مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور بلوچوں کو افغانستان میں تشدد اور اغواء کیا جارہا ہے – ماما قدیر

412

پاکستان فوج کی جانب سے بلوچوں کو اپنے علاقوں سے مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور کرنے والے افراد کو افغانستان میں طالبان کی جانب سے تشدد اور اغواء کیا جارہا ہے۔

ان خیالات وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے رہنماء ماما قدیر بلوچ نے سماجی رابطوں کی سائٹ پر کیا۔ ماما قدیر بلوچ کا بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب گذشتہ روز افغانستان کے بلوچ اکثریتی صوبے نیمروز میں بلوچ مہاجرین کے گھروں پر طالبان اہلکاروں نے چھاپے مارے اور سات افراد کو حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے۔

ماما قدیر بلوچ کا کہنا ہے کہ فوج کی جانب سے بلوچوں کو اپنے علاقوں سے جبری ہجرت پر مجبور کرنے، ہائے روز ان کےگھروں کو لوٹنے کے بعد نظر آتش کرنے و اغواء کرنے کے سبب لاکھوں کی تعدادمیں بلوچ ہمسایہ ممالک کے بلوچ علاقوں میں مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کی ایماء پر طالبان بلوچ مہاجرین کو بڑی تعداد میں تشدد و اغواء کررہے ہیں۔

مذکورہ واقعے کے حوالے سے افغانستان کے نامور صحافی بلال سروری نے لکھا کہ نیمروز میں کلی مولانا میں طالبان پولیس کا بلوچ مہاجرین کے گھر پر چھاپوں میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق بلوچ مہاجرین کو گرفتار کیا گیا جن میں 80 سالہ ضعیف العمر ملک خان محمد، جانی خان، ظفر اللہ بلوچ، عبدالنبی، میر گل بلوچ، محمد جان اور نانا شامل ہیں۔

اس حوالے سے طالبان حکام کا تاحال کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے تاہم ذرائع نے ٹی بی پی کو بتایا کہ اہلکاروں نے ملک خان محمد کے گھر سمیت دیگر بلوچوں کے گھروں پر چھاپے مارے، اس دوران خواتین و بچوں کو بھی زدوکوب کیا گیا جبکہ دوران زخمی ہوئے ہیں۔