پروفیسر اشرف بلوچ کی یاد میں ڈگری کالج کوئٹہ میں تقریب

47

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ تنظیم کی جانب سے پروفیسر اشرف بلوچ کی یاد اور ان کے علمی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے ڈگری کالج کوئٹہ میں پروگرام منعقد کی گئی جس میں پروفیسر منظور بلوچ، پروفیسر علی گوہر اور پروفیسر صدیق بلوچ بطور مہمان خاص شریک ہوئے اور طالبعلموں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ آج کے اِس دور میں جہاں دانشوری اور علم کے تقاضے پورا کرنے کی راہ میں کئی رکاوٹیں جائل کی جاتی ہیں وہی درس و تدریس سے منسلک افراد کےلیے بھی علیحدہ ضابطے اور پیمانوں کو تعین کیا گیا ہے۔ اس نظام تعلیم میں جہاں طالبعلموں کو تخلیق اور غور وفکر کے بجائے متعین شدہ راہوں پر چلنے کی سعی کی جاتی ہے وہیں پروفیسر اشرف بلوچ جیسے درخشندہ ستاروں کی جانب سے اس نظام تعلیم کو چیلنج کرتے ہوئے طالبعلموں کو تخلیق اور غوروفکر کی جانب مائل کرنا نہایت ہی قابل داد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر اشرف بلوچ نہایت کا شمار نہایت ہی قابل اور قوم دوست افراد میں کیا جاتا ہے۔ انھوں نے جہاں نوجوان نسل کو سماجی برائیوں سے نکالنے کےلیے ہر ممکن کوشش کی وہیں نوجوان نسل کو کتاب جیسے قیمتی گوھر سے روشناس کرایا ہے۔ انھوں نے جامعہ میں درس و تدریس کے دوران طالبعلموں کی ہر ممکن تعاون کی اور طالبعلموں کو علمی اور سیاسی عمل میں رہنمائی کی ہے۔ انھوں نے بلوچستان بھر میں لائبریریاں کھولنے میں جہاں طالبعلموں کی مدد کی ہے وہیں خود اس عمل میں مکمل طور پر فعال رہے ہیں۔ انھوں نے جامعات اور شہری آبادی میں لائبریریاں کھولیں اور نوجوان نسل کو سماجی برائیوں کے بجائے تعلیم کی جانب راغب کیا۔ پروفیسر اشرف بلوچ کا کردار اور ان کا عمل اس شعبے سے منسلک تمام افراد کےلیے مشعل راہ ہیں۔

مرکزی ترجمان نے کہا کہ منعقدہ تقریب میں تنظیم کی جانب سےپروفیسر اشرف بلوچ کی سوانح اور علمی کردار تیارکردہ پیپر پڑھا گیا اور بک سٹال کا بھی اہتمام کیا گیا۔ تنظیم تمام دانشور اور استاتذہ کرام کو اپنا اثاثہ گردانتی اور ان کے عمل اور فکر کو آنے والے نسلوں تک پہنچانے کا اعادہ کرتی ہے۔