بساک چیئرپرسن کے بھائی اور کزن کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاج کی حمایت کرتے ہیں – ریلیز راشد حسین کمیٹی

83

ریلیز راشد حسین کمیٹی کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماوارائے قانون جبری گمشدگیوں سلسلہ جاری ہے، آئے روز مختلف علاقوں نوجوانوں سمیت بچوں اور بزرگوں کو بھی اس غیرقانونی عمل کا شکار بنایا جارہا ہے۔

مزید کہا گیا کہ اجتماعی سزا کے طور سیاسی و سماجی رہنماوں اور کارکنان کے رشتہ داروں جبری طور پر لاپتہ کیا جارہا ہے۔ گذشتہ دنوں 19 جون 2021 کو بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے چیئرپرسن صبیحہ بلوچ کے بھائی شاہ میر بلوچ کو جبری طور پر ماورائے عدالت لاپتہ کیا گیا اور 25 ستمبر 2021 کو اُن کے کزن مرتضی بلوچ کو جبری گمشدگی کا شکار بنے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اسی طرح راشد حسین کو 2018 کے 25 دسمبر کو ایک خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے متحدہ عرب امارات کے ایک خفیہ ادارے نے گرفتار کرکے لاپتہ کردیا تھا اور اسی روز وہاں ایک مقامی پولیس اسٹیشن میں انکے خاندان نے انکی لاپتہ ہونے کی ایف آئی آر درج کی –

بعد ازاں وہاں کے پولیس نے اطلاع دی کہ راشد حسین کو پاکستانی حکام کہنے پر گرفتار کیا گیا ہے تو انہوں نے ایف آئی آر وایس لینے کے لئے انکے متحدہ عرب امارات میں موجود کزن سے ایف آئی آر واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا جبکہ راشد حسین کی گرفتاری کے وقت کے چشم دید گواہوں کو بھی دھمکایا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ راشد حسین کی فیملی اور گرفتاری کے دوران موجود تمام گواہوں کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ راشد حسین کو شارجہ سے متحدہ عرب امارت کے ایک خفیہ پولیس ادارے نے گرفتار کیا۔

بتایا گیا کہ پاکستان اور چین کی دباؤ کے بعد متحدہ عرب امارت نے بلوچ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ راشد حسین کو چھ مہینے بعد غیر قانونی طور 22 جون 2019 کو پاکستان کے حوالے کیا اور اس کے تمام ثبوت موجود ہیں۔ تاہم اب پاکستان راشد حسین کی تحویل اور متحدہ عرب امارت اسکی گرفتاری سے لاتعلقی کا اظہار کررہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم ان تمام بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ کسی ٹھوس ثبوت کے بغیر ایک شخص کو غیر قانونی طور پر پر پاکستان کے حوالے کرنا اور پاکستان ابتک اپنے لگائے گئے الزامات پر راشد حسین کو منظر عام پر نہیں لا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اندرون و بیرون ممالک بلوچ سماجی و سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگی، قتل کے واقعات ایک اجتماعی سزا کا تسلسل ہے اور اظہار آزادی رائے پر قدغن لگانے کے مترادف ہے جبکہ چیئرپرسن صبیحہ بلوچ پر دباو ڈالنے کیلئے اس کے رشتہ داروں کو لاپتہ کیا گیا جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ 24 اکتوبر کو کراچی میں بلوچ طالب علم رہنماء بانک صبیحہ بلوچ کے بھائی اور کزن کی جبری گمشدگی اور عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور ریلی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے شرکت کریں گے۔

ترجمان نے کہا کہ ہم تمام انسان دوستوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھائیں اور ریلی میں شرکت کرکے پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے غم زدہ خاندانوں کی آواز بنیں۔