زمین زاد، وجود کی تلاش میں ۔ اسد بلوچ

191

زمین زاد، وجود کی تلاش میں

تحریر:اسد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

زمین جب ہر چہار جانب وحشتوں کے عتاب میں ہے، گلزمین اپنے بچوں کو بھوکے شیرنی کی طرح کھا رہی ہے، ہر آہٹ، ہر لفظ، ہر قدم پر خطر اور منزل دور تلک ندار، اگر ایسے میں کچھ زمین زادے زمین کی محبت میں سرشار زمین واسیوں کی حفاظت میں اپنی جان جوکھوں میں ڈالے کھڑے رہیں تو ہمیں ایسے واسیوں کو سرجھکا پھلکیں بچھاکر ان کا ہر مقام، ہر جگہ، ہر منزل سواگت کرنی چاہیے۔
ہماری زمین پر دو عشروں سے آگ جھلا کر زمین کے بچوں کو اس آگ کا ایندھن بنایا گیا ہے۔ یہ ہماری زمین ہمارا مرقد ہے ہماری جنت بھی، ہمارے ھم عمر جوانوں نے زمین کی خاطر غیروں کے جلائے آگ میں سنت ابراہیمی کا فریضہ ادا کیا ہے۔
زمین زادے ہفتوں سے، مہینوں سے، سالوں سے اور عشروں سے بے نام ہیں، ہزاروں وجود پیوستہ خاک اور ہزاروں خاک کے اوپر گمگشتہ ہیں۔
جن کا جو بس ہے زمین واسی اپنی بساط کے مطابق زمین پر پڑے سخت ترین وقت میں اپنا فرض تاریخ کے مقدم اور مقدس مستقبل کی خاطر نبھا رہے ہیں۔
کوہ زادوں کی سرزمین میں زمین کا ایک شیدائی میرا یار میری جان میرا یار یارغار کامریڈ گلزار دوست اس آتش کدہ میں کھود پڑا اپنا وجود جلانے پر کمربستہ ہے، وہ اسی زمین کا شیدائی ہے جن کے بچوں نے مٹی کی محبت میں وہ قرض بھی ادا کیے جو ان پہ واجب بھی نہیں تھے۔
کامریڈ گلزار دوست دو دنوں سے لاپتہ بلوچستان واسیوں، آنے والے متوقع گمشدگان کی حفاظت اور سرزمین سے اپنی محبت کی خاطر اس بے وجود ریاست کے اندر تاریخ کی سمت میں عازم سفر ہے۔
وہ تاریخ کے دوسرے بڑے لانگ مارچ پر نکل پڑے ہیں جن کی ابتداء بلوچستان کے بے وجود بچوں کی خاطر اسی سالہ ماما قدیر اور دس سالہ علی حیدر نے رکھی تھی۔
گلزار دوست جن کے کردار پر منافقین نے انگلی اٹھائی، دشنام دیئے، مخالفین نے مخالفت کی، دشمنوں نے دشمنی کی مگر وہ آج تاریخ کے سفر پر ہے، وہ اپنی زمین کو اپنانے کی جنگ میں دنیا کو باور کرانے کی کوشش میں ہے کہ یہ دنیا اندھا، گونگا اور بہرا ہے۔
گلزار دوست کا مقابلہ کسی ایسے بلوچ سپوت سے نہیں کیا جاسکتا جو تاریخ کا امر کردار ہے کیونکہ یہ مقابلے کی جنگ نہیں اپنے فرض اور قرض کی ادائیگی کا احساس ہے۔
البتہ مات نسیمہ اور گھار سید بی بی کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس بلوچ فرزند کو زمین کی جنگ میں اپنا کردار اور بہتر ادا کرنے کے لیے ننگے پاؤں جنگ لڑنے کے بجائے جوتے پہننے پر راضی کیا۔
اے زمین زاد، اے ہمارے ہم عصر، اے کامریڈ ہمیں تم پر تمہاری عاشقی پر رشک ہے، ہم کمزور ہیں، ہم تم جیسے نہیں بن سکتے لیکن ہماری تمام دعائیں، تمام آرزو، تمام تمنائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ یقین ہے کہ کل یہ سرزمین تمہاری قربانیوں کا پھل دیکھے گا، زمین واسی تمہارے آبلہ پا سفر کے طفیل خوش حال مستقبل کے مالک ہوں گے۔
لہو میں بھیگے تمام موسم
گواہی دیں گے کہ تم کھڑے تھے
وفا کے رستے کا ہر مسافر
گواہی دے گا کہ تم کھڑے تھے
سحر کا سورج گواہی دے گا
کہ جب اندھیرے کی کوکھ میں سے نکلنے والے یہ سوچتے تھے
کہ کوئی جگنو نہیں بچا ہے تو تم کھڑے تھے

تمہاری آنکھوں کے طاقچوں میں جلے چراغوں کی روشنی نے
نئی منازل ہمیں دکھائیں
تمہارے چہرے کی بڑھتی جھریوں نے ولولوں کو نمود بخشی
تمہارے بھائی، تمہارے بیٹے، تمہاری بہنیں تمہاری مائیں، تمہاری مٹی کا ذرہ ذرہ گواہی دے گا
کہ تم کھڑے تھے
ہماری دھرتی کے جسم سے جب ہوس کے مارے سیاہ جونکوں کی طرح چمٹے
تو تم کھڑے تھے
تمہاری ہمت، تمہاری عظمت اور استقامت تو وہ ہمالہ ہے جس کی چوٹی تلک پہنچنا
نہ پہلے بس میں رہا کسی کے نہ آنے والے دنوں میں ہوگا
سو آنے والی تمام نسلیں گواہی دیں گی کہ تم کھڑے تھے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں