مقامی ماہیگیروں کا استحصال بند کیا جائے – ماہیگروں کا اجلاس

214

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے تحصیل پسنی میں ماہیگر ویلفیئر سوسائٹی کے نائب صدر ناخدا جماعت کی سربراہی میں ناخدا رزاق کی رہائش گاہ پر ماہیگروں کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔

جس میں ماہیگیر ویلفیئر سوسائٹی کے کابینہ ممبران سمیت ماہی گیروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس میں باہمی اتفاق رائے کے بعد ماہیگیر ویلفیئر سوسائٹی کے تمام کابینہ کے عہدیداروں نے مشترکہ طورپر سیٹھ الہی عیسیٰ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ موصوف ماہیگیروں کا کم فیکٹری مالکان کا نمائندہ زیادہ لگتاہے۔ اب ہم استحصال برداشت نہیں کرینگے۔

ماہیگیروں کی اجتماع سے ناخدا عنایت، ناخدا انور، ناخدا صغیر، ناخدا لیاقت اور ناخدا عزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پسنی کے ساحل سمندر پر فیکٹری مالکان اور مچھلی کے بڑے بیوپاریوں کی من مانیاں نا قابل قبول ہیں۔ سمندر ہمارا زریعہ معاش ہے اسکی بے دردی سے لوٹنے کی کسی کو اجازت نہیں دینگے۔

انکا مزید کہناتھا سندھ کے ماہیگیروں سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں وہ بھی پاکستانی ہیں اور ہمارے بھائی ہیں۔ بے شک وہ بھی ماہیگیری کریں۔ مگر ہم انکی سرپرستی کو قبول نہیں کرسکتے۔

فیکٹری مالکان اور مقامی سیٹھوں کی جانب سے 1,1 کروڑ روپے میں سندھ کے ناخدا بعمہ ماہیگیروں کی خرید و فروخت کے ذمہ دار مقامی ماہی گیر نہیں ہیں۔

روزگار کے نام پر انسانوں کی خرید و فروخت کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا ساحل پسنی کو فیکٹری مالکان اور سیٹھوں کے ذرخریدہ مزدورں کے ہاتھوں 24 گھنٹے لوٹنے نہیں دینگے۔ ہر چیز کا اوقات کار ہوتاہے۔
ساحل سمندر پسنی پر پہلا حق مقامی ماہیگیروں کا ہے نہ کہ فیکٹری مالکان یا بیوپاریوں کا ہے۔

گزشتہ روز فیکٹری مالکان اور سیٹھوں کی جانب سے ماہی گیری کے شکار پر قدغن کے نام پر غلط پروپگنڈہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور محکمہ ماہی گیری آج کے بعد سیٹھ الہی عیسیٰ کو ماہیگیروں کا نمائندہ تصور نہ کریں۔