شاہینہ شاہین کے قاتل کو بااثر افراد کی پشت پناہی حاصل ہے -معصومہ شاہین

304

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں جمعہ کے روز جسٹس فار شاہینہ شاہین کمیٹی کا ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں شاہینہ شاہین کے قتل کے ایک سال چار ماہ گزرنے کے بعد قاتل کی عدم گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا گیا-

اجلاس میں اٹھارہ جنوری کو ضلعی پولیس آفیسر کیچ کی آفس کے سامنے دھرنا دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے نامزد قاتل کے گرفتاری اور حکومت کی بے حسی کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کا فیصلہ بھی کیا گیا-

اجلاس میں ایچ آر سی پی کے ریجنل کوارڈینیٹر پروفیسر غنی پرواز، تربت سول سوسائٹی کے کنوینیر گلزار دوست، مبارک بلوچ، بی ایس او کے سابق چیئرمین ظریف رند، آل پارٹیز کیچ کے قائم مقام کنوینیر عبدالغفور کٹور، بی این پی عوامی کے ضلعی رہنماء ظریف زدگ بلوچ، بی ایس او کی مرکزی کمیٹی کے رکن کریم شمبے، بی ایس او پجار کے کے رہنماء نوید تاج، سماجی و سیاسی کارکن میران حیات، جسٹس فار شاہینہ شاہین کمیٹی کی طرف سے معصومہ شاہین، ماروی شاہین، زہرہ شاہین، امجد مراد، شاہ میر بلوچ اور دیگر نے شرکت کی-

اجلاس میں شامل شرکاء نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ شاہینہ شاہین کے قتل کو ایک سال چار ماہ گزر گئے ہیں، مگر ان کے قتل میں نامزد مرکزی ملزم ابھی تک آزاد ہے بلکہ اسے کراچی میں کھلے عام گھوما دیکھا گیا ہے جبکہ حکومت کو بار بار درخواست دینے احتجاج، ریلیاں، بھوک ہڑتال، سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے باوجود ابھی تک کارروائی نہیں کی جارہی –

انکا کہنا تھا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم کو بااثر افراد کی پشت پناہی حاصل ہے-

انہوں نے مزید کہاکہ شاہینہ شاہین کے شوہر اور ان کے نامزد قاتل محراب گچکی اس وقت کراچی میں ہے اور کھلے عام گھوم پھر رہے ہیں دوسری طرف قاتل کے فیملی کی طرف سے صلح کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے حالانکہ متاثرہ فیملی نے کسی طرح کی صلح صفائی سے انکار کیا ہے اور بار بار قاتل کی گرفتاری اور اسے سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے ،اور اب بھی اس مطالبے پر عملدرآمد کے لیے درخواست گزار ہے-

انہوں نے کہاکہ تربت انتظامیہ نے بظاہر کیس سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور قاتل کی گرفتاری کے لیے پولیس مکمل خاموش ہے۔

انہوں نے کہا قاتل کی گرفتاری کے لیے جسٹس فار شہید شاہینہ شاہین کمیٹی اٹھارہ جنوری کو ڈی پی او آفس کیچ کے سامنے دھرنا دے گی جب تک حکومت نامزد مرکزی ملزم محراب گچکی کو گرفتار نہیں کرے گی احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا، جبکہ اس دوران سوشل میڈیا کے مختلف ٹولز کو استعمال میں لاکر حکومت کی سرد مہری اور قاتل کی گرفتاری کے لیے مہم چلائیں گے۔