بلوچ ثقافتی دن، ابتداء اور حال ۔ دی بلوچستان پوسٹ فیچر رپورٹ

462

بلوچ ثقافتی دن، ابتداء اور حال

دی بلوچستان پوسٹ فیچر رپورٹ

تحریر: آصف بلوچ

ہرسال دو مارچ کو بلوچستان بھر میں مختلف سماجی، سیاسی اور طلبہ تنظیموں کی جانب سے بلوچ یوم ثقافت کے حوالے سے مختلف نوعیت کے پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

حسب روایت اس سال بھی بلوچستان بھر میں یوم ثقافت منایا جارہا ہے جہاں کثیر تعداد میں لوگ اس دن کو منارہے ہیں۔ بلوچستان اور بیرون ممالک میں پروگراموں میں مختلف تقاریب کا انعقاد کیا جارہا ہے جہاں کانفرنسز، سیمینار، پینل ڈسکشن، ٹیبلو، کھیلوں کے ذریعے ثقافت کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا جارہا ہے جبکہ ان تقاریب میں بُک اسٹالز خصوصی طور پر لگائے جاتے ہیں۔

دو مارچ کلچرل ڈے کا آغاز کب ہوا؟

سن 2010 میں بلوچ طلباء تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد نے اس دن کو منانے کا اعلان کیا جس کی تائید مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں نے کی۔ اسی سال بلوچستان بھر میں تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔
اسی رات جب بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تقریبات جاری تھی کہ خضدار میں رات دس بجے کے قریب جہاں لوگ بلوچی دوچاپی (رقص) میں مشغول تھے کہ اچانک تین زور دار دھماکے ہوئیں، دھماکوں کے نتیجے میں دو طالب علم سکندر بلوچ اور جنید بلوچ جانبحق جبکہ 18 کے قریب افراد زخمی ہوئے جن میں اکثریت طالب علموں کی تھی۔ ان زخمیوں میں بیبرگ بلوچ بھی شامل تھے، اس دھماکہ میں بیبرگ بلوچ کے پاوں اور ریڑھ کی ہڈی شدید متاثر ہوئے اس کے بعد بیبرگ بلوچ چلنے سے محروم ہوگئے اور اس وقت وہ ویل چیئر کے سہارے پر ہیں۔

اس رات بیبرگ بلوچ نے کیا دیکھا؟

بیبرگ بلوچ کے مطابق پروگرام بہترین ماحول میں چل رہا تھا اور ہم لوگوں نے فیصلہ کیا تھا کہ یونیورسٹی کے احاطے سے نکل کر خضدار چمروک چوک پہ جاکر وہاں پہ بلوچی دوچاپی (رقص) کرتے ہیں مگر یونیورسٹی انتظامیہ نے سیکورٹی کے پیش نظر اس کی اجازت نہیں دی۔

بیبرگ بلوچ کہتے ہیں کہ رات کو میری سربرائی میں ایک کمیٹی بنائی گئی تھی تاکہ ہم مہمانوں کو کھانا کھلائیں اور اسی کی تیاری میں تھے کہ اچانک دس بجے تین زور دار دھماکے ہوئیں، جو دستی بموں کے ذریعے کیئے گئے تھے۔

پہلا دستی بم جنید اور سکندر بلوچ کے قریب جاکر گرا جو اس دھماکے میں جانبر نہ ہوسکے جبکہ دوسرا دھماکہ ہمارے قریب ہوا جس سے میری ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی اور اس کے علاوہ متعدد افراد زخمی ہوتے ہیں جبکہ اس کے بعد افرا تفری میں تمام لوگوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔

کلچرل ڈے پروگرام رکھنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

سن دوہزار دس کے بعد خضدار کے حالت یکسر گھمبیر ہوتے گئے اِس وقت جو بلوچ قوم پرست سرکاری حمایت یافتہ گروہوں یعنی ڈیتھ اسکواڈز پہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو قتل اور لاپتہ کرنے میں براہ راست ملوث ہیں اس کی شروعات خضدار سے ہوتی ہے۔ دو مارچ کو دھماکہ کرنے کا الزام بھی انہی گروہوں پر عائد کیا جاتا ہے تاہم اس حوالے سے کوئی قانونی کاروائی تاحال سامنے نہیں آسکی ہے۔

یوم ثقافت سے قبل خضدار میں ایک ریلی پہ بھی حملہ ہوتا ہے اور وہاں سے سیاسی و طلبہ تنظیموں کے کارکنوں میں ایک خوف کا ماحول جنم لینا شروع کرتا ہے۔

بیبرگ بلوچ کا کہنا ہے کہ ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے اور اس خوف کے ماحول میں بی ایس او آزاد کے رہنماوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اس طرح کلچرل پروگرام کا انعقاد کرکے لوگوں کے دلوں سے خوف کو نکالا جاسکتا ہے، اس پروگرام میں مگر وہی ہوا جس کا ڈر لوگوں کو پہلے سے تھا۔

بیبرگ بلوچ نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ کلچر ڈے منانے کا مقصد بلوچ ثقافت کے پہلووں کو اجاگر کرنا اور اپنے زبانوں کو ایک لحاظ سے پروان چڑھانا تھا۔

اس وقت کلچرل ڈے کی مخالفت کیوں؟

بلوچ افسانہ نگار و فلم ڈائریکٹر ڈاکٹر حنیف شریف کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دو مارچ کو بلوچ کلچرل ڈے منانے سے کوئی یہ سمجھتا ہے بلوچ ثقافت کے لئے کام کیا جاتا ہے تو بہت خوب ہے اس میں کوئی برائی نہیں مگر میں کلچرل ڈے منانے کے خلاف نہیں ہوں البتہ اس کو صحیح طریقے سے منایا جائے، انٹرٹیٹمنٹ تک محدود نہ ہوں۔

ڈاکٹر حنیف کا کہنا ہے کہ اس دن کو انٹرٹیٹمنٹ کیساتھ ساتھ کچھ حاصل کرنے کیلئے بھی کام کیا جائے جیسے کہ تاریخ، کتاب بینی، بلوچی و براہوئی زبان کے لئے جدوجہد زیادہ سے زیادہ ہو اور اپنے زمین سے زیادہ قربت ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف پگھڑی باندھنے یا موسیقی سے کلچر آگے نہیں جائے گی اس دن کو جو مناتے ہیں وہ صرف یہی بتاسکتے ہیں کہ وہ کلچرل ڈے منا رہے ہیں مگر اس سے کوئی مثبت تاثر نہیں جائیگا، مثبت اور فائدہ مند ثابت کرنے کی جدوجہد ہوگی تو بہت زیادہ بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں سے ایک التجا کرنا چاونگا جو پگھڑی پہن کر دو مارچ منارہے ہیں ان سے صرف یہی کہنا چاہونگا جتنے بلوچی کتابیں، رسالے وغیرہ آتے ہیں ان کے پڑھنے والوں کی تعداد معدود کیوں ہیں، اگر کسی کو بلوچ کلچرل سے محبت ہے تو وہ جاکر کسی اکیڈمی یا لائیبریری کے ممبر ہوں اور بلوچی کے لئے کام کیا جائے تو بہتر ہے مگر آج بلوچی کے پڑھنے والوں کی تعداد معدود ہے ۔

ڈاکٹر حنیف شریف کا کہنا ہے کہ کلچرل ڈے اگر منانا ہے تو اس دن بلوچی پڑھنے اور لکھنے کے حوالے سے کچھ کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے، اگر کوئی کلچرل ڈے منانا چاہتا ہے تو اس دن وہ بلوچستان سے متعلق تئیٹر و اسٹیج ڈرامے پیش کرکے اپنے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کریں اگر اسی دن کوئی پروگرام کا انعقاد کرکے بلوچ تاریخ کے حوالے سے لوگوں کو معلومات معیا کرسکتا ہے تو زیادہ بہتر ہے۔

بیبرگ بلوچ کے مطابق اس دن کو ضرور منایا جایا مگر جو اس دن میں دکھایا جارہا ہے وہ صرف بلوچ پوشاک اور دستار کو دکھایا جارہا ہے اس میں زبان کو محفوظ رکھنے اور دیگر بلوچی ثقافت میں موجود چیزیں نظر نہیں آرہے ہیں اگر حقیقت میں حکومت بلوچ کلچرل کے حوالے سے سنجیدہ ہوتی تو وہ اسکولوں اور کالجوں میں بلوچی اور براہوئی زبانیں نصاب کا حصہ ہوتے اور اس پہ علمی سطح پہ کام کیا جاتا اور بلوچ کلچرل کو علمی سطح پہ پروموٹ کیا جاتا ناکہ صرف دو ماچ کو بلوچ پوشاک دستار پیش کرکے بلوچ کلچرل کو اتنی محدود رکھنے کی کوشش کی جاتی۔