ایران:افغان متحارب دھڑوں کی ملاقات،متقی اور احمد مسعود کی شرکت

132

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے وفد کے ہمراہ قومی مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود اور سابق افغان وزیر اور صوبائی گورنر، اسماعیل خان سے ایرانی کے دارالحکومت تہران میں ملاقات کی۔

افغان طالبان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کی سینیر قیادت نے پیر کے روز ہمسایہ ملک ایران میں افغان حزب مخالف سے تعلق رکھنے والے خودساختہ جلا وطن رہنماؤں سے ملاقات کی ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ اسلامی گروپ کی حکمرانی کے خلاف مزاحمت بند کریں اور اگر وہ وطن واپس آجائیں تو ان کی سیکیورٹی کی ضمانت دی جائے گی۔

فریقین کے مابین ہونے والے اس پہلے براہ راست رابطے کے بارے میں تفصیل دیتے ہوئے، طالبان کے ترجمان بلال کریمی نے بتایا کہ متقی نے طالبان کی اس یقین دہانی کا اعادہ کیا کہ وہ تمام افغانوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے کوشاں ہیں، جس کے بعد کسی مزاحمت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اپنے وفد کی قیادت کی جس کی ملاقات قومی مزاحمتی محاذ کے سربراہ احمد مسعود اور ایک سابق افغان وزیر اور صوبائی گورنر، اسماعیل خان سے ہوئی۔

جاری کردہ ویڈیو میں متقی نے خود بھی اس ملاقات کی تصدیق کی ہے، جسے طالبان نے ایرانی عہدے داروں کے ساتھ دو روزہ باہمی ملاقات کے اختتام پر جاری کیا ہے۔

متقی کے الفاظ میں ہاں۔ ہم ایران میں کمانڈر اسماعیل خان اور احمد مسعود کے علاوہ وہاں موجود دیگر افغانوں کے ساتھ ملے ہیں۔

انہیں یہ بھی کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ”ہم نے ان سب کو یہ یقین دلایا کہ وہ واپس آ کر آزادانہ طور پر اور بحفاظت افغانستان میں رہ سکتے ہیں۔ ہمارا (طالبان) کوئی ارادہ نہیں کہ کسی کے لیے بھی سیکیورٹی یا کوئی اور مسئلہ کھڑا کریں”۔

واضح رہے کہ عالمی برادری طالبان پر دباؤ ڈالتی رہی ہے کہ وہ قومی سیاسی میں مفاہمت کو فروغ دیں اور ایک جامع حکومت تشکیل دیں جو تمام افغانوں کے انسانی حقوق کی حرمت کو یقینی بنائے، جس کے بعد ہی دنیا کابل پر ان کی حکمرانی جائز ہونے کے بارے میں غور کر سکتی ہے۔

ان 20 سالوں کے بعد امریکی قیادت کی فوج کے ملک سے انخلا کے بعد وسط اگست میں اس اسلام نواز گروپ نے مغربی حمایت یافتہ حکومت کی جگہ افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کیا۔

مزاحمتی محاذ نے اقتدار کی منتقلی کی مخالفت کی، جس پر کابل کے شمال میں پنج شیر کے مزاحمتی گڑھ میں دونوں فریق کے درمیان پر تشدد جھڑپیں واقع ہوئیں۔

دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اختتام ہفتہ طالبان وفد کے اس دورے کی آمد سے یہ مراد نہیں ہے کہ ایران سرکاری طورپرکابل حکومت کو تسلیم کرتا ہے۔

ایرانی ذرائع ابلاغ نے ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبدالہیان کے حوالے سے کہا ہے کہ انھوں نے افغان عوام کی نقدی کو منجمد کرنے پر امریکہ پر تنقید کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ یہ رقم جاری کی جائے تاکہ افغانستان کی معاشی اور انسانی بحران کی صورت حال میں بہتری آ سکے۔