زیرحراست افراد کا اپنی سرحدی بندوبست سے باہر قتل سے پاکستانی اپنی جنگی جرائم نہیں چھپا سکتا ہے – بی این ایم

166

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ پاکستانی ریاست اور فوج بلوچستان میں نسل کشی کے نت نئے طریقے آزما رہی ہے ۔براہ راست ہدف بناکرمقتل، دوران حراست اذیت رسانی سے قتل، مسخ لاشیں پھینکنے کاسلسلہ گذشتہ دو عشروں سے جاری تھا کہ اس سال سی ٹی ڈی کے ذریعے جعلی مقابلوں کا اضافہ کردیا گیا۔ فوج نے زیرحراست افراد کو قتل کرکے انہیں سی ٹی ڈی کے ساتھ مقابلے کا نام دیا لیکن جلد ہی حقائق سامنے آنا شروع ہوئے کیونکہ جبری لاپتہ افراد کے خاندانوں اور مختلف تنظیموں کی جانب سے جمع کردہ کوائف ثبوت کے طور پر موجود تھے۔ یہ بربریت پوری طرح عیاں ہوگئی کہ فوج زیرحراست افراد ہی کو قتل کررہی ہے ۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ فوج نے ایک نئے سلسلے کا آغاز کرکے زیرحراست افراد کو اپنی سرحدی بندوست سے نکال کر دوسرے ملک میں قتل کردیا۔

بی این ایم کے ترجمان نے کہاکہ گذشتہ روز مندسے متصل ایران کے زیرانتظام مغربی بلوچستان کے ضلع ھنگ میں پاکستانی فوج نے تین زیرحراست افراد کو گولیاں مار کر قتل کرکے چلی گئی لیکن ان میں ایک شخص معجزانہ طور پر بچ گیا۔ بلوچستان بھر میں پاکستانی فوج نے منشیات فروش اور جرائم پیشہ افراد پر مشتمل کرایہ کے قاتلوں کے جھتے بنائے ہیں جنہیں ڈیتھ سکواڈ کہا جاتا ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ پاکستانی فوج نے ان زیرحراست افراد کو انہی ڈیتھ سکواڈ کے ذریعے مغربی بلوچستان کے سرزمین پر قتل کیا گیا ہے کیونکہ گذشتہ کچھ عرصے پاکستانی ریاست یہ پروپیگنڈہ کررہی ہے کہ پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ افراد ان کے قیدخانوں میں نہیں بلکہ ملک سے باہر یا پہاڑوں میں ریاست کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں۔ اپنی اس بیانئے کو قابل قبول بنانے کے لیے ایک طرف سی ٹی ڈی کے نام پر زیرحراست افراد کو قتل کرکے لاشیں پھینک رہی ہے اور اب ملک سے باہر ہونے کی دعوے کو صداقت بخشنے کے لیے پاکستان نے بین الاقوامی سرحدی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین زیر حراست بلوچوں کو ایرانی سرحد میں تیس چالیس کلومیٹر مغربی بلوچستان میں لاکر شہید کیا لیکن اس سے پاکستان اپنے جنگی جرائم کو چھپا نہیں سکتا ہے بلکہ ہمسایہ ممالک سمیت پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا مکروہ چہرہ مزید عیاں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ مغربی بلوچستان میں جن زیرحراست افراد کو گولیاں ماری گئیں ان میں اسد ولد ناصر سکنہ نوکیں کہن مند، یکم جولائی 2019 کو گھر سے گرفتاری کے بعد جبری لاپتہ کیا گیا۔ شہید اسد بلوچ کے چھوٹے بھائی یاسر بلوچ کو 14 اکتوبر 2010 کو جبری لاپتہ کرنے کے بعد 8 مارچ 2011 کو اسے شہید کرکے لاش ویرانے میں پھینکی گئی تھی۔ شہید اسد بلوچ اور زخمی خان محمد شاہوانی کی جبری گمشدگی کے خلاف میڈیا کمپئین، اس کے بچوں کے اس وقت کے ریکارڈ شدہ اپیلیں ثبوت کے طور پر موجود ہیں کہ وہ پاکستانی فوج کے ٹارچر سیلوں میں تھے۔ ان کی گمشدگی کے بعد ان کی تصاویر جبری لاپتہ افراد کی کیمپ میں موجود رہے۔

انہوں نے کہا کہ خان محمد ولد میر جمعہ خان شاہوانی کو 17 جون 2019 کو خضدار کے علاقے زہری سے لیویز فورس نے گرفتار کرکے فوج کے حوالے کیا تھا۔ زندہ بچ جانے والے خان محمدشاہوانی کو حراست میں لیے جانے کے عینی شاہدین آج بھی موجودہیں کہ گرفتاری کے وقت خان محمدشاہوانی نے کہا تھا اگر انہیں فوج کے حوالے کیا گیا تو فوج مجھے لاپتہ یاقتل کرے گی لیکن لیویز فورس نے پاکستانی ریاست کے ساتھ نمک حلالی کا حق ادا کرکے انھیں فوج کے حوالے کیا تھا ۔

ترجمان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ خان محمد شاہوانی کی زندگی بچانے اور اس کا بیان قلمبند کروانے میں بلوچ قوم کی مدد کریں۔ ہمیں خدشہ ہے ریاست پاکستان اسے شہید ناصر ڈگارزئی کی طرح ایک دفعہ پھر اٹھاکر شہید کر دیگی تاکہ وہ پاکستان کی اس سفاکیت کو اپنی زبان سے بیان نہ کرپائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمسایہ ممالک، عالمی طاقتوں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اسی طرح پاکستان کو کھلی چھوٹ دیکر بلوچ نسل کشی میں خاموشی اختیار کی تو بلوچستان میں انسانی المیہ مزید شدت اختیار کرے گی اور پاکستانی فوج بنگلہ دیش سے بھی بدتر مظالم ڈھاکر بلوچ قوم کی نسل کشی ، اجتماعی سزا میں تمام حدود پار کرے گا۔