بلوچستان: سماجی کارکن اور استاد سمیت 4 افراد جبری طور پر لاپتہ

318

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے مختلف علاقوں سے مزید چار افراد جبری گمشدگی کے شکار بنے ہیں جن میں ایک سماجی کارکن اور ایک استاد شامل ہیں۔

بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ سے عرفان زہری نامی نوجوان دو روز قبل لاپتہ ہوئے ہیں، عرفان زہری ایک سماجی کارکن ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر بلوچستان سے تعلق رکھنے والے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے عرفان زہری کی لاپتہ ہونے پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی کارکنوں کے بعد سماجی کارکنوں کو بھی اب جبری گمشدگیوں کا شکار بنایا جارہا ہے۔

دریں اثناء کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ برما ہوٹل سے خضدار کا رہائشی شخص گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی اور دیگر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے برما ہوٹل میں ڈرائیوروں کے لیے مختص رہائشی کوارٹر سے استاد منیر رئیس ولد شکر خان سکنہ زہری خضدار کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا۔ استاد منیر رئیس مسافر وین چلاکر اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔

اسی طرح بلوچستان کے ضلع کیچ کے تحصیل بلیدہ میں سے بھی ایک نوجوان کو گرفتاری کے بعد لاپتہ کیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق سیکورٹی فورسز نے گھروں پر چھاپے مارے اور لوگوں کو بھی ہراساں کیا گیا جبکہ ندیم ولد ابراہیم سکنہ بلیدہ کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔

علاوہ ازیں جبری طور پر لاپتہ ایک شخص کی شناخت قادر زہری کے نام سے ہوئی ہے جو ایک استاد ہے اور ماڈل پبلک ہائی سکول کے نام سے ایک سکول چلاتے ہیں جبکہ خضدار کے تحصیل زہری میں ایک مفت ٹیوشن سینٹر قائم کرچکا ہے۔ ذرائع کے مطابق 17 ستمبر کو جب وہ ضلع قلات کے علاقے منگچر جارہے جہاں وہ بطور انجینئر ڈیم پر کام کررہے تھے کہ انہیں پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کردیا۔

علاقائی ذرائع کے مطابق انہیں سیکورٹی فورسز کی جانب سے دھمکیاں بھی ملی تھیں اور انہیں پوچھ گچھ کے لیے خضدار میں آرمی چھاؤنی میں بھی طلب کیا گیا تھا۔

قادر زہری کے جبری گمشدگی کے دن پاکستانی فورسز کی بڑی تعداد نے زہری میں اس کے اسکول کو کئی گھنٹوں تک گھیرے میں رکھا۔ عینی شاہدین کے مطابق جب فورسز اہلکاروں سے اسکول کو گھیرنے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا وہ “جی پی ایس سسٹم کو کیلیبریٹ کر رہے ہیں۔”

بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ دن بدن گھمبیر صورتحال کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔

بلوچستان کے سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لئے گذشتہ طویل عرصے سے کوششیں جاری ہیں اور ساتھ ہی کوئٹہ پریس کلب کے سامنے گذشتہ ایک دہائی سے ماما قدیر بلوچ اور نصر اللہ بلوچ کی سربراہی پرامن احتجاج بھی جاری ہے۔