ذاکر مجید بلوچ جبری گمشدگی کے بارہ سال – ریاض بلوچ

80

ذاکر مجید بلوچ جبری گمشدگی کے بارہ سال

تحریر: ریاض بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج زاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو بارہ سال کا ایک طویل عرصہ مکمل ہوگیا ہے، بارہ سال ایک پوری زندگی ہے، جس وقت ذاکر جان کو لاپتہ کیا گیا اس وقت کے بچے اب بڑے ہو کر باپ بن چکے ہیں، موسموں نے کئی رنگ بدلے ہیں، دنیا میں کتنی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، تب سے زاکر جان کے سینکڑوں فکری ساتھی اس جدوجہد کی پر کٹھن راہ میں جام شہادت نوش کر چکے ہیں یا زاکر کی طرح اب بھی پسِ زندان ہیں.

زاکر مجید کو پاکستانی فورسز کے اہلکاروں نے مستونگ سے انکے دو ساتھیوں سمیت (جو بعد میں بازیاب) جبری اٹھا کر لاپتہ کیا،تب زاکر مجید بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی وائس چیئرمین تھے. بی ایس او آزاد بلوچ طلباء کی سیاسی آواز ہے جس نے بلوچ طلباء کے سیاسی اور تعلیمی مسائل کو حل کرنے میں ہمیشہ جمہوری طریقہ کار کو ترجیح دی ہے، ہاں البتہ بلوچ قومی سوال پہ بی ایس او آزاد ایک واضح سیاسی بیان رکھتی ہے جس کی وجہ سے ریاست نے بی ایس او آزاد کو سیاست کرنے سے روکا اس پہ قدغن لگایا اور تنظیم کے سینکڑوں سیاسی کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا یا سالوں سے جبری گمشدہ کیا، جن میں بی ایس او آزاد کے سابق چیئرمین زاھد بلوچ اور وائس چیئرمین تاحال ریاستی ٹارچر سیلز میں بندی ہیں اور ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں، ان کا اگر کوئی جرم ہے تو وہ سیاسی بغاوت ہے.

زاکر مجید بلوچ ایک سیاسی کارکن رہے ہیں، انہوں نے قومی بیداری کیلئے بلوچستان کے ہر تعلیمی ادارے ، ہر شہر و کوچہ میں بلوچ قومی نجات اور بیداری کا پیغام پہنچایا اور قبضہ گیر کی کالونیل سسٹم کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔

زاکر مجید نے کوئی ہتھیار نہیں اٹھایا تھا نا کہ اس کا کسی مسلح تنظیم سے کوئی تعلق تھا، وہ جمہوری طریقے سے اپنے قومی حقوق کی بات کرتے رہے ہیں. پر امن سیاسی جدوجہد سیاسی حقوق کا مطالبہ ہر انسان کا بنیادی حق ہے، دنیا کے کسی قانون میں کسی انسان کو انکے بنیادی قومی اور انسانی حقوق کے مطالبے سے نہیں روکا جاسکتا ہے. ہاں کسی فرد یا تنظیم سے ریاست اختلاف رکھ سکتا ہے لیکن اختلافات کی بنیاد پر اسے کسی ادارے پہ قدغن یا اسکے کارکنوں کو بالجبر اٹھا کر غائب نہیں کر سکتا ہے، اس طرح کسی سوچ کو ہر گز ختم نہیں کیا جاسکتا ہے، ریاست نے بلوچ جدوجہد کو ختم کرنے کیلئے فاشزم کی حدیں تمام کر دی ہیں، بلوچستان میں ہونے والی مظالم سے تاریخ انسان شرمندہ ہے.

زاکر مجید کی بوڑھی اور بیمار ماں جو شاید کبھی اپنے گھر سے بھی باہر نہیں نکلی ہیں جو پچھلے بارہ سالوں سے زاکر جان کی بازیابی کیلئے کبھی کوئٹہ تو کبھی اسلام آباد میں زاکر جان کی تصویر لیئے اپنے لخت جگر کی راہ ڈھونڈتی پھر رہی ہیں، وہ ہر گز نا امید نہیں ہیں انکو اور ہم سب کو یقین ہے کہ زاکر جان آئیں گے ایک دن وہ ضرور آئیں گے اپنے اماں کیلئے اپنے نظریاتی اور فکری دوستوں کیلئے.

زاکر مجید کی بازیابی کیلئے انکی ماں، انکی بہن فرزانہ وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز انکی اپنی تنظیم اور دوسرے بلوچ سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہر فورم پہ ملک اور بیرون ممالک اسکی بازیابی کیلئے آواز اٹھایا ہے۔

چار مہینے پہلے اسلام آباد میں کیمپ لگایا اور چار دن اور چار راتیں دوسرے مسسنگ پرسنز کی فیملیز کے ساتھ زاکر مجید کی ماں بھی اسلام آباد کی یخ بستہ سردی میں آسمان تلے احتجاجاً بیٹھے رہے، حکومتی ارکان آئے وعدے کیے، ملاقاتیں کیں لیکن عملدرآمد کچھ بھی نہیں ہوا، ان میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ جرم قبول کر لیں اور اپنے ہی بنائے گئے عدالتوں پہ بھروسہ بھی نہیں ہے کہ لاپتہ افراد کو ان عدالتوں میں پیش کر سکیں.

انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں زاکر مجید کی بالجبر اغواء اور انکی غیر قانونی ریاستی حراست کے خلاف مراسلے لکھ چکے ہیں، اسکی زندگی کو لاحق خطرات کے متعلق خدشہ ظاہر کر چکے ہیں لیکن پاکستانی ریاست ہے کہ کسی عالمی انسانی حقوق کی پاسداری نہیں رکھتا اور کسی بھی قانون پہ عمل کرنے سے قاصر ہے.

زاکر مجید بلوچ پچھلے بارہ سالوں سے بنا کسی جرم کے غیر قانونی طور پر پابند سلاسل ہیں اور تاریک کوٹھڑیوں میں زندگی کا نصف حصہ گزار چکے ہیں، انکی فیملی پچھلے بارہ سالوں سے شدید کرب و ازیت میں مبتلا ہیں، انکی بوڑھی والدہ جو ہم سب کی والدہ ہیں آج تک اپنے بیٹے کی راہ تک رہے ہیں، انکو اپنی پختہ ایمان اور طویل جدوجہد پہ یقین ہے کہ زاکر جان ضرور آئیں گے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں