لیاری لٹریری اینڈ پولیٹیکل فیسٹیول اختتام پزیر

149

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں لیاری لٹریری اینڈ پولیٹیکل فیسٹیول کی کامیابی کے ساتھ منعقد کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کی سرزمین سے انتظامی حوالے سے جدا کردہ بلوچ اکثریت علاقہ لیاری میں ایک کامیاب پروگرام کا انعقاد کرنا علاقے میں ایک نئی و ترقی پسند بحث و مباحثے سبب بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ حب چوکی اور ڈیرہ غازی خان کے بعد تنظیم کی جانب سے یہ تیسرا فیسٹیول منعقد کیا گیا جس میں لیاری کی عوام اور نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی ہے۔ جہاں ایک جانب انتظامی بلوچستان کے دائرہ کار سے باہر بلوچ اکثریت علاقے مختلف اسباب کے باعث بلوچ سیاست سے ایک حد تک کنارہ کشی اختیار کر چکے ہیں وہیں منظم طریقے سے تمام علاقوں کی عوام میں ایک خلا قائم کی جا چکی ہے۔ لیاری اور تونسہ شریف میں ایسے تقریبات کے انعقاد کا بنیادی مقصد اس خلا کو پر کرتے ہوئے اِن علاقہ جات کے نوجوانوں میں شعور اجاگر کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ روز لیاری میں منعقد ہونے والے فیسٹیول میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیا جس میں کراچی کے باشندوں کی مسائل اور کراچی میں بلوچ سیاست کے ماضی و مستقبل کے پہلوؤں پر پینل ڈسکشن ہوا ہے جس میں مختلف سیاسی، سماجی اور صحافت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے حضرات نے طویل مباحثہ کیا ہے۔ بلوچ طلبا سیاست پر بی ایس او کے سابق چیئرمین ایڈوکیٹ عمران بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ لیاری اور بلوچستان سے آئے ہوئے آرٹسٹ نے اپنے شاہکاروں کی رونمائی کی اور پروگرام میں بلوچستان کے نوجوان فلم میکر عرفان نور کی بلوچستان کے آثار قدیمہ پر ایک ڈاکومنٹری پیش کی گئی۔ پروگرام کا اختتام میوزیکل دیوان کے ساتھ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پروگرام کا آغاز کراچی کے باشندوں کا بلوچ سیاست میں کردار کے موضوع پر پینل ڈسکشن کے ساتھ کیا گیا جس میں سیاسی اور صحافتی شعبے کے پینلسٹ شریک ہوئے۔ شرکا نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بلوچ سیاست کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو کراچی بلوچ سیاست کی بنیاد نظر آتی ہے اور کراچی سے شروع ہونے والی سیاست کسی نہ کسی طرح بلوچستان تک پہنچی ہے۔ سیاسی پارٹیوں کی ہی سیاست ہو یا طلبا سیاست کراچی ہی بلوچ سیاست کا گڑھ رہا ہے اور ہمیشہ قومی سیاست کی آبیاری کی ہے۔ لیکن گزشتہ ادوار میں جہاں لیاری اور دوسرے بلوچ اکثریت علاقوں کے حالات کو جہاں ایک منظم طریقے سے خراب کیا گیا وہیں عوام کو سیاست سے کنارہ کش اختیار کروانے کےلیے این جی اوز کا سہارا لیا گیا۔ آج تک یہ تسلسل جاری ہے اور یہیں وہ سبب ہیں جس کے باعث کراچی میں بلوچ سیاست کی راہ میں رکاوٹیں حائل اور سیاست سست روی کا شکار ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے مقامی باشندوں کو درپیش مسائل پر منعقد سیگمنٹ میں سیاسی اور سماجی شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد بطور مقررین شریک ہوئے۔ مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی بلوچ عوام جہاں ایک بڑی شہر میں رہتے ہوئے بھی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے وہیں یہاں کی عوام کو معیاری بنیادی تعلیم تک میسر نہیں ہے۔ ایک وقت میں جہاں اِن علاقوں میں حالات خراب کیے گئے تو اب ان علاقوں کے لوگوں کے گھروں کو مسمار کرتے ہوئے انھیں بے گھر کرنے کی سازش جاری ہے۔ لینڈ مافیا جہاں مقامی باشندوں کی زمینوں پر قبضہ کر رہی ہے تو دوسری جانب لیاری سمیت مختلف مسائل کو بنیاد بنا کر عوام کو بے دخل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ بلوچ سیاست سے وابستہ اداروں اور رہنماؤں کو ان حالات کا ادراک رکھنا نہایت ہی ضروری ہے اور ان مسائل کو تمام فورمز پر اٹھا کر عوام میں اعتماد کو دوبارہ سے بحال کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ دیوان میں بلوچ طلبا سیاست کے ماضی، حال اور مستقبل کے موضوع پر بی ایس او کے سابق چیئرمین ایڈوکیٹ عمران بلوچ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نہایت ہی جامع انداز میں طلبا سیاست اور بلوچ طلبا سیاست کو واضح کیا۔ انھوں نے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ ادوار میں رونما میں ہونے والی غلطیوں کو نوجوانوں کے سامنے پیش کیا اور نوجوانوں کو بحث، مباحثہ اور سیاسی ماحول پروان چڑھانے کی تلقین کی۔ دیوان کے آخری مرحلے میں آرٹ رونمائی کی گئی اور میوزیکل دیوان کا انعقاد کیا گیا جس میں استاد حمید شریف شریک ہوئے۔