دو فروری اور ہم ۔ واھگ رحیم

580

دو فروری اور ہم۔

تحریر: واھگ رحیم

دی بلوچستان پوسٹ

جب میں چھوٹی تھی تو میری دادی اماں مجھے اکثر قصے سنایا کرتی تھی۔ ایک دن ایک ایسا قصہ سنایا جس کی حقیقت دو فروری کی رات کو مجھ پہ عیاں ہوئی۔ وہ قصہ کچھ ایسا تھا کہ ایک بادشاہ اور اس کی بیگم بالکونی میں بیٹھ کر بارش کا نظارہ کر رہے تھے کہ اچانک ان کے کانوں میں کسی کی کے پاؤں کی آہٹ سنائی دی۔ ایسے میں بادشاہ کی بیگم نے کہا کہ یہ کون پاگل ہے جو اس طرح تیز بارش میں باہر چل رہا ہے اس وقت تو کسی چھتری یا کہ ایسی کوئی چیز نہ تھی جس سے وہ خود کو بارش سے بچا سکتا ایسے میں تو صرف گھر میں ہی بیٹھ کر خود کو بارش سے بچایا جا سکتا تھا۔ تو بادشاہ نے مسکراہ کر جواب دیا کہ بیگم یہ ایک سپائی ہوگا جو اپنی ڈیوٹی پر ہے، جسے نہ بارش کی پرواہ ہوگی نہ طوفان کی نہ آندھی کی وہ باخبر ہوکر بھی ان طوفانوں سے بےخبر ہوگا جسے بس اپنی ڈیوٹی کو ہر حال میں نبھانا ہے اور وہی فقط اپنی ڈیوٹی اور اس کے اصولوں کا پاسدار ہوگا۔

دو فروری کی رات مجھے دادی ماں کی وہ کہانی یاد آئی تو میں سوچ رہی تھی کہ وہ ڈیوٹی والا شخص محض اپنی ڈیوٹی نبھا رہا تھا اسےتو اپنی ڈیوٹی نبھانے کی ضرور تنخواہ بھی ملتی ہوگی اور شاہد اسی لیے وہ اپنی ڈیوٹی کو بڑی ذمہ داری سے نبھا رہا تھا۔ ایسے میں مجھے میرے وطن کے بے باک سپائی (سرمچاروں) کا خیال آیا کہ میرے وطن زادے تو بغیر کسی تنخواہ کے بغیر کسی معاوضہ کے اپنی ڈیوٹی (فرض) نبھارہے ہیں ان کو کیا ملتا ہوگا؟ وہ بھی کسی موسم کی پروا کئے بغیر اپنی ڈیوٹی نبھا رہے ہیں۔ وہ تو سردی، گرمی، طوفان، بارش اور برفباری ہر حال میں اپنی ڈیوٹی نبھاتے آرہے ہیں۔ وہ تو کئی کئی دنوں ہفتوں تک بھوکا پیاسہ رہ کر اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں۔

یہی سب میں سوچ ہی رہی تھی تو اچانک سے مجھے زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دی، پتہ چلا پہاڑوں کے بے باک شیر دشمن پر قہر برسانے آگئے ہیں۔ وہ وطن زادے اپنے وطن کے عشق میں دیوانوں کی طرح اپنے سروں پر کفن باندھ کر دشمن کی موت بن کر میدان میں اتر گئے ہیں۔

جی یہ دو فروری کی ہی رات تھی، جب ہم بلوچ اپنے گھروں میں بیٹھے اور ہماری حفاظت میں ہمارے آنے والے کل کو محفوظ بنانے کے لیے ہمارے وطن زادے اپنے آج کو فناہ کرنے کے لیے دشمن کے سامنے روبرو اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے تھے۔ رات کے ساڑھے آٹھ بج رہے تھے اب تک مجید بریگیڈ کے فدائین اپنی گرفت مضبوط کرکے دشمن کو دو مختلف جگہوں سے گھیر کر ان کے ظلموں کی الٹی گنتی انہیں گِنوا رہے تھے۔

دو فروری سے پہلے بھی وطن کے ہزاروں فدائین اپنے وطن کی بقاء کے لیے خود کو فناء کرچکے ہیں۔

دو فروری کی جنگ میں بیک وقت نوشکی اور پنجگور  کے ایف سی ایڈ کواٹرز پر بلوچ فدائین نے بہادری سے حملہ کر کےدشمن کے مرکز پر مضبوطی سے اپنا قبضہ جما دیا۔ نوشکی کے مرکز میں  بیس گھنٹے تک کامیابی سے نو فدائین نے سو سے زائد دشمن فوجیوں کو جہنم رسید کر کے بلوچ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ جب کہ پنجگور میں بلوچ فدائیں کی جنگ تین روز تک کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔

بلوچ جنگ آزادی کی تاریخ میں ہر وقت بلوچ فرزند  اپنی بقاء کی جنگ میں اور بلوچستان پر دشمن کی قبضے کے خلاف اپنی جان قربان کرنےلیے پیش پیش رہے ہیں۔ ہمیں اپنے وطن زادوں کی قربانیوں کی قدر کرنی ہے۔ انکی قربانی کے مقصد کو اپنا مقدر بناکر اس مقصد کو منزل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

تین دن سے چند بلوچ فدائین نے بہادری سے سات لاکھ فوج کی ہوائیاں اڑائے رکھی ہیں۔ ہمارے لیے فقط یہ تین دن ہے لیکن ان تین دنوں میں بغیر آرام کئے بغیر سوئے ہمارے وطن زادے ہماری بقاء کےلیے دشمن پر قہر برسا رہے ہیں۔ آج وہ جس مقصد کے لیے اپنی سانس اپنی جان قربان کررہے ہیں وہ مقصد ہمارے لیے ایک چیلینج ہے کہ کیا ہم اس مقصد کےلیے ایسے ہی خود کو قربان کر سکتے ہیں؟ کیا وہ مقصد صرف یہی ہےکہ اپنے وطن زادوں کی شہادت پر ان کو خراج ِ تحسین پیش کریں؟ نہیں ہمارا مقصد ہمارے شہیدوں ہمارے وطن زادوں کا وہ مشن ہے جس کے لیے آج وہ اپنی ایک ایک سانس قربان کر رہے ہیں۔ وہ مشن بلوچستان کی آزادی ہے، اس وطن کی آزادی ہے جس نے ایسے سپوتوں کو جنم دیا کہ آج وہ مسکراتے، ہنستے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ بہادری یہ بے باکی یہ تربیت ہمیں ہماری اسی سرزمین نے دی ہے جو آج دشمن کے قبضے خون آلود ہے۔

ہم یہ ماننے سے کیوں انکاری ہیں کہ دشمن کو ہم اپنی طاقت سے ہی شکست دے سکتے ہیں۔ آج اگر دنیا مین جتنی بھی قوم ہیں وہ اپنی زمین پر آزاد اور پرسکون زندگی گزار رہے ہیں تو ان کی تاریخ میں ان کی قربانیاں پڑھنے کو ملتی ہیں جنہوں نے محکم اور متحد ہوکر اپنے دشمن کو شکست دی۔

ہمیں یہ بات ماننا ہوگا کہ طاقت کا جواب ہم طاقت سے ہی دے سکتے ہیں۔ اور بلوچ کی طاقت اس کی متحد عوام میں ہے۔ دشمن ریاست پاکستان نے بلوچوں پر ہر طرح کے طریقے آزما کر بلوچ کو یرغمال کیا۔ آج بلوچستان میں ایسا کوئی گھر نہیں جس میں کوئی بھی بلوچ پاکستان کے دہشت گردی یا اس کی وحشت کا شکار نہ ہو۔ آج جتنے بھی بلوچ سیاسی کارکن، بلوچ طالب علم، یاکہ عام بلوچ سب پاکستان کی دہشت کے نرغے میں آچکے ہیں۔ یہ ریاست ہم میں سے کسی بھی بلوچ کو سکون کی سانس لینے نہیں دے گی تو بھلا ہم کس چیز کے انتظار میں بیٹھے اپنے باری کا انتظار کر رہے ہیں؟ ہمیں اب تک اس بات کا ادراک ہوجانا چاہیے کہ یہ قومی جنگ ہے یہ ہمارے وجود کی جنگ ہے، یہ ہماری شناخت کی جنگ ہے، یہ بلوچ کی جنگ ہے، یہ ہماری زمین کی جنگ ہے اس جنگ میں ہمیں ہمارے وجود سے سر اٹھانے والی خواہشات کو دفع کرنا ہے، اس جنگ میں ہمیں اپنی بساط کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، اس جنگ میں ہمیں خاموش رہ کر محض تماشائی نہیں بننا ہمیں اس جنگ میں اپنا حصہ ڈال کرخود کو بلوچ تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ رکھنا ہوگا۔ جس زندگی میں اگر وجود مردہ ہے تو اس مردہ وجود سے ہم صرف خود کو زندہ تو کہلوا سکتے ہیں لیکن اصل زندگی سے محروم ہوکر غلامی کی زنجیروں کو مزید مضبوط کریں گے۔ ہماری اصل زندگی تو صرف بلوچ کی آزاد سرزمین پر ہی ہمیں نصیب ہوگی۔ جس کےلیے ابھی ہمیں میلوں کا سفر طے کرنا ہے اور اس سفر میں ہمیں متحد، محکم اور ہم قدم ہوکر اپنے سفر کو منزل کیطرف لےجانا ہوگا



دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں