شہید سر زائد آسکانی نے مکران سمیت بلوچستان کے لئے انکے تعلیمی خدمات ناقابل فراموش ہیں – بی ایس او

98

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ معروف ماہرتعلیم اور دی اویسس اسکول کے ڈائریکٹر شہید سر زائد آسکانی کی ساتویں یوم شہادت پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مکران سمیت بلوچستان کے لئے انکے تعلیمی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

ترجمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہید سر زائد آسکانی کو مکران میں جدید تعلیمی نظام کا علمبردار سمجھا جاتا ہے۔ جنہوں نے مضبوط تعلیمی اداروں کی بنیاد پر یقین رکھتے ہوئے علم کی شمعیں روشن کیے۔ انہوں نے مکران میں گرلز ایجوکیشن کو پروان چھڑانے اور خواتین کی تعلیم کے میدان میں حوصلہ افزائی کی۔ زائد آسکانی نے نا صرف پنجگور، گوادر جیسے پسماندہ اضلاع میں جدید تعلیمی نظام کا بیج بویا بلکہ معاشرے میں حقیقی استاد کا کردار ادا کرتے ہوئے ہمیشہ طلباء کی رہنمائی کی۔

انہوب نے اپنے بیان میں کہا کہ شہید سر زائد آسکانی کو 4 دسمبر 2014 کو گوادر میں انکے اسکول کے سامنے شہید کیا گیا۔ جس سے مکران سمیت بلوچستان ایک شفیق استاد سے محروم ہوا۔ بلوچستان دیگر طبقہ فکر کے ساتھ ساتھ اہل دانش اور اساتذہ کے حوالے سے بھی غیر محفوظ ہے جہاں زائد آسکانی، پروفیسرصباء دشتیاری، پروفیسررزاق زہری سمیت درجنوں کو علم و شعور کی شمعیں جلانے کے پاداش میں قتل کردیا گیا جبکہ درجنوں اساتذہ کو لاپتہ کرکے ان پر تشدد کرکے شہید و لاپتہ کردیئے گئے۔

ترجمان نے اپنے بیان میں بلوچ اساتذہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ تعلیم کو مقدا پیشہ سمجھ کر معاشرے میں حقیقی شعور کی سربلندی کی سفر کا جاری رکھیں۔ شہید ذاہد آسکانی کو جسمانی طور پر تو ہم سے جدا کردیا گیا لیکن انکے افکار اور سوچ ہمیشہ زندہ رہے گی۔

ترجمان نے کہا کہ بلوچ سرزمین کو اہل دانش سے بانجھ کرنے کیلئے ہمیشہ یہاں کا تعلیم یافتہ طبقہ ظلم و ستم کی زد میں رہا ہے جس کا مقصد اہل بلوچستان کو ان کی بنیادی اقدار و افکار سے لاعلم رکھ کر استعماری منصوبے پروان چڑھ سکیں لیکن بلوچستان کے ہر فرد نے ہمیشہ ان منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے ان قوتوں سے اپنے علمی و سیاسی بصیرت سے مقابلہ کیا ہے اور کوئی یہ خوش فہمی میں نہ رہے کہ ہمارے اساتذہ کو قتل کرکے وہ بلوچ دشمن منصوبوں کی تکمیل میں کامیاب ہوں گے۔