ماہ رنگ! بلوچ دھرتی کا ماہِ تمام ہے – محمد خان داود

189

ماہ رنگ!بلوچ دھرتی کا ماہِ تمام ہے

تحریر: محمد خان داؤد

دی بلوچستان پوسٹ

وہ بلوچستان میں ایک نیا وعدہ نئے اعتبار کے جیسے نمودار ہوئی ہے۔وہ سب رنگ ہے،وہ سب رنگ سانول ہے۔ جب بلوچستان اسے دیکھتا ہے تو بلوچ دھرتی کی آنکھیں اعتبار کے رنگ سے بھر جا تی ہیں۔اور دھرتی آگے بڑھ کر اسے سرگوشیوں میں کہتی ہے ”ہاں تم ہو!تمہی ہو نیا وعدہ نیا یقین“

وہ کونج ہے بلوچ دھرتی پہ اُڑتی کونج۔اپنے ولر سے بچھڑ کونج، وہ کونجوں کی صدا ہے جو ”کڈھن کُر لاھیندیون“ جیسی ہے۔ جو وشال آکاش پہ اُڑتی جا تی ہیں کُر لاتی جا تی ہیں اور ان کی صداؤں کی صدا زمیں پر سنائی دیتی ہیں۔ وہ ایسی کونج ہے جس کے لیے ایاز نے کہا تھا کہ
”کونج بہ کائی گونج پریان ء جی!“
وہ پرین ء کے مُرک جیسی ہے!
وہ برستی بارشوں جیسی ہے
وہ تھر پہ گرتی اوس جیسی ہے
وہ موروں کے رقص جیسی ہے
وہ ایسا بھجن ہے جسے یا تو دھرتی گاتی ہے یا زخمی دل!
وہ انقلاب کے کتاب کے سبق کا پہلا ورق ہے
جس پر لکھا ہے
”مزاحمت زندگی ہے“
اور وہ آگے بڑھ کرعلی الاعلان سب کو کہتی ہے
”اعلان ہزاریں مان نہ رگو!“
مذاہمتی کرداروں کو پہلے دھرتی جانتی ہے پھر لوگ وہ بھی جب اعلان بن کر سامنے آئی تو اسے پہلے دھرتی نے جانا پھر لوگوں نے اب تو اس بلوچ دھرتی کا وشال آکاش بھی جانتا ہے کہ یہ مذہمت کی زندگی ہے
اس لیے جہاں بھی دھرتی جلتی ہے،داغ دار ہو تی ہے،دھرتی چیخ بنتی ہے، یہ وہاں نظر آتی ہے۔

بلوچ دھرتی کا ایسا کون سا دکھ ہے جہاں یہ نظر نہ آتی ہو،شال کی گلیوں میں روتی مائیں ہوں یا کراچی کی سڑکوں پر احتجاج کرتی سمی،کراچی میں مسنگ پرسن کے لیے مارچ ہو یا شال کی گلیوں میں انصاف کی صدائیں دیتی مائیں، بہت دور بانک کریمہ کی مٹی حوالے ہونے کے قصے ہوں یا کمال کی زوالیت۔

کراچی میں برمش کے لیے بلوچ کونجوں کی گونج ہو یا حیات کی حیات چھن جانے کی باز گشت، بلوچ شاگردوں کے لیے انصاف کی بات ہو یا حسیبہ قمبرانی کے درد بھرے آنسو ہر جگہ ماہ رنگ کے قدم پہنچے ہیں۔

ماہ رنگ کے قدم ان دشوار گزار راستوں اور ریت پر بھی ثبت ہیں جو راستہ دل سے ہوکر تمپ جاتا تھا جہاں پر بلوچ دھرتی نے اپنی سب سے خوبصورت کردار کو دفن کیا جس کردار کے لیے تو ابھی بلوچستان رویا ہی نہیں بلوچستان کو ابھی یقین ہی نہیں آیا کہ وہ جا چکی ہے جسے دیکھ کر بلوچستان جیتا تھا اور اب جس کے دفن ہونے کے بعد بلو چستان روتا ہے۔جسے سحر ہونا تھا جس پر سازشی ہاتھوں نے موت کا نقاب اُوڑ دیا ان راستوں پر بھی ماہ رنگ کے پیروں کے نشان ملتے ہیں کہ وہ وہاں بھی گئی دشوار راستوں سے ہوکر گئی جن راستوں پرماہ رنگ اور ماہ رنگ جیسی دوسری بیٹیاں تپتے دن اور اداس راتوں کے درمیاں گئیں اور اپنی محبوب ماں جیسی دوست کو امانتاًتمپ کی مٹی کے حوالے کیا اس واعدے کے ساتھ کہ
”جب دھرتی پرآزادی کا پہلا سورج طلوع ہوگا
ماں تمہیں لے جائیں گے!“
ماہ رنگ غالب کا یہ شعر ہے کہ
”فارغ نہ مجھے جان،کہ مانندِ صبح و مہر!“
ماہ رنگ نئے صبح کی نئی مہر ہے
ماہ رنگ چمکتا چاند ہے
ماہِ تمام ہے!
عشق کا دریا ہے
لہر لہرسوزانِ عشق ہے
”دھرتی کی دانھن ہے!“(فریاد)
ایسی دانھن جسے ابھی سب نے سننا ہے
پہاڑوں سے ہوکر میدانوں میں آنا ہے
اور پھر سب کی دلوں اور روحوں میں سماء جانا ہے
بلوچ دل اور بلوچ دھرتی کے دل اپنی بیٹی کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور بلوچ دل اور بلوچ دھرتی دعا گو ہے کہ وہ پیر ہمیشہ بلوچ دھرتی کے سینے پر رواں رہیں جو دردوں اور نا انصافیوں کے لیے اُٹھتے ہیں اور اعلان بن جاتے ہیں ایسے پیر جو تھکے ہوئے ہیں پر رکتے نہیں ایسے پیر جو زخمی ہیں پر رکتے نہیں ایسے پیر جو چھیوں چھیوں ہیں پر تھکتے نہیں،ایسے پیر جن پیروں میں لطیف کی جو تی پہنی ہوئی ہے
ایسے پیر جو دھول سے بھرے ہوئے ہیں
ایسے پیر جو سفروں سے پُر ہیں
ایسے پیر جن پیروں میں دردوں سے پُر جو تی پہنی ہوئی ہے
وہ پیردردوں سے شلِ ہیں
یہ لطیف کے پیروں جیسے پیر ہیں
کاش ان پیروں کی جو تی اُٹھانے کے لیے کہیں سے
کوئی تو تمر آئے
اور جب ماہ رنگ اس سے کہے میرے جوتیاں اُٹھاؤ
اور جوتیاں اُٹھاتے اس تمر جیسے فقیر سے اک آہ نکل جائے
اور وہ کہے ”بانک!ایسی بھا ری جوتیاں؟!“
اور ماہ رنگ کہے
”ان جوتیوں میں سفروں کے درد بھی تو ہیں!“
ماہ رنگ درد کے ساتھ ہنستی ہے،مسکرا تی ہے،آگے بڑھتی ہے اور جو کہنا ہوتا ہے کہہ دیتی ہے
کیوں کہ وہ جانتی ہے کہ اگر کچھ نہ کہا گیا تو خاموشی دامن سے چمٹ جائیگی
اور جب خاموشی دامنوں کو گھیرتی ہے تو دل اور آنکھیں بھی خاموش ہو جا تے ہیں.
اور خاموشی کے دنوں میں ماہ رنگ چیخ بن جا تی ہے
اور زوال کے دنوں میں کمال بن جا تی ہے
اور کہتی ہے
”آج مجھے کچھ یاد نہیں
زنداں کی فریادوں میں
بے بس من کی جگہ کہاں
مہکی مہکی یادوں میں
کل جو تمہا ری چوٹی میں
میں نے پھول لگایا تھا!“
ماہ رنگ!بلوچ دھرتی کا ماہِ تمام ہے
اور بلوچ دھرتی میں ایسے سمایا ہوا ہے
جیسے مہکی مہکی یادوں میں زرد پھول۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں