لیاری عوامی محاذ کا کاٹھور گڈاپ کے باشندوں کیساتھ اظہار یکجہتی

88

لیاری عوامی محاذ کی جانب سے ملیر کاٹھور گڈاپ کے گوٹھوں کے باشندوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے چاکیواڑہ چوک لیاری میں احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا گیا۔

ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے مظاہرین نے بحریہ ٹاؤن کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے مقامی باشندوں کی بے دخلی بند کرو، ملیر کو اسرائیل بننے نہیں دینگے، بحریہ ٹاؤن کی سرکاری سرپرستی بند کرو کے نعرے لگاتے ہوئے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔

مظاہرین سے یوسف مستی خان، گل حسن کلمتی، عبدالخالق جونیجو، کامریڈ حفیظ بلوچ، پروفیسر ڈاکٹر توصیف احمد خان، عیسیٰ بلوچ، عبدالخالق زدران، عبدالوہاب بلوچ، ڈاکٹر اصغر دشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بحریہ ٹاؤن انتظامیہ صرف 16 ہزار ایکڑ زمین پر تعمیراتی کام کر سکتی ہے لیکن بے لگام بحریہ ٹاؤن انتظامیہ جسے ریاستی اداروں وفاقی وسندھ حکومتوں کی مکمل سرپرستی وآشیرباد حاصل ہے وہ ملیر کاٹھور گڈاپ کے قدیم ترین گوٹھوں کی زمینوں پر بزور طاقت ہتھیانے کیلئے وحشیانہ تشدد کے ذریعے کئی گوٹھوں، قبرستان، کھیتوں کو روند کر کئی افراد کو ہلاک و زخمی کرکے ہزاروں ایکڑ اراضی پر غاصبانہ قبضہ کرکے ایک نیا اسرائیل بنانے کی سازش میں مصروف عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جسے گوٹھوں کے غیور بہادر نوجوانوں عورتوں بچوں بوڑھوں نے اپنے مشترکہ مزاحمت کہ ذریعے آگے بڑھنے سے روک رکھا ہے جسے لیاری سمیت سندھ بھر کے ترقی پسند، قوم دوست، جمہوریت پسند سرخ سلام پیش کرتے ہوئے یقین دہانی کرواتے ہیں کہ اس جدوجہد میں ہم سب ان کے ساتھ ہیں۔

مقررین نے سندھ بھر کے عوام خصوصاً کراچی کے قدیم باشندوں سے کہا کہ اب بھی ہوش کے ناخن نہیں لیے تو پھر کل فلسطینیوں کی طرح ظلم وستم اور رونے دھونے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا لہٰذا آئیں اس بھیڑیا ٹاؤن سندھ دشمنن ناپاک منصوبے کو خاک میں ملانے کیلئے بھرپور احتجاجی تحریک چلا کر اپنے دھرتی کی زمینوں کا دفاع کریں۔