ڈاڈا ئے بلوچستان شہید نواب اکبر خان بگٹی ۔ جی آر مری بلوچ

161

ڈاڈا ئے بلوچستان شہید نواب اکبر خان بگٹی

تحریر:جی آر مری بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

شہید نواب اکبر خان بگٹی جنہوں نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں مختلف کردار ادا کرنے کے بعد شہادت کی موت کا انتخاب کرکے شہادت کا عظیم رتبہ حاصل کیا اور بلوچ قوم کیلئےایک تاریخ رقم کی۔ ان کی یاد کو زندہ رکھنا بلوچ قوم کیلئے فرض بن گیا، وہ سامراج کے خلاف اپنی زندگی، اپنی قومی عزت و وقار کے تحفظ کی لڑائی لڑتے لڑتے 26 اگست 2006 کو جام شہادت نوش کرگئے۔

شہید محمد اکبر خان بگٹی 12 جولائی 1927 بروز منگل کو نواب محراب خان کے ہاں بلوچستان کے شہر بارکھان میں پیدا ہوئے، اس کا خاندانی نام اس کے دادا شہباز خان پر رکھا گیا لیکن وہ اپنے دوسرے نام سے زیادہ مشہور ہوا، اس کے والد نے اپنی زندگی ہی میں تعلیم و تربیت کے لیے اُسے سندھ کے معروف اسکالر علامہ آئی آئی قاضی کے سپرد کر دیا تھا۔ آپ نے بنیادی تعلیم اپنے آبائی علاقے ڈیرہ بگٹی سے حاصل کی اور بعد میں لاہور ایچی سن کالج میں داخلہ لیا اور آپ نے اعلیٰ تعلیم لندن کے آکسفورڈ یونیورسٹی سے حاصل کی۔

اکبر خان کی عمر صرف بارہ برس کی تھی کہ اس کے والد کا انتقال ہوگیا جنوری 1940 کو نواب محراب خان کی تدفین کے بعد ڈیرہ بگٹی میں قبیلے نے دستار سرداری اس کے سر پر باندھ دی اس کی صغیر سنی کے باعث اس کے والد کے ایک کزن میر جمال خان کو اس کا سربراہ مقرر کیا گیا اس دوران وہ ایچی سن کالج لاہور میں زیر تعلیم تھا بالآخر 1946 کو جب اکبر خان کی عمر اٹھارہ سال ہوگئی تو انگریز حکومت نے جمال خان کو سربراہی سے فارغ کرکے قبیلہ کی سرداری کے فرائض اور اختیارت سردار محمد اکبر خان بگٹی کے سپرد کردیئے۔ اکبر بگٹی اپنے قبیلے کے انیسویں سردار تھے۔

نواب اکبر خان بگٹی نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ایک روایتی سردار کے انداز میں کیا انگریز حاکموں کے ساتھ مکمل معاونت بعد پاکستانی حکومت کے افسران کے ساتھ بھی ان کی معاونت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1948 میں بلوچستان کا پاکستان کے ساتھ الحاق کے معاہدے کے ریفرنڈم میں بھی آپ نے اہم کردار ادا کیا جس میں کئی بلوچ سیاسی رہنماء آپ کے مخالف تھے اور جب 1951 کو بلوچستان کے بارے میں حکومت پاکستان نے بلوچستان کے ایجنٹ گورنر جنرل کے لیے ایک مشاورتی کونسل تشکیل دی تو نواب اکبر خان بگٹی کو بھی اس کے ایک کارکن کی حیثیت میں نامزد کیا گیا اور ان کو ایک جی جی ایڈوائزر مقرر کر دیا گیا۔

جس کے بعد اسمبلی میں بلوچستان کی نشست کے لیے جب پاکستانی حکمرانوں نے ڈاکٹر خان کو جس کا یہاں سے کوئی تعلق نہیں تھا نامزد کیا تو نواب بگٹی نے اس کا مقابلہ کیا مگر ایک ووٹ سے ناکام ہوئے اس سے ایک بات ضرور ظاہر ہوتی ہے کہ بلوچستان کے ضمن میں پاکستانی حکمرانوں کا رویہ شروع ہی سے مخاصمانہ ہے خیر جب دہلی کے نہر والی حویلی کا پیدائشی شخص پاکستان کا حکمران بن سکتا ہے ایک امریکی کو واشنگٹن سے بُلاکر پاکستان کا وزیراعظم بنایا جا سکتا ہے امریکی نائب صدر جو بائیڈن کے حکم پر محترمہ بینظیر بھٹو اور جناب آصف زرداری کو محض ایک حکم نامے کے ذریعے تمام تر بدعنوانی اور کرپشن کے مقدمات سے معافی دلا کر ملک کی حکمرانی سونپی جاسکتی ہے جس کا اعتراف خود وزیراعظم گیلانی نے کرتے ہوئے کہا کہ اس کے صلے میں مسٹر بائیڈن کو پاکستان کا اعلیٰ ترین تمغہ بھی دیا تھا۔

لکنھو کا ایک بانکا کچھ عرصہ پاکستان میں گذار کر برطانیہ شہریت اختیار کرنے کے باوجود پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو آکر خون میں نہلا سکتا ہے تو بلوچستان پر کسی غیر بلوچستانی کو مسلط کرنا کون سی بڑی بات تھی، 1956ء کے آئین کے تحت ہی نواب خیر بخش مری اور سردار عطااللہ مینگل مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے نواب اکبر خان بگٹی بعد میں سر فیروز خان کی وفاق کی کابینہ میں بحثیت وزیر داخلہ مملکت اور وفاقی وزیر بھی رہے تا آنکہ جنرل ایوب خان پاکستان کو فتح کرکے اس کے پورے آئینی ڈھانچے کومنہدم نہیں کیا۔

اکتوبر 1969ء کو حاجی ہیبت خان بگٹی کے قتل کے الزام میں ایک فوجی عدالت سے سزائے موت کی سزا سنائی گئی بعد میں حاجی ہیبت خان کے فرزند اور نواب بگٹی کے بہنوئی حاجی میر حسن بگٹی سے صلح صفائی کے بعد نواب اکبر خان کو جیل سے رہائی ملی دسمبر 1970ء کے انتخابات کے بعد ہی بلوچی قومی قیادت کے اندر اختلافات پیدا ہو چکے تھے جن کے نتیجے میں نواب اکبر خان بگٹی صف سے الگ کیے جا چکے تھے۔

مئی 1972ء میں بلوچستان میں نئی حکومت کے قیام تک صدر بھٹو نواب بگٹی کو نیپ سے مکمل الگ کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا دوریوں نے تلخیوں کا شکار اختیار کرلی اسی فضا میں بھٹو صاحب نے 14 فروری 1978ء کو نواب اکبر خان بگٹی کو بلوچستان کا گورنر مقرر کرکے سردار مینگل کی حکومت کو برطرف کر دیا اس کے بعد قیام پاکستان کے بعد سے مستقل سرکاری تعاونیات جام غلام قادر کو اس طرح وزیراعلی بنایا گیا جب 21 رکنی اسمبلی میں اسے محض سات ارکان کی حمایت حاصل تھی بلکہ کچھ عرصے کے بعد نواب بگٹی نے بھٹو کے کھیل سے علیحدگی اختیار کرلی لیکن اس کے دور میں بلوچستان میں جس فوجی آپریشن کا آغاز ہوا وہ جولائی 1977 تک زور و شور سے جاری رہا۔

پھر آپ نے ایک ایسے رہنماء کے پارٹی میں شمولیت کی جو کُھلم کُھلا کہتا تھا کہ میں بھٹو کو کوہالہ کے پُل پر پھانسی دونگا اس طرح نواب بگٹی ائیرمارشل ء اصغر خان کی تحریک استقلال کا حصہ بنا اور صوبائی سیاست کرنے لگا۔ 1988ء کے انتخابات میں اکبر بگٹی نے کوہلو کی نشست کو جیتا اور وہ کوہلو کے ایم پی اے منتخب ہوئے جبکہ ڈیرہ بگٹی کی قومی اسمبلی کی سیٹ انکے صاحبزادے سلیم اکبر بگٹی نے جیت کر ایم این اے منتخب ہوئے۔ پھر اکبر بگٹی 5 فروری 1989ء سے 7 اگست 1990ء تک بلوچستان کے وزیر اعلیٰ رہے۔ پھر 16 اگست 1990ء کو کوئٹہ میں نواب بگٹی نے ایک جماعت کی بنیاد رکھی جسکا نام جمہوری وطن پارٹی مقرر ہوا۔

نواب اکبر خان بگٹی نے قومی اسمبلی کی الیکشن 1993ء میں لڑی اور ایم این اے بن کر آپ نے پارلیمنٹ میں اردو زبان کا مکمل طور پر احتجاجاََ بائیکاٹ کردیا اور آپ انگریزی یا بلوچی بولا کرتے تھے۔

1997ء کے جنرل الیکشن میں نواب اکبر بگٹی نے ڈیرہ بگٹی کے حلقے سے پختوانخوا ملی عوامی پارٹی کے امیدوار نواب ایاز خان کو شکست دی اور دوبارہ ایم این اے منتخب ہوئے۔نواب اکبر بگٹی نے تین شادیاں کی، کہا جاتا ہے انکی ایک بیوی بگٹی بلوچ، دوسری پٹھان اور تیسری سندھی تھی۔ اکبر بگٹی کے دوست ان سے کہا کرتے تھے کہ آپ کو چوتھی شادی پنجابی سے کرنی چاہیے جسے نواب صاحب ہنس کر ٹال دیا کرتے تھے۔

اکبر بگٹی کے بیٹوں کا نام سلیم اکبر بگٹی، ریحان اکبر بگٹی،طلال اکبر بگٹی، ثلال اکبر بگٹی اور جمیل اکبر بگٹی ہیں۔

بھٹو نے شہنشاہ ایران کے ساتھ ملکر بلوچ قومی مزاحمت کو مکمل طور پر ختم کرنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا وزارت اعلی کے دور میں نواب بگٹی نے جس طرح بلوچستان کے حقوق کی آواز بلند کی تھی وہ مقتدر حلقوں کو قطعی پسند نہیں آیا اور اس کا خمیازہ انہیں اپنے بیٹے سلال بگٹی کی شہادت کی صورت میں ملا لیکن اس کے باوجود وہ بلوچستان کے حقوق اور جنگ لڑتے رہے اس دوران اغیار کے علاوہ ان کو اپنوں کی جانب سے بھی مشکلات کا شکار ہونا پڑا حتی کہ 1996ء میں اسمبلیوں کی برخاستگی کے بعد ملک میں عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوا۔

فروری 1989ء کو جب نواب بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت قائم ہوئی تو میر غوث بخش بزنجو مخالفین کی صفوں میں شامل تھے نواب بگٹی، نواب مری اور بزنجو کی پارٹییاں صوبے میں متحد اور متفق ہوچکی تھیں لیکن جلد ہی یہ چھوٹے مفادات کی بھینٹ چڑھ گئی۔

12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے اپنے کمانڈر ایکشن کے ذریعے پوری بساط کو لپیٹ دی گئی اس کارروائی کی پاکستانی سیاست دانوں کی جانب سے بہت کم مخالفت ہوئی بلکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد محترمہ بینظیر بھٹو نے تو مذکورہ فوجی قبضہ کی تعریف کی دوسرے سیاستدانوں کی طرح نواب بگٹی بھی خاموش بیٹھے رہے آئین من پسند شخصی ترمیمات کے ساتھ جب اس نے اکتوبر 2002ء کو بھونڈے انتخابات کا اعلان کیا تو جمہوری وطن پارٹی نے بھی ان میں حصہ لیا لیکن اس کی کارکردگی مایوس کن رہی۔

اس وقت تک بھی نواب بگٹی جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے اتنے مخالف نہیں تھے اور انہیں فوجی ڈکٹیٹر کے نامزد کردہ وزیراعلی جام یوسف کی حمایت کی لیکن وہ بلوچستان کے حقوق کی آواز ضرور بلند کرتا رہا اس عرصے کے دوران انہوں نے کبھی بھی اپنے آپ کو قوم پرست نہیں کہا بلکہ وہ اکثر و بیشتر اپنے اخباری بیانات اور انٹرویوز میں قوم پرستوں اور قوم پرستی کا تذکرہ طنزیہ انداز میں کرتے تھے۔

وہ پاکستان کے ریاستی ڈھانچہ کے اندر خودمختاری کی بات کرتے تھے حقیقت یہ تھی کہ جب پرویز مشرف ملک کے تمام تر امور ضلع اور تحصیل کے معاملات بھی اپنی وردی والی مرکزیت کی تحویل میں لاتے رہے اسی وجہ سے سیاست سے ان کی جدوجہد کا رخ بدلتا رہا جوں جوں ان کے پوتے نوابزادہ براہمداغ بگٹی کی قربتیں نوابزادہ بالاچ مری سے بڑھتی رہی تو وہ مسلح مزاحمت کی سوچ کے قریب تر ہوتے گئے۔

جنوری 2005 کو سوئی میں ڈاکٹر شازیہ سیمن کیس نے اس ضمن میں اہم کردار ادا کیا ان کے علاقے میں اتنا سنگین جرم سرزد ہوا جس سے پورے بلوچستان میں آگ لگ گئی جس کی وجہ سے ڈیرہ بگٹی میں حالات کافی کشیدہ ہوئے۔ اکبر بگٹی کا یہ دعوی تھا کے کیپٹن حماد کی زیرِ نگرانی میں تین فوجیوں نے پوری رات شازیہ سیمن کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔اس کیس کے بعد اکبر بگٹی کا بیان سامنے آیا کہ “شازیہ بلوچ قوم کی مہمان ہے اور اگر ہم اپنے مہمانوں کی حفاظت نہیں کرسکتے تو یقین مانیں ہم اپنے بچیوں کی بھی حفاظت نہیں کرسکتے” لیکن کسی تحقیق اور تفتیش اور عدالت کے بجائے جنرل موصوف نے اپنے بندوں کو مکمل طور پر محفوظ رکھا الٹا ڈاکٹر شازیہ کو ملک بدر کر دیا گیا اس سلسلے میں 17 مارچ 2005 کو ڈیرہ بگٹی ٹاؤن پر فورسز نے حملہ کر دیا جس میں 70 افراد جن میں بیشتر بچے خواتین اور بوڑھے شامل تھے شہید ہوئے تھے اور پھر 30 دسمبر 2005 کو بلآخر جنرل پرویز مشرف نے اپنی اسی دھمکی پر عمل درآمد کیا کہ وہ بلوچ قوم پرستوں کو ایسے ہتھیاروں سے پھڑکا دیں گے کہ ان کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ ان کو کیاہٹ ہوا ہے اور کس جانب سےہٹ کیا گیا ہے۔

یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا اس عمل میں نواب بگٹی کے دشمنوں کے علاوہ اس کی بظاہر دوست بھی شامل تھے سوئی کے علاقے میں چھاؤنی کے قیام کی اجازت نواب ذوالفقار علی مگسی نے دی جو نواب بگٹی کو چاچا چاچا کہتے نہیں تھکتا تھا۔ جب وہ صوبے کا وزیر اعلی تھے جام بیلہ کی قیادت میں صوبائی کابینہ نے متفقہ طور پر ڈیرہ بگٹی میں فوجی ایکشن کی حمایت کی تھی نواب بگٹی کے اپنے بھتیجوں اور بھانجوں نے مشرف کے ایکشن کی مخالفت نہیں کی تھی اس دوران البتہ نواب اسلم رئیسانی نے نواب بگٹی کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کی تھی۔

پاکستان بننے کے فوری بعد بلوچستان پر اولین فوجی کارروائی اپریل 1948 کو ہوئی۔ پھر 1958، 1964، 1974 اور اس کے بعد 2005 آخر میں جو فوجی آپریشن شروع کیا گیا اور جو ایک نام نہاد جمہوری حکومت کے قیام کے بعد بھی بدستور جاری ہے جس میں نواب اکبر خان بگٹی اور نوبزادہ بالاچ مری سمیت سیکنڑوں بلوچ نوجوانوں کو شہید کردیا گیا ہزاروں بلوچوں جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں غائب کر دیئے گئےگویا اکیسویں صدی میں بلوچستان کو بیسویں صدی کے اواخر کا چلی بنا دیا گیا۔

پاکستان کا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کرنے کے لیے امریکہ نے ان کو بعض فوجی امداد سے نوازا جس میں کوبرا ہیلی کاپٹر، بغیر پائلٹ کے جاسوس جہاز، سیٹلائٹ کے ذریعے فون کے مقام کا تعین اور جدید اسلحہ شامل ہے یہ امداد دہشت گردوں کے بجائے بلوچستان میں اپنے حقوق کے لیے مزاحمت کرنے والے بلوچ عوام پر استعمال کیا گیا جون 2006 میں ٹائم میگزین نے ایک رپورٹ کو اعداد و شمار کے ساتھ شائع کیا کہ دہشت گردی کے خلاف ہم نے پاکستان کو یقیناً امداد دی مگر اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی کہ اس کو محض ایک خاص مقام پر استعمال کیا جائے پاکستان کی صوابدید پر ہے کہ ان کو کہاں استعمال کرتا ہے امریکہ کے اس اعلان کے نتیجے میں پاکستانی حکومت کو فری ہینڈ مل گیا جس کی بنا پر سات مہینے تک جاری اس حکمت عملی کوتبدیل کرتے ہوئے 3 جولائی کو فیصلہ کن حملہ کیا گیا جس سے نواب بگٹی اپنے علاقہ سے مری علاقہ منتقل ہونے پر مجبور ہوئے.

ان حالات میں نواب بگٹی نے اپنی علاقہ چھوڑ کر مری قبیلے کے علاقے تراتانی میں پڑاؤ کیا جہاں بالاچ مری کا ایک کیمپ تھا لیکن فورسز بدستور ان کا تعاقب کر رہی تھی اطلاعات کے مطابق 23 اگست 2006ءکو فورسز کو تراتانی میں نواب بگٹی کے ٹھکانے کا پتہ چل گیا پاکستانی فوج کے ایس ایس پی جی کے اسپیشل دستےکو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے وہاں اتارا گیا تھا 23 اگست سے لے کر 26 اگست تک وہاں شدید جھڑپ ہوئی جس میں درجنوں فراری اور فوجی ہلاک ہوگئے بالآخر ایک مخبر کے ذریعے وہ اس غار تک پہنچ گئے جس کے اندر نواب بگٹی موجود تھے۔

ان سے حوالگی کا تقاضہ کیا گیا۔ ایس ایس جی کے بعض اعلی افسران غار کے قریب پہنچے سرکاری ذرائع کے مطابق اس دوران غار میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں غار گر گیا لیکن بعض شواہد کے مطابق کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے اس لیے نواب بگٹی کے ساتھ غار کے دہانے پر موجود فوجی افسران کی لاشیں بھی قابل شناخت نہیں رہیں۔ بعد میں حکومتی ذرائعے جھوٹ پر جھوٹ گھڑتے رہے۔ لاش کی برآمدگی کے بارے میں غلط بیانیاں کی گئیں جب لاش برآمد ہوئی تو اس سے ان کے ورثاء کے حوالے کرنے کی بجائے انکی تابوت پر دو دو تالے لگا کر ڈیرہ بگٹی میں لے جا کر بارہ پولیس اہلکاروں کے ذریعے اس طرح کی تدفین کی گئی کہ کسی پارٹی کو جنازہ میں شرکت کی اجازت نہیں تھی اس موقع پر ایک نجی ٹی وی چینل کے نمائندے نے ایک عام بگٹی سے سے اس کے اثرات پوچھے تھے جو بمشکل اتنا کہہ سکا کہ ہمیں آج رونے کی اجازت بھی نہیں ہے۔

ایک بار نہیں بار بار جنرل پرویز مشرف کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا کہ تین سرداروں کو ایسے ہٹ کیا جائے گا کہ ان کو پتہ بھی نہیں چلے گا اس واقعہ کے فوری بعد جنرل پرویز مشرف کی جانب سے اس کارروائی میں حصہ لینے والوں کو مبارکباد دی گئی یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس آپریشن کے اندر جو غالباً 24 سے 26 اگست 2006 تک تین، چار روز جاری رہا اس میں ایس ایس جی کے تربیت یافتہ فوجی اہلکار شامل تھے۔

آرتھرویلر لے کی افواج نے 1797ء کو ٹیپو سلطان کو شہید کیا لیکن اس کی میت کو سرکاری عزت و احترام کے ساتھ دفن کیا۔ بریگیڈیئر ولشار نے نومبر 1839 کو قلات میں خان محراب خان کو شہید کیا لیکن اس کے ورثاء کو اس کی میت مکمل احترام کے ساتھ دفن کرنے کی اجازت دی۔ میجر نیپئر نے 1842ء کو تالپور لشکر کے سپہ سالار ہوش محمد بلوچ کومیانی کے جنگ کے دوران شہید کیا تو اس کی میت کو عزت و احترام کے ساتھ حیدرآباد کے قلعے میں دفن کیا گیا۔ یہ سب شاید اس لیے ممکن ہوا کہ ان کا مقابلہ ایک باوقار دشمن کے ساتھ تھا جن کی کچھ روایات تھیں جبکہ نواب بگٹی کا مقابلہ نہر والی حویلی کی اس جنرل کے ساتھ تھا جس کی روایت یہ تھی کہ وہ ایسی عورتوں کے جھرمٹ میں پانی کا بڑا گلاس اپنے سر پر رکھ کر اس طرح ڈانس کرتا تھا کے پانی کا ایک قطرہ بھی چھلک کر نیچے نہ گرتا۔

اس کی اپنی تحریر کردہ کتاب کے مطابق اس کی ماں ایک اچھی ڈانسر تھی باوقار حکمرانوں ہی سے پروقار رویوں کی توقع کی جاسکتی ہے جو حکمران قرآن کے حلف کی کوئی پاسداری نہ کریں ان کی بات ہی کیا ہے لیکن نواب بگٹی کو اس سے کوئی غرض نہیں تھا کہ شہادت کے بعد اس کی لاش کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو جب یزیدی فوج نے شہید کردیا تو اس بات کا اسے قطعاََ کوئی غرض نہیں تھا کہ اس کی لاش کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا کیونکہ اس کی اس حسینیت سے تو تاقیامت تک باقی رہنے والی تھی۔

بہرحال بلوچ قوم 1948ء سے اسی رویے کے شکار رہے ہیں اور نواب بگٹی بھی ان کا آخری شکار نہیں ہے آپ نے پیراں سالی میں جو عزم کے ساتھ مذاحمتی تحریک شروع کر کے ایک سفر کے ساتھ اپنے لیے خود ہی اپنا انجام منتخب کیا تھا وہ آخر کوئی نام نہاد کمانڈر تو نہیں تھا کہ چوری چھپے کارگل میں داخل ہوجانے کے بعد اپنے سینکڑوں نوجوانوں کی بلیدان کے بعد سلامتی کے ساتھ پسپائی کے لیے امریکی حکمرانوں کے سامنے گڑگڑاتا۔

نواب بگٹی تو موت کی سامنے دیکھ کر بھی سینہ تانے اس کے استقبال کے لیے کھڑا تھا۔
گویا
جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم
جو چلے تو جاں سے گزر گئے

اپنے اس کردار کے باعث ہی وہ بلوچ تاریخ کا ایک لافانی کردار لیجنڈ بن گئے۔ آپ کا ڈاڈائے بلوچستان کا لقب شہیدِ وطن نوابزادہ بالاچ مری نے رکھا آپ بلوچ قوم کے ڈاڈا کہلاتے ہیں۔ نواب بُگٹی تو اپنی شہادت کے ذریعے یہ پیغام دیکر رخصت ہوا کہ

میرے چارہ گرکو نوید ہو میرے دشمنوں کو خبر کرو
وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر اسے آج ہم نے چکا دیا

وہ بلاشبہ اپنے حصے کا قرض ادا کرکے ہم سب کو قرض دار بنا گیا۔ اپنا، اپنی قوم اور اپنے وطن بلوچستان کا۔

نہر والی حویلی کے جنرل نے اپنی فوجی طاقت کے ساتھ نواب بگٹی کو شہید کرکے بگٹی قبیلے کے میر جعفر اور میر صادقوں کے ساتھ شادیانے بجاتا رہا۔ وہ بانکا جنرل جیل جانے کے خوف سے ملک سے بھاگ کر اپنے آقاؤں کے پاس باہر بیٹھا ہوا جبکہ اپنے وطن اور قوم پر جان نذر کرنے والا آج بھی اپنی قوم کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔

نواب بگٹی شاید بحیثیت سردار اور پاکستانی سیاست دان ایک بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرسکے لیکن بلوچ وقار اور آن کا وہ مینار بن چکا ہے جسے صرف بلوچ ہی نہیں ہر باضمیر شخص جانتا ہے۔ وہ بلوچ کی ایک پہچان اور علامت بن گئے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں