بلوچستان تاریخ کے تناظر میں ۔ شاہ زیب بلوچ ایڈووکیٹ

166

بلوچستان تاریخ کے تناظر میں

تحریر:شاہ زیب بلوچ ایڈووکیٹ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ تمام اقوام کی ایک مسلسل کہانی اورحقائق کا ایک ایسا مجموعہ ہے جس سے ان کی آئندہ آنے والی نسلیں روشنی حاصل کرتی ہیں۔ یہ جہاں اقوام کو بعض تلخ واقعات کی یاد دلاکر اسے سوگوار بنا تی اور عبرت دلاتی ہیں، وہاں ایسی حسین اورقابل فخرلمحات کی یاد بھی تازہ کردیتے ہیں جن سے مستقبل کیلئے ان کی اُمیدوں کو آرزوؤں کا سہارا مل جاتاہے۔ کوئی بھی قوم جو سب سے زیادہ کسی چیز پر فخر کرسکتاہے تو وہ صرف اس کی تاریخ ہے جو اسے نئی طاقت اور توانائی فراہم کرنے کا حوصلہ دیتاہے۔ اور بلآخر ایک شکستہ دل قوم کو ذلت وگمنانی کے اندھیروں سے نکال کر ایک بار پھر شعوری راستوں پر گامزن کرکے فتح مند کرنے میں مدد دیتاہے۔

بلوچ قوم کو اپنے تاریخ سے جنون کی حد تک پیار ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہر پرآشوب حالات میں ماضی کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے سبق سیکھ کر وہ اپنے لئے نئے راستوں کا انتخاب کرتاہے۔ عہد قدیم سے ریاست ءِ قلات کی تشکیل تک بلوچ قوم کئی مرحلوں سے گزرا ہے، تاریخی شواہد میں بہت سارا نیا مواد منظرعام پر آ ئے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ اس دوران مختلف سماجی تبدلیاں وقوع پزیر ہوئی تھیں اورخاص طورپر”مہرگڑھ”نے تو گویا سمت ہی بدل ڈالی ہے جسے انسانی زندگی کے ارتقاء کا آغاز کہا جارہاہے۔ بلوچی تھیریم، وھیل مچھلی اور ڈائنو سار تک ڈیرہ بگٹی اوربارکھان کے وسیع جنگلات میں پایا جانابلوچ سرزمین اور اس خطے کی اہمیت کو مزید بڑھاتاہے۔ تاریخ ہمیشہ رواں رہتی ہے، جو کبھی رکتی نہیں، مڑتی نہیں اور خود کو دھراتی نہیں، اس لئے تاریخ ایک قومی ورثہ ہے جس کی حفاظت کرنا ہراس باشعور انسان کی زمہ داری ہے جو اپنے وجود سے محبت کرتا ہو اور تاریخی اہمیت کا ادراک رکھ سکتا ہو۔

بلوچ سرزمین معدنیات اوروسائل کے اعتبار سے امیر ترین اور جغرافیائی محل وقوع کے لحاظ سے اہم ترین خطہ ہے۔ بلوچوں کے سرزمین کو انگریزوں نے اپنی سامراجی مفادات کے تکمیل کیلئے اس کے دوحصوں کو ایران وافغانستان میں شامل کردیا تھا، جبکہ تیسرے حصے کو برطانوی نوآبادیات میں ضم کردیاتھا۔ تقسیم کا عمل یہیں نہ رکا، بلکہ برطانوی ہند کے تقسیم کے بعدپاکستان میں مقیم بلوچ آبادی اور اس خطے کو سندھ، پنجاب اورخیبرپختونخواہ میں بلوچ قومی منشاء کے برخلاف شامل کیا گیا تاکہ بلوچ قومی مرکزیت کو کمزور کرکے بلوچ سرزمین کے استحصال کو عملی شکل میں لایا جاسکے۔ بلوچستان کی شناخت بلوچوں کے حوالے سے ہی ہے لیکن انگریزی حکومت کی جانب سے “گنڈمک معاہدے” (26 مئی،1879 ؁)کے ذریعے حاصل کردہ افغان علاقوں کو بلوچستان میں شامل کئے جانے کے بعد پشتونوں کی بھی ایک بڑی تعداد کوموجودہ بلوچستان کا حصہ بنادیاگیا تاکہ ایک سازش کے تحت پشتونوں کی سرزمین کو تقسیم کرکے ان کے وسائل کی لوٹ مار ممکن بنائی جاسکے اور ہر طرح کی پشتون مزاحمت کو انگریزی استعماریت کے خلاف کمزور بنایاجاسکے۔ یہی صورتحال سندھ کے عوام کے ساتھ بھی کیاگیا تاکہ “موھن جادڑو” کے اصل وارثان وحقیقی باشندوں کو غلام بنا کر ان کی بالادستی کو ان کے سرزمین پر ہرممکن کمزور بنایا جاسکے۔ انگریز تو چلے گئے لیکن بلوچ، پشتون اورسندھیوں کے خلاف انگریزوں کا بھنا ہوا سازشی جھال آج بھی قائم ہے جو جبروتشدد کے ذریعے نہ صرف ان اقوام کو محکومیت کی طرف دھکیل دیا گیا ہے بلکہ بدترین نوآبادیاتی طرز پالیسیوں کے ذریعے ان کے سماجی، سیاسی و معاشی ترقی پر بھی قدغن لگادئیے گئے ہیں۔

بلوچستان کے تاریخ کا ایک مختصراً جائزہ لیا جائے تو اسے اپنی وسعت، وسائل، آبادی کی گنجائش اور محل وقوع کے باعث ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ اسی اہمیت کے باعث بلوچ سرزمین پر ہمہ وقت سامراجی نظریں گھڑی رہیں ہیں اور اس کی یہی حیثیت بلوچوں کیلئے عروج وزوال کا سبب بنا ہے۔ اس وسیع وعریض خطے کی سیاسی اہمیت اور حیثیت اب بھی باقی ہے البتہ اس کی شناخت کوبھی پوری طرح سے بدلنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔جس کے لئے بلوچ کے سماجی ڈھانچے کو زیر عتاب لانے کیلئے مختلف منفی ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ہیں جو آج بھی اثرانداز ہیں اور سامراجی عزائم کو تقویت پہنچارہے ہیں۔ اس خطے کی تاریخ کے مطالعے سے ایک بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ بلوچ بحیثیت ایک قوم سے زیادہ درحقیقت بلوچوں کے مختلف قبائل کی ہی تاریخ رہی ہے اور اسی حیثیت سے آگے بڑھتی رہی ہے۔ گوکہ موجودہ حالات میں قبائلی نظام کی وہ حیثیت اس طرح سے نہیں ہے جس طرح دودہائیوں پہلے تک تھا، لیکن اس کے اثرات اب تک تھوڑی بہت موجود ہیں جسے نوآبادیاتی پالیسیوں کو زندہ رکھنے کیلئے بلو چ قبائل کے حقیقی سر براہان کو نظر انداز کر کے اپنے مقرر کردہ یا خود ساختہ میر،معتبر، ٹکری، سردار اور نواب کے عنوان کو استعمال کر تے ہوئے نظام کو قائم رکھاگیاہے اور خان نوری نصیر خان احمدزئی بلوچ کے قبائلی نظام کے بنیادی اصول سے بلوچ قوم کو منحرف کرکے سنڈیمن کے تشکیل کردہ قبائلی نظام کے ذریعے نوآبادیاتی پالیسیوں کی تکمیل کیلئے استعمال میں لایاجارہاہے۔ ایشیائی امور کے ایک مشہور امریکی دانشور Selg S. Harrison اپنے مقالے “Nightmare in Balochistan” پر بلوچستان کی تاریخی پس منظر کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں:۔
” بلوچستان میں بکھری ہوئی اورمنشر گروہی معاشرت کے باوجود دولاکھ سات ہزار مربع میل سے زائد علاقے پر محیط ایک متحد اور ایک رنگ ثقافت اور تہذیبی سماج کا غلبہ موجود رہا جو کہ مشرق میں دریائے سندھ سے اور مغرب میں ایران کے صوبے کرمان تک پھیلا ہوا تھا۔ تاہم انگریزوں نے متحارب بلوچ سرداروں کو ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار کرکے بلآخر بلوچ خطے کو چار حصوں میں تقسیم کردیا۔ مغرب بعید میں “گولڈ اسمتھ لائن” کے ذریعے تقریباً ایک تہائی علاقہ ایران کو مل گیا۔ شمال میں “ڈیورنڈ لائن”کے ذریعے ایک حصہ افغانستان کو مل گیا اور برطانوی ھند جہاں بلوچوں کی اکثریت آباد تھی ان کو براہ راست انگریز انتظام کے تحت علاقہ برٹش بلوچستان اور برائے نام آزاد ریاست ءِ قلات میں تقسیم کردیاگیا۔”

تاریخ شاہد ہے کہ بلوچ سرزمین جو سربفلک اوردشوار گزار کوہستانوں، سرسبز شاداب وادیوں، صحراؤں اور زرخیز میدانوں کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہیں، ہمارے آباؤاجداد کا اور ہمارا پاک وطن ہے جسے دنیا بلوچستان کے نام سے پکارتی ہے۔ البتہ زمانے کے نشیب وفراز، عالمگیر حملہ آوروں کی تگ و تاز اور سکندراعظم، چنگیز خان،تیمور اور نادرشاہ جیسے فاتحین کے پرآشوب ادوار میں بلوچ سرزمین کی حدود میں تغیر وتبدیلی ہوتا رہاہے اور بسااوقات عارضی طورپر اس کے چھوٹے بڑے حصے دوسری مملکتوں میں شامل کئے جاتے رہیں ہیں، لیکن اس پرا من حیثیت القوم بلوچوں کے مالکانہ حقوق ہمیشہ قائم رہے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب کبھی سازگار حالات نے رہنمائی کی ہے تو بلوچ دشمنوں کے خلاف اپنے منتشر شیرازہ کو مربوط ومستحکم کرنے کیلئے کامیاب جدوجہد کرتے رہے ہیں۔ میرمیرو خان میر وانی، میر گوہرام خان لاشاری، میر چاکر خان رند، میر احمد یا ر خان قمبرانی بلو چ، میر عبد اللہ احمد زئی بلو چ، حمل و جیند، دوداو بالا چ اور ایسے ہزاروں، لاکھوں بہا دروں کی بے پنا ہ قر بانیوں نے بلو چ وطن کو متحد رکھنے میں نما یا ں کر دار ادا کیا ہے، جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کر ے گی۔ سرزمین بلوچ جسے آج کل کے نقشوں میں بلوچستان کے نام سے دکھلا یا جاتاہے، یہ درحقیقت بلوچستان کا وہ حصہ ہے جسے بلوچ قوم کی گذشتہ، پنج صد سالہ تاریخ میں مرکزیت کا شرف حاصل رہاہے مگر یہ پورا بلوچستان نہیں بلکہ اسے برطانوی حکومت نے اپنے سامراجی مقاصد کے حصول کیلئے اس کے حصے بخرے کرنے کے بعد پشتون آبا دی پر مشتمل علا قوں کے ساتھ ساتھ کوہلو، ڈیرہ بگٹی، سبی، کوئٹہ (شال) جھٹ پھٹ، اور چا غی جو کہ بلو چ آبا دی ہیں تک کے علا قوں کو برٹش بلوچستان کا نام دے دیا گیا تھا جس کا انتظامی ڈھانچہ چیف کمشنر کے ماتحت تھا جو کہ برطا نیہ حکو مت کا نما ئندہ تھا، اوربقیہ بلو چ آبا دی پر مشتمل علا قوں کو ریا ست قلا ت کے ما تحت رکھا گیا تھا، لیکن ریا ست قلا ت ابھی بھی مکمل آزا د نہ تھا بلکہ بر طانوی نو آبادیا ت کے رحم کر م پر تھے۔ بعد ازاں ریاستی بلوچستان (قلات ریاست) اور برٹش بلو چستان جو 1971ء میں ون یونٹ ٹوٹنے کے بعد صوبہ بلوچستان کے نام سے منسوب ہونے لگا، جو باقاعدہ بلوچ اور پشتون آبادی پرمشتمل ایک مشترکہ انتظامی یو نٹ کی شکل اختیارکرگیا اور کوئٹہ کے گردنواح میں افغانستان سے ہزارہ قوم کی نقل مکانی کا سلسلہ جو انگریزی سامراج (بریگیڈئیر جنر ل ڈائر)کے عزائم کا حصہ تھا تاکہ ان کی آبادکاری کروا کے مضمو م مقاصد حا صل کئے جا سکیں اور مذہبی فر قہ واریت و لیسانیت کی بنیا د پر تفریق پیدا کی جاسکے جو اب با قا عدہ انگر یزو ں کے چلے جا نے کے بعد پچھلے دو دہائیو ں سے عملی شکل میں شد ت سے نظر آرہا ہے۔

بلوچوں کو اپنی قومی روایات سے جو والہانہ محبت اور وابستگی رہی ہے اس کی ایک زندہ مثال پانچ سو سال سے سینہ بہ سینہ چلے آنی والی وہ بیسیوں رزمیہ اشعار ہیں جن میں بلوچ قوم کی قبائلی تاریخ پوشیدہ ہے جو اب تک بڑے شوق سے گائے اور سنے جاتے ہیں۔ پندرہویں صدی عیسوی کے اوائل سے انگریزوں کے دورحکومت تک، قلات کی بلوچی حکومت کو جو مرکزیت حاصل تھی وہ بلوچوں کی اس مرکزی اور اس کے زیر اثر علاقوں کے قبائلی و سیاسی حالات اور واقعات کی ایک ایسی جھلک پیش کرتی ہے جسے ہم الفاظ کے وسیع معنوں میں بلوچ قوم اوربلوچستان کی تاریخ کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ گذشتہ پانچ سو سال سے بلوچ قوم کی تاریخ بلاشبہ قلات کی مرکزی حکومت کے گرد گھومتی رہی ہے۔

انگریزی حکومت کے اس پرآشوب دور میں خانءِ قلات اور ان کے ساتھ براہ راست متعلق قبائلی سرداروں کے درمیان طویل خانہ جنگی جو اگرچہ قبائلیت سے قومیت کی طرف جدوجہد کی ابتدا تھی جو خان محراب خان احمدزئی بلوچ(1839؁ء) سے لے کر نواب خان محمد زہری اور نورا مینگل (1915-1922) کے شہادت تک انگریزی سامراج کے خلاف عسکری مزاحمت کے شکل میں قائم تھا۔ بلوچستان کے تاریخ میں پہلی مرتبہ انگریزی سامراجیت سے نجات پانے کیلئے نوابزادہ یوسف عزیز مگسی اورمیرعبدالعزیز کرد کے سربراہی میں بلوچ قوم کے مزاحمت کو سائنسی اور جدید سیاسی فلسفوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے پہلی قوم پرست سیاسی جماعت”انجمن اتحاد ءِ بلوچاں ” تشکیل دی گئی، جسے بعد میں ” قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی”کا نام دیا گیا، جس کا مقصد بلوچ قوم کو خالصتاً قبائل، رنگ و نسل، زبان و فرقوں سے بالاتر ہوکر برابری کی بنیاد پر انگریز سامراجیت کے خلاف ایک مشترکہ پلیٹ فارم میں جمع کرنا تھا اسی وجہ سے نوابزادہ یوسف عزیز مگسی اور میرعبدالعزیز کرد کو دورء ِ جدید بلوچ قوم پرستی کے بانیوں میں شمار کیئے جاتے ہیں۔ آج بلوچ قوم مختلف سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں، مزدور وکسان یونینوں کے شکل میں اپنے سیاسی وجمہوری حقوق کیلئے جدوجہد کررہے ہیں وہ انہیں باشعور سیاسی بانیوں کے مرہون منت ہیں، جنہوں نے بلوچ قوم کو جمہوری و لبرل طریقوں سے متعارف کراکر بلوچ سیاسی کارکنان کو حوصلہ دیا کہ وہ بلوچ سرزمین کے دفاع کیلئے اپنی توانائیاں قلم وکاغذ کے ذریعے بھی مزید مؤثرانداز میں بروئے کار لاسکتے ہیں۔

بلوچ قوم جہاں ایک طرف سیاسی طرز سے منظم ہورہاتھا تو دوسری طرف انگریزی سامراج کی ہرممکن کوششیں تھیں کہ بلوچ قوم کو تنگ نظری، جہالت، پسماندگی اور غربت کے دلدل میں قبائلیت کو آلہٰ ہتھیار بنا کر دھنساتا چلاجائے اور اس کے لئے انگریزی حکومت نے قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی کو غیر قانونی قرار دیا، لیکن اس کے باوجود انگریزی سامراجی ہتھکنڈوں کا اثر بلوچ قوم پر نہ ہوا اور 1947؁ء کے اوائل میں قلات پارلیمانی انتخابات عمل میں آئے اورقلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی جو اگرچہ اب تک خلاف قانون جماعت تھی، بالواسطہ اس کے ممبران نے انفرادی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لیا اور “دارالعوام “میں اکاون (51) کے کل ہاؤس میں انتالیس (39)نشستوں پر قبضہ کرکے حکومت ءِ قلات اور سرداروں کو حیرت میں ڈال دیا۔ بلو چ قوم کی ریاست قلات کے دور میں “قلات اسٹیٹ نیشنل پارٹی”کی ہر دلعزیزی کا اس سے بڑھ کر کوئی ثبوت نہیں ہوسکا۔ دوسری جنگ عظیم جنگ جہاں شدت اختیا ر کر رہی تھی وہیں دوسری جانب عالمی جنگ کے اخراجات کے باعث برطانیہ معاشی طورپر کمزور ہوتا جارہا تھا اور اس کے لئے مزید ممکن نہ تھا کہ وہ اپنے نوآبادیات کو برقرار رکھ سکیں، اس لئے برطانوی سامراج نے فیصلہ کیا کہ وہ برطانوی ہند کو آزاد یا تقسیم کرے گا، جس پر ہندوستان اورپاکستان کے شکل میں دو الگ ریاستوں کا جنم ہوا جبکہ میانمار (برما 04 جنو ری، 1948 ؁)، سری لنکا (04 فروری، 1948؁)، بھوٹان(08 اگست، 1949؁) اور ریاست ءِ قلات کی آزاد حیثیت کو 1947ء میں بحال کردیا گیا۔

11اگست 1947؁ء کو “بروز جمعہ” خان میر احمد یارخان احمدزئی بلوچ نے قلات ریاست کی مکمل آزادی کا اعلان کردیا اور آزاد قلات ریاست کا جھنڈا بھی لہرایا گیا اروبعداز نماز جمعہ یوم آزادی کے مناسبت سے باشندگان ءِ قلات سے خطاب کرتے ہوئے خان میراحمد یار خان احمدزئی بلوچ (والئی ریاست قلات) نے کہا کہ “خدا کے فضل و کرم سے آج ہمارا ملک آزاد ہے اور میں آزادی سے اپنے نظریات آپ کے سامنے پیش کرسکتاہوں ” مزید کہتے ہیں کہ ” اس بلوچ سرزمین کو جس کی سرحدیں ایک طرف افغانستان اور دوسری طرف ایران، تیسری طرف ہندوستان اور چوتھی طرف سمندر سے ملی ہوئی ہیں اور جس پر ہماری قوم نے پانچ سو سال سے اپنی بلوچی حکومت قائم کی ہوئی تھی” خطبے کے آخری الفاظ میں کہتے ہیں کہ ” بلوچ قوم کو متحد کرکے ایک مرکز پر جمع کیا جائے۔ جہاں اس آزادی پسند اورمستعد د قوم کی اپنی حکومت اور جداگانہ نظام ہوگا تاکہ یہ قوم بھی دنیا کی آزاد قوموں کی طرح ترقی کے منازل طے کرکے ایک متحد، ترقی یافتہ اورآبرومندانہ قوم بنے اور کہلائے” (حوالہ تاریخ بلوچستان۔ میرگل خان نصیرمینگل)
خان میر احمد یارخان احمدزئی بلوچ کو قلات کی آزادی کا اعلان کئے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں گذرے تھے کہ پاکستان کی نئی مملکت کے پہلے گورنر جنرل محمد علی جناح نے قلات ریاست کو پاکستان میں ضم کرنے کیلئے بضد ہوگئے۔ چنانچہ میراحمد یارخان احمد زئی بلوچ نے اس وقت الحاق سے متعلق اپنے سرداروں سے مشورہ کرنے اور بلوچ قوم کی رائے معلوم کرنے کے خاطر اس وقت کے بلوچ قومی ریاست قلات کے منتخب شدہ دارالعوام کے ممبران اوربلوچ سرداروں پر مبنی دارالعمراء کے سامنے الحاق نامے کے معاملے کو ان کے سامنے رکھا جس پر دونوں ایوانوں نے ریاست قلات کی الحاق کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ محمد علی جناح کے الحاق نامے کے پیشکش کو بلوچ قوم کے ساتھ اس کی آزاد حیثیت کو ختم کرکے غلامی کی طرف دھکیلنے کے مترادف کہتے ہوئے بھاری اکثریت سے مسترد کیا۔

الحاق نامے کو عملی شکل میں لانے کیلئے اور قلات ریاست کو کمزور کرنے کیلئے باقاعدہ 17مارچ1948ء کو والیان ریاست خاران، مکران، لسبیلہ (جو کہ قلات ریاست کے ماتحت تھے) کو پاکستان میں شامل کرنے کا اعلان کیاگیا، جبکہ بلوچ دیوان ء خاص وعام کے الحاق نامے کے سوال پر ایک واضح جواب کے باوجود والئی ریاست ء ِ قلات میر احمد یار خان احمدزئی بلوچ نے دونوں ایوانوں کے قراردادوں کو پاؤں تلے روندتے ہوئے 27مارچ1948؁ء میں قلات ریاست کو پاکستان کے ساتھ شامل کرکے الحاق نامے کے معاہدے پر گورنرجنرل محمد علی جناح کے دستخط لئے جس پر واضح طورپر مشترکہ ہم آہنگی سے یہ طے پایاگیا تھا کہ “پاکستان کے ساتھ الحاق صرف دفاع”،” امورخارجہ” اور “رسل ورسائل” کے متعلق ہوگا۔ اس معاہدے کے اندر مزید لکھا گیا ہے کہ الحاق کے بعد پاکستان ہماری حفاظت کرے گا۔ قلات جس طرح برطانوی حکومت کا حصہ تھا، اسی طرح پاکستان کا حصہ ہوگا۔ پاکستان متذکرہ تین امور میں حکم دے گا۔ لیکن باقیوں میں قلات کو پوری آزادی حاصل ہوگی”۔

جس طرح ایران و افغانستان کی جداتہذیب وقومیت ہے اسی طرح بلوچوں کی بھی جداگانہ تہذیب، تمدن وقومیت اپنی جگہ قائم ہے۔ لیکن بدقسمتی سے بلوچ قوم کے ساتھ جبر، تشدد ومحکومیت کی داستان جو انگریزی سامراج سے شروع ہوئی تھی وہ آج بھی جاری ہے۔ جہاں ایک طرف اس کے آزادی کو پاؤں تلے روند کر 27مارچ1948ء کے الحاق نامے کے ذریعے ایک مستقل غلامی کا طوق بنا کر بلوچ قوم کے گلے میں ڈال دیا گیا، وہیں دوسری طرف دھوکہ وفریب کرکے الحاق نامے کے معاہدے کو قرار داد مقاصد1949؁ء سمیت 1956؁ء، 1962، اور 1973؁ء کے آئین پاکستان میں شامل نہ کرکے بلوچ قوم کو گمراہی، پسماندگی و محکومی کے اندھیروں میں بھٹکاتے رہیں ہیں اوربدترین طرز کا نوآبادیاتی تسلط بلوچ قوم کے سائل ووسائل پرقائم رکھاگیاہے، جس کے خلاف بلوچ قوم مکمل سیاسی مزاحمت کا راستہ ہموار کرتے ہوئے بلوچ قومی حق خودارادیت وحاکمیت کی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شہزادہ عبدالکریم احمدزئی بلوچ کی بغاوت سے لے کر نواب اکبرخان بگٹی کی شہادت تک بلوچ قوم پانچ عسکری طرز پر مزاحمت کے عمل سے گزرے ہیں جو ہنوز جاری ہے، لیکن متوازی طورپربلوچ قوم کے اندر ایک سیاسی طبقہ بھی موجود ہے جو مکمل جمہوری طرز پر اپنی بلوچ قومی شناخت اوربالادستی کی بحالی کیلئے سائنسی، جمہوری اورلبرل رویہ اختیار کرتے ہوئے جدوجہد پرگامزن ہیں تاکہ بلوچ قوم کو ہر طرح کے شعبدہ بازوں، موقع پرستوں، منافقانہ رویوں اور کھوکھلے نعروں سے پاک کرکے ایک واضح ہدف”بلوچ قومی حاکمیت وخودارادیت”کی طرف گامزن کرکے بلوچ تاریخ، ثقافت، تہذیب، روایات، سائل ووسائل کی حفاظت ممکن بناسکیں؛ یہاں واضح کر تا چلوں کہ بلو چ وانندہ گل (بلو چ اسٹو ڈنٹس آرگنا ئزیشن) نے اپنے وجو د سے لیکر آج تک تسلسل کے ساتھ چھ دھا ئیوں سے زائد عرصے میں ایک طویل جو د جہد کے ذریعے بلوچ سر زمین میں بہترین (کیڈر سازی) کلیدی لو گو ں کا سیا سی گروہ پیدا کر نے میں ایک بنیا دی کر دار ادا کیا ہے، جسے نظر انداز کر نا بلو چستان کے تاریخی پس منظر کو نا مکمل بیان کر نے کے مترادف ہو گا۔ لہٰذا یہ کہنا صحیح ہے کہ قلا ت اسیٹیٹ نیشنل پا رٹی کے بیج کو بلو چ وانندہ گل (بلو چ اسٹوڈنٹس آرگنا ئزیشن)نے مستقل جد وجہد و قربا نیوں کے ذریعے بلو چ قوم کے اند ر بہترین سیا ست دان، دانشور اور ادب سے منسلک مفکر ین پیدا کر کے ایک تنا ور درخت بنا دیا۔ بلو چستان کے تاریخ کو ایک مضمو ن میں بیان کر نا ممکن نہین ہے، لیکن مختصراً اس تنا ظر کو بیان کر نے کا مقصد صرف ماضی کے یا دوں کو زندہ رکھنا ہے، تاکہ ہماری مو جو دہ نسل کو با ٓور کرا یا جائے کہ بلو چ وطن کی تاریخ نہایت خو بصورت اور شاندار ہے، اور خو د کو شعوری طو ر پر اس طر ح اجا گر کر یں،جس طر ح انکے اسلا ف عملی جہد کے ذریعے کیا کر تے تھے۔ موجودہ بالادست ریاستی حکمرانوں نے بھی انگریزی سامراج کے طرز پر بلوچ سیاسی حلقوں کے خلاف متعدد ناکام منصوبے اور ہتھکنڈے اختیار کئے ہوئے ہیں لیکن آج بھی سیاسی عمل بلوچستان کے ہر گلی کوچوں میں زندہ ہے جسے کبھی ختم نہیں کیاجاسکتا، کیو نکہ بلو چ سر زین بانجھ نہیں ہے، اور یہ اپنے دفا ع کیلئے بلو چ سو ر ماوں کو پیدا کر تی رہے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں