آہ! میرا چیئرمین آفتاب – دیدگ نُتکانی

366

آہ! میرا چیئرمین آفتاب 

تحریر : دیدگ نُتکانی

دی بلوچستان پوسٹ

سچ کہتے ہیں کہ وطن اپنے لیئے قربان ہونے والے فرزندوں کا انتخاب خود کرتا ہے اور یہ بات بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ وہ فرزند جو سب سے زیادہ بے لوث سب سے زیادہ قابل و مخلص ہوتے ہیں جلد ہی زمین انہیں گلے لگا لیتی ہے. ایسے ہزاروں بے لوث شہیدوں میں ایک نام سنگت چیئرمین آفتاب جان کا ہے، جس نے اپنا وقت جان اور مال سب کچھ وطن کیلئے قربان کر دیا. میں جب بھی شہیدوں کے بارے میں کوئی تحریر کوئی آرٹیکل پڑھتا تھا تو زیادہ تر سنگت انکی خدمات اور شخصیات بیان کرنے کیلئے کہتے تھے “ہمارے پاس الفاظ نہیں ان کے بارے میں کچھ لکھ سکیں”. اور آج میں خود اُسی کرب سے گزر رہا ہوں کہ جو کچھ لکھ رہا ہوں یہ صرف میرے جذبات تو ہو سکتے ہیں لیکن چیئرمین جان کی شخصیت بیان کرنے کیلئے کافی نہیں ہیں.

19 اکتوبر 2019 کا وہ خوبصورت دن جب پہلی بار چیئرمین سے بات ہوئی تھی اور سنگت نے ملاقات کا کہا تھا, پھر چیئرمین بولتا گیا اور الفاظ موتی بن کر کانوں کو سُکون بخشتے گئے. سنگت نے پہلی مُلاقات میں قوم کا وہ درد بیان کیا کہ مجھے یقین ہوگیا اُسکا انتخاب وطن نے خود کیلئے کیا ہوا ہے. پھر کیا تھا آہستہ آہستہ میں سنگت کی شخصیت کے سحر میں مبتلا ہوتا چلا گیا. عام ممبر سے لے کر چیئرمین بننے تک وہ ہر پلیٹ فارم پہ بلوچ قوم کیلئے آواز اُٹھاتا رہا. کبھی ہم دیکھتے آنلائن کلاسز کے خلاف بھوک ہڑتالی کیمپ لگا رہا ہے کبھی دیکھتے تو خضدار میں عوام سے خطاب کر رہا ہے کبھی حیات کی موت پر کرب میں مبتلا ہے تو کبھی معصوم برمش کے دُکھ میں شریک ہے گویا وہ بانُک سے لے کر زاہد تک ہر شہید و اسیر کا درد دل میں سموئے ہوئے تھا.

میں اکثر سوچا کرتا تھا کہ ایک شخص میں اتنی زیادہ خصوصیات کیسے ہوسکتی ہیں, ان گزشتہ سالوں میں مَیں نے اُسکے منہ سے گالی تو دور غصہ ہوتے بھی نہیں دیکھا, کبھی کسی قسم کا نشہ کسی قسم کی برائی یا کسی شخص کیلئے ذرا بھر بغض نہیں دیکھا. غیروں کو وہ اپنے اخلاق سے متاثر کر لیتا تو سوچنے کی بات ہے اُن کے ساتھ چیئرمین کا تعلق کیسا ہوگا جو سالوں سے اُسکے ساتھ رہ رہے تھے. اُسکے ساتھ رہنے والے کچھ غیر نظریاتی لوگوں کے بارے میں جب میں بات کرتا تو فورًا کہتا جان یہ بھی ہم میں سے ہیں ان سنگت کو بھی ہم نے ساتھ لے کے چلنا ہے, جب ہم دل وجان سے وطن کیلئے کچھ کریں گے تو یہ خود بخود سمجھ جائیں گے کہ صحیح راستہ کونسا ہے. لیکن کیونکہ وہ بھی انسان تھا کبھی کبھار اُن لوگوں کی مستقل طور پہ غیر سنجیدگی دیکھ کر کہتا جان یہ کیسے لوگ ہیں جو وطن کو بھول گئے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خاندان سمیت اسلام آباد شفٹ ہو جائیں گے کیونکہ یہاں دنیا کی سب آسائش و سہولیات ہیں وہ کہتا تھا جان یہ لوگ وطن کو کیسے بھول سکتے ہیں جس نے انہیں نام دیا پہچان دی سکالرشپس دیں پھر بھی انہیں ذرا بھر پرواہ نہیں۔

وہ کسی بھی محفل میں دیوان میں ہوتا لازمی طور پہ کچھ پل ایسے رکھتا جس میں قوم کی بات کرے جس میں آنے والے لوگوں کیلئے پیغام ہو کہ یہ عیاشی یہ پُرسکون زندگی کا کوئی فائدہ نہیں جب ہماری مائیں بہنیں سڑکوں پر دربدر پھر رہیں ہوں جب ہمارے بھائی کئی کئی سالوں سے ٹارچر سیلوں میں اذیت سہہ رہے ہوں.

مجھے جب وہ لمحات یاد آتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے جب وہ غیر نظریاتی, غیر سنجیدہ لوگ چیئرمین کو طعنہ دیتے کہ “تم نے قوم کیلئے کِیا کیا ہے؟

کاش میں اُنہیں بتا سکتا کہ چیئرمین اپنے اندر کونسا درد سموئے ہوئے تھا کاش اُنہیں بتا سکتا کہ بظاہر ہنسنے والا شخص اپنے اندر ایک درد کا طوفان لیئے ہوئے تھا لیکن شائد میرے قلم میں اُتنی طاقت نہیں کہ میں بتا سکوں وہ شخص کیا تھا.
ہم نہ ہوتے تو حادثاتِ جہاں
جانے کس کس کے سر گئے ہوتے

بہت کم لوگ ایسے گزرے ہونگے جنہوں نے اتنی کم عمر میں ایسی سحر انگیز خوبصورت شخصیت پائی ہوگی. جب بات خوش اخلاقی کی ہو تو سب سے پہلے ہمارے ذہن میں چیئرمین کا خاکہ بنتا ہے کہ جب بھی منہ سے الفاظ نکالتا اُن میں محبت جھلکتی, جب بات قلم کی ہو تو وشین بلوچ کا نام سامنے آجاتا ہے کہ اُسنے قلم سے ہمیشہ وطن کے دُکھ درد بیان کیئے, کبھی انجیرہ کے بارے لکھا تو کبھی زہری میں دشمن کی سازشوں کو بے نقاب کیا کبھی 1948 میں ہونے والے قبضے کو لکھا تو کبھی سرداروں کے قوم دشمن رویوں کے بارے لکھا , وہ اپنے آپ میں قلم کار تھا وہ اپنے آپ میں شاعر تھا اور آخر اپنے آپ میں وہ ایک جنگجو تھا. سچ لکھا ہے کسی نے کہ ” ڈرو اُس شخص سے جو ادب سے محبت کرنے والا ہو لیکن حالات کی مجبوری کے سبب ہتھیار اُٹھا لے”

چیئرمین جان کا جُدا ہونا میری زندگی کا سب سے بڑا دکھ ہے لیکن سنگت ہمیں ایک چیز سکھا گیا کہ جس طرح ایک ہیرا بنتے وقت مختلف کاٹ کوٹ اور عزاب سے گزرتا ہے پھر نایاب شکل میں ڈھل جاتا ہے اسی طرح قوم کے فرزند میں صرف وہ جو ہیروں کی مانند ‘خالص’ ہونگے وہی لوگ پہاڑ کا راستہ اختیار کرینگے اور پہاڑ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے انہیں اپنے دامن میں جگہ دے دیں گے اور آفتاب کی صورت میں پھر سے نئی روشنی لیکر طلوع ہونگے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں