خضدار: سی ٹی ڈی کا بلوچ مسلح تنظیم کے چار ارکان گرفتار کرنے کا دعویٰ

555

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے بلوچستان کے ضلع خضدار سے بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے خفیہ اطلاع ملنے پر خضدار کے علاقے ساسول میں ایک کاروائی کے دوران کالعدم مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی سے تعلق رکھنے والے کمانڈر سمیت چار افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔

سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق گرفتار افراد میں مسلح تنظیم کا کمانڈر ظفر شامل ہے جبکہ مذکورہ افراد گذشتہ سال حب چوکی میں اکرم ساجدی کو فائرنگ کرکے ہلاک کرنے میں ملوث تھے۔

یاد رہے گذشتہ سال یکم نومبر کو اکرم ساجدی کے گاڑی کو حب میں بم حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں اکرم ساجدی ہلاک ہوگئے تھے۔

اس بم حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بی ایل اے کے ترجمان جیئند بلوچ نے کہا تھا کہ ہمارے سرمچاروں نے بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کی تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ اکرم ساجدی کو بم حملے میں نشانہ بناکر ہلاک کردیا۔

سی ٹی ڈی کے مطابق کاروائی کے دوران گرفتار افراد کے قبضے سے ضروری دستاویز سمیت دھماکہ خیز مواد برآمد کرلی گئی ہے۔

خیال رہے کہ سی ٹی ڈی نے اس سے قبل بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں لوگوں کی گرفتاری یا مقابلے میں مارے جانے کا دعویٰ کیا ہے ماضی میں اس نوعیت کے واقعات میں گرفتار یا مقابلے میں مارے جانے والوں کی شناخت پہلے سے لاپتہ یا زیر حراست افراد کے طور پر ہوئی ہے۔

چند روز قبل ہی سی ٹی ڈی نے ضلع کیچ میں پہلے سے زیر حراست چار افراد کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ارکان قرار دے کر گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذکورہ افراد ہوشاپ میں بچوں کے قتل میں ملوث تھے تاہم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے بیان میں کہا کہ مذکورہ افراد کا تعلق بی ایل ایف سے نہیں بلکہ وہ جبری طور پر لاپتہ افراد ہیں جبکہ سانحہ ہوشاپ کے متاثرہ خاندان نے بھی پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی ٹی ڈی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بچے فورسز کے مارٹر گولے کے دھماکے کے نتیجے میں جانبحق ہوئیں۔

گذشتہ دنوں سی ٹی ڈی نے کوئٹہ مشرقی بائی پاس پر ایک مبینہ مقابلے میں داعش سے تعلق رکھنے والے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا جسے ٹی ٹی پی نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں سی ٹی ڈی نے انکے گرفتار ارکان کو جعلی مقابلے میں قتل کردیا ہے۔