میڈیکل طلبہ کے مسائل کو حل کرنے میں صوبائی حکومت اور محکمہ صحت غیر سنجیدہ ہیں – این ڈی پی

364

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پچھلے ایک مہینے سے جھالاوان، مکران اور لورالائی میڈیکل کالجز کے طلبہ پی ایم سی کی جانب سے اعلان کردہ ایک غیر آئینی اور غیر قانونی اسپیشل امتحان کے خلاف ان یخ بستہ اور سخت سردی میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی کیمپ لگا کر بیٹھے ہیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے اب تک طلبہ کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا ہے کہ محکمہ صحت اور کالجز انتظامیہ نے اپنی نااہلی اور ناکامی چھپانے کیلئے طلبہ کے پی ایم سی میں رجسٹریشن کے مسئلہ کو اسپیشل امتحان کے ساتھ جوڑ کر سارا بوجھ طلبہ پر ڈال دیا گیا ہے جو کہ طلبہ کے ساتھ سراسر ظلم اور نا انصافی ہے لہٰذا محکمہ صحت اور کالجز انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ پی ایم سی کے تمام شرائط کو پورا کے کالجز سمیت طلبہ کو بھی رجسٹریشن کروائیں یا پھر پی ایم سی کے رولز کے مطابق محکمہ صحت اور کالجز انتظامیہ جرمانہ ادا کریں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ حکومت وقت کو چاہیے کہ میڈیکل کے طلبہ کے مسئلوں پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے طلبہ کے ساتھ گفت و شنید کر کے ان مسائل کو حل کرے تاکہ طلبہ بھی خوش اسلوبی کے ساتھ اپنا احتجاجی مظاہرہ ختم کرکے اپنی تعلیم کو جاری رکھے بصورت دیگر ہم سمجھتے ہیں کہ ان تمام مسائل کے ذمہ داری محکمہ صحت اور صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے اگر کسی بھی طلبہ کے تعلیمی کیریئر کو کوئی بھی نقصان پہنچا تو اس کے براہ راست ذمہ دار محکمہ صحت اور صوبائی حکومت ہوگی۔