کراچی: بحریہ ٹاؤن زمینوں کے قبضے کے خلاف احتجاجی دھرنا، ہنگامہ آرائی

112

سندھ کے مرکزی شہر کراچی میں تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹاؤن کی جانب سے مقامی گوٹھوں کو مسمار اور زمینوں پر قبضہ کرنے کے خلاف آج سندھ کے تمام سیاسی، سماجی اور قومپرست جمائتوں کے مشترکہ اتحاد ’سندھ ایکشن کمیٹی‘ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن گیٹ پر دھرنا دیا گیا اس دوران احتجاجی دھرنا نے ہنگامہ آرائی کی شکل اختیار کرگیا۔

احتجاج کی رہنمائی سندھ ایکشن کمیٹی اور سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ، سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی، جیئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین صنعان خان قریشی، جیئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض چانڈیو، عوامی تحریک کے چیرمین ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی، جسقم (آریسر) کے چیئرمین اسلم خیرپوری، بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماوں، سندھ انڈیجینیئس الائنس کے رہنما یوسف مستی خان، گل حسن کلمتی، حفیظ بلوچ، ورکرز مزاحمت کے رہنماء مسرور شاہ و دیگر نے کی جبکہ سندھ سجاگی فورم کے رہنماء محب آزاد، سارنگ جویو، سندھ ستھ کے رہنماء مہر ڈبائی و دیگر کئی سیاسی سماجی فورمز اور تنظیموں کے رہنمائی میں بھی قافلے شریک ہوئے۔

اس احتجاج میں شریک مشتعل مظاہرین نے بحریہ ٹاؤن کراچی میں متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے، متعدد گاڑیوں اور نجی املاک کو آگ لگا دی ہے۔ جبکہ سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری بھی موقع پر موجود ہے جو مشتعل مظاہرین کو روکنے میں ناکام رہی۔

یہ ہنگامہ آرائی احتجاجی دھرنا سپر ہائی وے سے بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے کے باہر منتقل کیے جانے کے بعد شروع ہوا۔

احتجاجی دھرنے کی کال سندھ ایکشن کمیٹی نے سپر ہائی وے پر واقع بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دروازے کے سامنے اتوار کو آٹھ گھنٹے کے لیے دیا تھا، جس میں دیگر سیاسی جماعتوں اور علاقائی تنظیموں نے شرکت کی حامی بھری۔

احتجاج میں رکاوٹینں ڈالنے کے لیئے آج صبح سے ساری سندھ کے روڈ رستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جنہوں نے قافلوں کو جامشورو، سجاول، بٹھورو، نوری آباد اور کاٹھوڑ سمیت کئی جگہوں پر روکے رکھا، جن سے کارکنان کی وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری رہی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے بعد کراچی پولیس نے بحریہ ٹاؤن کے سکیورٹی انچارج سمیت دیگر اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا جبکہ ایک ایس ایچ او کو معطل کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے بحریہ ٹاؤن نے موقف دیا تھا کہ ’مقامی بااثر سیاسی افراد اور لینڈ مافیہ مل کر‘ انھیں ’سیاسی و مالی مفادات کی خاطر‘ بلیک میل کر رہے ہیں-

سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے احتجاج ختم ہونے کے بعد جامشورو میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور پرامن دھرنے پر حملے کے خلاف 9 جون کو سندھ بھر میں دھرنوں اور مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ اس دن پر مرکز ی احتجاج کے طور پر سندھ اسیمبلی کے گھیراؤ کا علان بھی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سندھ ایکشن کمیٹی نے بحریا ٹاؤن کے گیٹ اور بلڈنگس پر ہونے والے پرتشدد واقعات کو ملک ریاض اور پیپلز پارٹی کی جانب سے پرامن دھرنے کو خراب کرنے کی سازش کرتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔