مشکے میں بلوچ خواتین سے جنسی زیادتی کے واقعے کا اقوام عالم نوٹس لیں – ڈاکٹر اللہ نظر

437

 

پاکستانی فوج و مقامی ڈیتھ اسکواڈ کی بلوچستان کے علاقے مشکے میں بلوچ خواتین سے جنسی زیادتی کے واقعے پر اقوام عالم و انسانی حقوق کی جانب سے پاکستان اور اس کے مسلح جتھوں کے خلاف کاروائی عمل میں لاکر بلوچ خواتین کو انصاف فراہم کیا جائے –

ان خیالات کا اظہار بلوچ آزادی پسند رہنماء ڈاکٹر اللہ بلوچ نے ہفتے کے روز سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ کی ذریعے کیا۔

مشکے سے اطلاعات کے مطابق پاکستانی فورسز و مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے درجنوں اہلکاروں نے ایک گھر پر چھاپہ مارتے ہوئے گھر میں موجود لوگوں پر تشدد کی اور گھر میں موجود افراد کو حراساں کیا ہیں۔

ایک مقامی میڈیا کے مطابق پاکستان فورسز نے گھر میں موجود تین خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

بلوچ آزادی پسند رہنماء ڈاکٹر اللہ بلوچ نے واقعہ پر مزید تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری 2021 کو مشکے کے علاقے جاکو میں پاکستانی فوج و مقامی ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں جن میں دو اہلکاروں کی شناخت شیرا ولد احمد، خداء داد ولد عبد کریم و دیگر شامل تھیں، نے ایک بلوچ چرواہا حکیم بلوچ کے گھر پر دھاوا بول کر وہاں موجود تین خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا –

مقامی میڈیا کے مطابق واقعے کے روز پاکستانی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لیکر وہاں سرچ آپریشن شروع کردی، خواتین سے جنسی زیادتی کے واقعہ میں شامل ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں کو مقامی افراد نے شناخت کرلیا ہے-

بلوچ رہنماء ڈاکٹر اللہ نذر کے بیان کے مطابق بلوچستان میں ہزاروں ایسے غیر انسانی عمل پاکستان و اس کے ڈیتھ اسکواڈ کی جانب سے سر انجام دیئے جاچکے ہیں، کئی واقعات میں مقامی لوگ خوف کے باعث ایسے کیسز کو رپورٹ نہیں کر پاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم عالم اقوام و انسانی حقوق کے اداروں سے درخواست کرتے ہیں کے وہ پاکستان و اسکے اسکواڈز کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے بلوچ خواتین کو انصاف فراہم کرے-

یاد رہے بلوچستان میں پاکستانی فورسز پر دوران آپریشن گھروں میں تلاشی و خواتین و بچوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات پہلے بھی کئی دفاع رپورٹ ہوچکے ہیں گذشتہ ماہ تربت میں پاکستان ایف سی اہلکار کے ہاتھوں بچے سے زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا –

تربت واقعہ کے بعد بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے، مظاہروں کے باعث فورسز کے اہلکار کی گرفتاری عمل میں آئی تھی تاہم واقعہ پر مزید پیش رفت ابھی تک سامنے نہیں آسکی ہے –

دوسری جانب بلوچستان میں موجود ڈیتھ اسکواڈ جن کو سرکاری حمایت حاصل ہیں چوری ڈکیتی و دیگر جرائم میں ملوث رہے ہیں بلوچستان میں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں جن میں ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکار لوگوں پر تشدد و دیگر غیر انسانی عمل میں شامل پائے گئے ہیں –

بلوچستان میں موجود انسانی حقوق و قوم پرست تنظیمیں ڈیتھ اسکواڈز کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور بلوچستان میں موجود ڈیتھ اسکواڈز کو ریاستی قتل کرنے والے مشین قرار دے چکے ہیں-