پاکستان کابل سے بین الاقوامی پروازوں اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔ طالبان کا الزام

176

افغان سول ایوی ایشن اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ کابل سے پاکستان جانے والی بین الاقوامی پروازوں پر پاکستان اپنی اجارہ داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
طالبان حکومت کی ایوی ایشن اتھارٹی کے نائب سربراہ غلام جیلانی وفا نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ کابل-اسلام آباد روٹ مکمل طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (آئی پی اے) کی ملکیت بن جائے۔
پی آئی اے اس وقت افغانستان سے بیرون ملک مسافروں کو لانے لے جانے والی واحد ایئر لائن ہے۔ کابل اور دیگر بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے درمیان استعمال ہونے والے باقی راستے اس وقت بند ہیں اور پاکستان جانے والے یا اس کے راستے جانے والے مسافروں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔

کابل میں تعینات پاکستانی سفیر منصور احمد خان نے گذشتہ دنوں کہا تھا کہ فضائی سفر کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ انشورنس کمپنیوں کی جانب سے افغانستان کو جنگ زدہ قرار دینا تھا کس کے بعد پریمیم کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی۔ 
ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں انہیں امید ہے کہ جلد کوئی حل نکال لیا جائے گا۔ پی آئی اے کا کہنا ہے کہ وہ صرف چارٹرڈ فلائٹس کابل کے لیے چلا رہا ہے۔ 
 
اطلاعات کے مطابق کابل- اسلام آباد ٹکٹ کی قیمت، جو پہلے 150 امریکی ڈالرز تھی، اب 2500 ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور پاکستان میں ٹکٹوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے اس میں دوبارہ اضافے کا امکان ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں افغانستان کے سابق سفیر ڈاکٹر عمر زاخلوال نے بھی ایک ٹویٹ میں پی آئی اے اور کام ائیر کی مبینہ زیادہ پیسے لینے کی کوشش کی مذمت کی ہے۔

پاکستان جانے کے خواہش مند مسافروں کا کہنا ہے کہ صرف کابل میں پی آئی اے ایئر لائن کا دفتر کابل-اسلام آباد پرواز کے ٹکٹ فروخت کرتا ہے اور ہر روز سینکڑوں لوگ کمپنی میں ٹکٹ خریدنے کے لیے انتظار کرتے ہیں۔

حاجی مزمل، ایک افغان تاجر کا جن کو پاکستان کے راستے دبئی جانا پڑتا ہے، کہنا ہے کہ  ڈھائی ہزار ڈالرز کا ٹکٹ حاصل کرنا بھی آسان نہیں ہے۔

اسے بلیک مارکیٹ میں خریدیں، جس کی قیمت سو ڈالر زیادہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بہت سے ایجنٹس پاکستان ایئر لائنز سیلز آفس کے داخلی دروازے کے قریب گھوم رہے ہیں، صرف درخواست گزاروں کے لیے ٹکٹ خریدنے کے لیے 2600 ڈالر خرید رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان طورخم کی زمینی بندرگاہ کے ذریعے آمدورفت پر کئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ پاکستان کے اس دعوے کے برعکس کہ طورخم بارڈر عبور کرنے کے لیے ویزا کے ساتھ ویزہ پیش کرنے کی شرط ختم کر دی گئی ہے ، پاکستانی سرحدی حکام افغانوں کو بغیر ویزے کے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے۔

پاکستان میں اتوار کو زیر تعلیم درجنوں افغان طلبہ نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے سامنے ریلی نکالی۔

انہوں نے پاکستانی حکومتی عہدیداروں سے مطالبہ کیا کہ جن کے پاس پاکستانی ویزا ہے ان کے لیے ویزے کی شرط ختم کی جائے۔

ایک پاکستانی یونیورسٹی کے طالب علم عبدالتواب یوسفی کا کہنا ہے کہ امتحانات شروع ہو چکے ہیں لیکن پاکستانی بارڈر گارڈ انہیں داخل ہونے نہیں دیتے اور ان کے انٹری کارڈ طلب کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کابل میں پاکستانی سفارت خانے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے ویزا کی شرط ختم نہیں کی تاکہ زیادہ مسافروں کے لیے پاکستان جانے والا راستہ استعمال کیا جائے۔ کیونکہ زمینی راستہ  فضائی سفر کی نسبت کافی سستا پڑتا ہے اور 50 امریکی ڈالر میں آپ کابل سے پاکستان کے کسی بھی کونے تک زمینی راستے سے سفر کر سکتے ہیں۔
اگرچہ دو افغان ایئر لائنز (آریانا اور کام ایئر) نے مسافروں کو کابل سے اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے اپنی تیاری کا اعلان کیا ہے، تاہم پاکستان نے ابھی تک ان ایئرلائنز کو اجازت نہیں دی ہے۔
افغانستان پر طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہزاروں افغان ملک چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں،  لیکن تمام پڑوسی ممالک کی سرحدیں افغانوں کے لیے بند ہیں۔ اس وقت ہزاروں افغان ایران کے ساتھ ملک کی مغربی سرحد میں داخل ہونے کے منتظر ہیں، لیکن ایران کی حکومت نے مہاجرین کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے وسیع اقدامات کیے ہیں۔
فی الحال، افغانستان سے نکلنے کا واحد راستہ یا تو غیر ملکی چارٹر پروازیں ہیں جو افغانوں کو منتقل کرتی ہیں یا پاکستانی ایئر لائنز کی اسلام آباد جانے والی پروازیں  ہیں۔