب کے سوا کچھ نہیں ،اس لیئے آقا سے انصاف کا مطالبہ بھی باعث عبث ہے۔یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ احتجاج کرنے اور آقا سے انصاف مانگنے میں فرق ہے۔احتجاج بہرطور پر مزاحمت کے زمرے میں آتا ہے جبکہ آقا (کالوناہزر) سے انصاف مانگنا کسی بھی طرح احتجاج کے زمرے میں نہیں آتا۔کیونکہ آقا اس تاریخی تشکیل میں آقا ہی برقرار رہنا چاہتا ہے اس کے وجود کی بنیاد ہی جبر ہے اس لیئے اسے ہر آواز سے ضرب پہنچتی ہے،جس میں غلام اپنی غلامیت کا ادراک کرکے دانائی کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔غلام اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر تاریخی عمل کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتا ہے کیونکہ غلام تبدیلی کا خواہاں ہوتا ہے۔ تاریخ کی تشکیل آقا و غلام کی جنگ کی صورت میں ترتیب پارہی ہوتی ہے، اب “ہونے کا شعور” جو کہ مزاحمت (عمل) کی بدولت پیدا ہورہا ہے نہ صرف تاریخ بنارہا ہوتا ہے بلکہ خود تاریخ بن بھی رہا ہوتا ہے، کیونکہ اپنے ہونے کی شعوری عمل سے ہی اس تاریخی تشکیل میں بقول الیگزینڈر کوجیو عمارت بھی انسان ہے ،معمار بھی انسان ہے اور اس عمارت میں استعمال ہونے والی اینٹ بھی انسان ہے۔ھیگل نے تاریخ کی درجہ بندی بھی “اپنے ہونے کی شعوری”(اجتماعی)عمل کے حوالے سے کی ہے۔کسی بھی قوم کا اجتماعی شعور (اپنے وجود کا شعوری عمل) ہی اسے تاریخ میں زندہ رکھ سکتا ہے۔بقول بابا مری”نیشنل ،نیشنلزم و انسانی تہذیب کی نشوونما قومی ماحول میں ہوتی ہے۔”وگرنہ تاریخی عمل میں کوئی بھی قوم اپنی بے شعوری و بے عملی کی وجہ سے تاریخ کے جھروکوں میں گم ہوجاتی ہے۔”

(جاری ہے…)


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں