کوہ زاد – برزکوہی

382

کوہ زاد

تحریر: برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

(۱)
بلوچوں اور پہاڑوں میں یہ ایک کیسی انکہی تعلق ہے، جو صدیوں سے دونوں کو ایک دوسرے سے جوڑے ہوئے ہے، جب بھی یہ ایک دوسرے کے قربت میں ہوتے ہیں تو روح گرما دیتے ہیں اور ایک غیرمحسوسانہ قوت و جاذبیت ایک بلوچ کے جسم کے ہر ایک پور کو بھردیتا ہے۔ قدرت اپنے ہزار رعنائیوں سے بھری پڑی ہے، لیکن پہاڑوں میں یہ کیسا ایک سحر ہے، جس سے بلوچ نکل نہیں پاتے۔ کیا خوبصورت گھنے جنگل، یا صاف و شفاف ساحل یا پھر چند تاروں کی خوبصورتی کسی طور کم ہے، جو ایک بلوچ کی نظروں میں پہاڑوں پر ترجیح حاصل نہیں کرپائے؟ پہاڑوں کی دلفریبی یہ ہے کہ انہیں خوبصورت لگنے کیلئے نا جنگلوں کی طرح بہار کا انتظار کرنا پڑتا ہے، نا چاند تاروں کی طرح انہیں رات کا انتظار ہوتا ہے اور ناہی ساحل کی طرح چمکتے سورج کا وہ محتاج ہوتے ہیں، پہاڑ کو بس ہونا ہوتا ہے، بغیر کچھ کیئے۔ وہ مستعد رہتا ہے، موسم کی سختیوں کو برداشت کرتا ہے اور پھر سورج تک اسکا طواف کرنے لگتا ہے۔ کسی پہاڑ کے قدموں میں کھڑے ہوکر آپ نظریں اٹھا کر دیکھو تو آپکو محض اس میں قوت و استقامت اور بردباری ہی نظر آئیگی، جو سنجیدگی سے عہدوں سے وہاں کھڑا زمانے بدلتے دیکھتا آرہا ہے۔ آپ پہاڑ کو مسخر کرنا چاہتے ہیں، اسے اپنا گھر کرنا چاہتے ہیں تو اسکا ایک ہی راستہ ہے کہ آپ کو پہاڑوں سا کردار ہی اپنانا پڑتا ہے۔ آپ پہاڑ چڑھنے پہلا قدم اٹھاتے ہیں، پہلے قدم سے ہی آپکو اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس پر چڑھنا چٹیلی زمین جیسا نہیں، آپکا اوپر چڑھتا ہر قدم بتدریج سخت سے سخت ہوتا جاتا ہے، سانس پھول جاتی ہے، جسم کے پٹھے کھنچ جاتے ہیں، پہاڑ خاموشی سے اپنا پیغام دے رہا ہوتا ہے کہ یہیں سے واپس ہوجاو، گر آپ رکے بغیر، پہاڑوں سی استقامت لیئے چڑھتے جائیں، پھولے سانسوں، بہتے پسینے، خشک حلق، ہتھوڑے مارتے دھڑکنوں سے آپ چوٹی سَر کرلیں تو اسی وقت پہاڑ آپکو تسلیم کرکے اپنالیتا ہے، آپکا احترام کرتا ہے اور تحفے میں آپ کو ایک نیا جہاں، ایک نیا زاویہ نگاہ پیش کردیتا ہے، آپ کے قدموں تلے پورے جہاں کا نظارا آجاتا ہے۔ جب آپکا کسی بھی پہاڑ سے سامنا ہوجائے، تو آپکے سامنے بہت سے راستے ہوتے ہیں، آپ پہاڑ چڑھ کر دوسری جانب اتر سکتے ہیں، آپ لمبا راستہ پکڑ کر اسکے پہلو سے گھوم کر دوسری جانب جاسکتے ہیں، آپ سرنگ کھود کر راستہ بناسکتے ہیں، آپ وہیں سے مڑ کر واپس اپنے گھر جاسکتے ہیں یا پھر وہیں رک کر پہاڑوں کو اپنا گھر بناسکتے ہیں اور یہی تعلق ہے بلوچوں اور پہاڑوں کا ہم انکی عظمت، قوت، ایثار اور تکبر سے اتنا متاثر ہوئے کہ ہم نے رک کر انہیں اپنا گھر بنالیا، بدلے میں انہوں نے ہمیں گود لے لیا، اب بلوچوں کا رشتہ پہاڑوں سے سیاح و منظر کا نہیں رہا، دھانی و حاجت مند کا نہیں رہا بلکہ ایک روحانی رشتہ جڑگیا، اب یہ رشتہ ماں بچوں کا سا ہے اب یہ رشتہ عاشق و معشوق کا سا ہے۔

(۲)
بلوچوں کی سرزمین بلوچستان میں آپ جہاں بھی جائیں، آپکی نگاہ کسی پہاڑ پر پڑتی ہے یا آپ کسی پہاڑ کے نگاہ میں ہوتے ہو، اسی سرزمین پر ایک ایک ایسا علاقہ بھی ہے جہاں سارے پہاڑ قریب قریب سر جوڑے ایسے سنجیدگی کے ساتھ کھڑے ملتے ہیں، جیسے بزرگوں کا کوئی دیوان سجا ہو اور وہ سنجیدگی سے کسی مدعے پر غور کررہے ہیں، بلوچ اس جگہے کو اپنا قدرتی قلعہ کہتے ہیں کیونکہ انہیں یہاں کبھی شکست نہیں ہوتی، بلوچ اسے ماں کہتے ہیں کیونکہ وہ یہاں ماں کی گود جیسی تحفظ کا احساس پاتے ہیں، بلوچ اسے بولان کہتے ہیں۔

دسمبر کی سخت ترین سردیوں میں دور سے انہی پہاڑوں کا ایک بیٹا محض ایک موٹی چادر میں لپٹے، تیز قدموں کے ساتھ ان پہاڑوں پر ڈھلان و اترائی سے بے نیاز ہوکر ایسے چلتے ہوئے نظر آتا ہے، جیسے اسکا جسم قوانین طبیعات سے آشنا ہی نہیں۔ اسکے کندھے پر بندوق لٹکا ہوا ہے اور اسکا پورا رختِ سفر ایک کیتلی، ایک پیالہ اور کُرنو(سخت خشک روٹی) ہے۔ سورج آخری انگڑائیاں لیکر جب وداع ہونے کی تیاریوں میں ہوتا ہے تو پہاڑوں کا وہ بیٹا آخری چوٹی چڑھ جاتا ہے اور اس چوٹی تک پہنچتے پہنچتے اسے پیدل چلتے ہوئے پورے اٹھارہ دن ہوجاتے ہیں۔ چوٹی پر پہنچ کر وہ اپنے جیب سے خاکی رومال میں لپٹے وائرلیس کو نکال کر، اس میں بیٹری اور انٹینا برابر سے بٹھانا شروع کردیتا ہے۔


بڑے گھاٹ (پہرے) پر متعین گاجی خان آنکھوں پر دوربین لگائے چاروں جانب انتہائی باریکی سے جائزہ لے رہا تھا، اور اسکے قریب گھاٹ پر بیٹھا اسکا نوعمر ساتھی دلوش ایس ایم جی پر پوزیشن سنبھالے ہوئے تھا۔ “دلوش، گھاٹ پر یوں تو بیٹھا ہوا ہر ایک منٹ اہم ہوتا ہے کیونکہ تمام ساتھیوں کی حفاظت آپکی ذمہ داری بنتی ہے، لیکن خاص طور پر غروب اور طلوع آفتاب کا وقت انتہائی اہم ہوتا ہے۔ بسا اوقات دشمن رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر پیش قدمی کرتا ہے اور طلوع آفتاب کا انتظار کرتا ہے تاکہ سورج کے نکلتے ہی اسے ہیلی کاپٹروں کی مدد حاصل ہو اور وہ حملہ آور ہوجائے اور غروب آفتاب کے وقت انسانی حد نگاہ کم ہوجاتی ہے اور پہاڑوں کے سائے بھی پھیل جاتے ہیں تو یہ کسی گھس پیٹیئے یا دشمن کے مخبر کیلئے بغیر کسی ٹارچ کے چھپ کر کیمپ کے قریب آنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔ اس لیئے ہمیشہ ان دونوں اوقات لمحہ بھر بھی کبھی سستی کا مظاہرہ نہیں کرنا۔” اپنی بات پوری کرکے گاجی خان دوبارہ دوربین آنکھوں پر لگاکر چاروں جانب غور سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ یکدم چوکنا ہوکر بولتا ہے “دلوش، سامنے والے چوٹی پر کسی کی حرکت ہے، تیار رہو” دلوش جلدی سے ایس ایم جی کے پیچھے پوزیشن سنبھالتے ہوئے بولتا ہے “کچھ سمجھ آیا کہ کیسی حرکت ہے؟” گاجی خان کے چہرے پر مسکراہٹ سج جاتی ہے، وہ وائرلیس اٹھاکر، مرکزی کیمپ رابطہ کرکے بولنے لگتا ہے “دوستوں! جنرل نورا خیریت سے پہنچ گئے”

گاجی خان کیمپ اطلاع کرنے کے بعد ایک ہاتھ سے دوربین آنکھوں پر رکھے سامنے پہاڑی چوٹی کی جانب دیکھ رہا تھا اور دوسرے ہاتھ میں وائرلیس بیتابی سے تھامے ہوئے تھا، جیسے کسی خبر کے انتظار میں ہو، اتنے میں وائرلیس پر آواز گونجنے لگتا ہے “ہیلو گھاٹ ایلفا، ہیلو!” گاجی خان کلچ دباتے ہوئے جواب دیتا ہے “ہیلو استاد! بخیرٹ” دوسری جانب سے آواز آتی ہے “گاجی تم ہو؟ میں اطلاع دینے کیلئے رابطہ کررہا تھا کہ بتادوں کہ میں کیمپ کے احاطے میں داخل ہونے والا ہوں لیکن تمہاری عقابی آنکھوں سے کون بچ سکتا ہے” گاجی خان قہقہہ مارتے ہوئے جواب دیتا ہے “استاد نورا، اب جلدی پہنچو، تمہارے لیئے چائے تک آگ پر رکھدی ہے کامریڈ نے۔”

(۴)
یہ بات محض ایک کوہ نشین ہی سمجھتا ہے کہ پہاڑوں میں سورج ڈھلنے کے بعد دیر تک نارنجی روشنی نہیں رہتی بلکہ فوری اندھیرا چھا جاتا ہے اور بہت جلد ہی آپکو اندازہ ہوجاتا ہے کہ شہروبستیوں کے برعکس پہاڑوں میں بہت دور کی آواز تک کی گونج صاف سنائی دیتی ہے۔

سورج اگلے دن دوبارہ لوٹ کرآنے کا وعدہ کرکے وداع کرچکا تھا اور چہار سو گھپ اندھیرا چھا چکا تھا، کیمپ کے جنوبی سمت دو ساتھی کھڑے تھے، انہیں دور سے تیزی سے بڑھتے قدموں کی آواز قریب سے قریب ہوتے محسوس ہورہی تھی اور وہ نظریں اسی آواز کی جانب گاڑھے ہوئے تھے۔ اتنے میں تھکے چہرے، لمبی داڑھی، بے خواب لال آنکھوں کے ساتھ جنرل نورا کیمپ کے روشنی کے احاطے میں نمودار ہوتا ہے۔ تمام ساتھی خوشی سے اٹھ کر اس سے ایک ایک کرکے گلے ملنا شروع کرتے ہیں، پورے کیمپ میں خوشی اور حوصلے کا ایک نیا منظر چھا جاتا ہے۔ ایک دوست اسکا سامان پکڑتا ہے۔ نورا ہر ایک دوست کو گلے لگانے کے بعد خوشی سے کہتا ہے “کافی عرصے دوری کے بعد نظریاتی دوستوں سے ملنے میں اتنی خوشی و راحت کا إحساس ہوتا ہے، پھر وطن کی آزادی کے دن ایک دوسرے کو گلے لگانے پر پتہ نہیں کیا کیفیت ہوگی۔” کیمپ کے مرکز میں تمام ساتھی بیٹھ جاتے ہیں اور بلوچی حال حوال کے بعد چائے لائی جاتی ہے اور اسکے بعد روٹی کھاتے ہوئے نورا کہتا ہے “یار 18 دن صرف کرنواور چائے پر گذارا کرنے کے بعد آج سالن کے ساتھ روٹی کھانے کا اپنا الگ ذائقہ ہے۔”

کھانے کے بعد نورا کیمپ کمانڈر سمالان اور گروپ کمانڈروں کلاتی خان، مندل خان، سنگت بولانی، مجو بھائی، ولو جان اور اسپیشل فورس کمانڈر ماماسگار کو آواز دے کر ایک علیحدہ “جُھگ” میں جمع ہونے کا کہتا ہے، سب سمالان کے جُھگ میں ایک ایک کرکے جھک کر داخل ہوتے ہیں۔ تمام کے جمع ہونے کے بعد نورا سمالان کی جانب دیکھتے ہوئے کہتا ہے “سمالان پہلے آپ بریفنگ شروع کریں، بتائیں کہ علاقے کی صورتحال کیا ہے، دوست کس حالت میں ہیں اور اس وقت دشمن کی علاقے میں صورتحال کیا ہے؟”

نورا کی بات کاٹتے ہوئے کلاتی کہتا ہے “استاد! بے ادبی معاف، آپکی بات کاٹ رہا ہوں، لیکن آپ اٹھارہ دنوں سے مسلسل سفر میں ہیں، وہ بھی سردی وبرفباری میں، آپ اتنے دنوں سے بے خواب و بے آرام بھی رہے ہیں، ابھی رات ہوچکی ہے، آپ آج رات آرام کیوں نہیں کرلیتے، ہم پھر کل صبح ان تمام أمور پر غور و بحث کرتے ہیں؟” کلاتی کی بات سننے کے بعد نورا ہنستے ہوئے بولتا ہے “نہیں دوست میں ابھی تک جوان ہوں، ابھی تک میرے جسم میں طاقت ہے، جب تک سوچ و نظریئے میں قوت ہو تب تک جسمانی تھکن معنی نہیں رکھتی، جب سوچ بوڑھا ہوگیا، ارادے بوڑھے ہوئے، ضمیر بوڑھا ہوگیا، تو پھر انسان بیوی بچوں کے ساتھ بیٹھتے ہوئے، آرام کرتے ہوئے بھی تھکن زدہ ہوجاتا ہے۔”

اس کے بعد سمالان حالات کے اوپر بریفینگ دیتا ہے، دو گھنٹوں تک تمام کمانڈر بات کرتے رہتے ہیں، دیوان کو سمیٹتے ہوئے آخر میں نورا بولتا ہے “ٹھیک ہے! کل صبح چھ بجے سب دوستوں کا ایک میٹنگ منقعد کریں، دیوان میں تمام أمور پر بحث مباحثہ کرتے ہیں اور پھر وہیں بچیس دسمبر کے “مشن اسلم” سے تمام دوستوں کو آگاہ کرتے ہیں اور مشن کیلئے ساتھی چنتے ہیں۔”

(۵)
پہلی بار اس پہاڑ کے چوٹی نے سورج کی تپش جانے کب محسوس کی ہوگی؟ معلوم نہیں اس سرزمین پر یہ پہاڑ پہلے نمودار ہوا تھا یا بلوچ؟ مجھے لگتا ہے لازم یہ پہاڑ بلوچوں سے پہلے اس سرزمین پر اپنے سر اٹھا چکا تھا، پھر یہ بلوچوں کے پہاڑ ہوئے یا ان پہاڑوں کے بلوچ ہوئے؟ شاید جب پہلی بار زمینی پلیٹوں کے رگڑ نے اس اونچے پہاڑ کو اپنے کوکھ سے جنم دیا تھا، تو اس وقت انسان بھی نہیں ہونگے، شاید بہت سے معدوم النسل جانور مجھ سے پہلے اس پہاڑ پر چڑھے ہوئے ہونگے، شاید کبھی ڈائناسور اس پہاڑ کے مشرقی پہلو میں سستانے اور دھوپ سینکنے بیٹھے ہونگے۔ کاش! یہ پہاڑ یوں خاموش نہیں ہوتا اور میں اس سے بات کرسکتا، تو میں اس سے پوچھتا کہ اس نے مرگ و زیست اور فنا و بقا کی کتنی جنگیں اپنے پہلو میں دیکھیں ہیں۔ اگر پہاڑ بولتے، تو دنیا کے سب سے بہترین قصہ گو یہی ہوتے۔ شاید یہ بولتے ہوں، لیکن ہمیں انکی زبان سمجھ نہیں آتی، شاید وہ گونگے نہیں ہم بہرے ہیں۔ پہاڑ! تمہیں تمہارے اس خوبصورتی کی قسم، جب تم بولنے کے قابل ہوئے یا لوگ تمہیں سننے کے قابل بنے، چاہے ہزاروں سال گذریں، تم اپنے بیان قصوں میں ہمارے فنا و بقا کے قصیدے ضرور شامل کرنا، ہمارے زیست و مرگ کی جاری کشمکش کی ہر ایک داستان بیان کرنا، تمہیں واسطہ ہے تمہارے پرتکبر اٹھے سَر کی، ہر گذرنے والے کو وہ پگڈنڈیاں دِکھانا جہاں اسلم کے پیروں کے نشان پڑے تھے۔ ہمیں فراموش نا کرنا۔

مَلنگ رات کا گھاٹ دینے کے بعد سالک کے صبح سویرے پہنچنے کے بعد پہاڑ سے اترتے ہوئے خود سے ہی ہمکلام تھا۔ ہمیشہ فطرت کی خوبصورتیوں میں کھوجانے، پہاڑوں سے باتیں کرنے اور شاعری کرنے کے وجہ سے ہی اسے ساتھیوں نے مَلنگ کا کوڈ نام دیا ہوا تھا۔ ملنگ جیسے ہی گھاٹ سے اتر کر کیمپ پہنچا، وہ ایک ایک کرکے ہر ایک دوست کے “جُھگ” جاکر انہیں اٹھانے لگا۔ کچھ دوست پہلے سے اٹھ چکے تھے، خاص طور پر “لنگری” والے دوست ایک گھنٹہ پہلے ہی اٹھ کر ناشتہ تیار کررہے تھے، لیکن یہ رات کے پہرے سے واپس آنے والے دوست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ تمام دوستوں کو اٹھائے، اسکے بعد ہی ناشتہ کرنے بیٹھے۔

ملنگ اور تمام ساتھیوں نے ملکر ناشتہ کیا، وہیں ناشتے پر ہی کمانڈر سمالان نے تمام دوستوں کو آگاہ کیا کہ ناشتے کے فوری بعد گھاٹ پر معمور ساتھیوں کے علاوہ سب چھ بجے ٹریننگ گراونڈ میں جمع ہوجائیں۔

(۶)
“کیا کبھی وہ بچے یتیم خانوں میں سوتے ہیں، جنکے والدین حیات ہوں؟ کیا تم نے چٹان جیسے والدین کے بچوں کو ہارتے دیکھا ہے؟ ہم تو کوہ زاد ہیں، ہم کبھی نہیں ہار سکتے، ہم کبھی بے گھر نہیں ہوسکتے۔” مندل خان اور بولانی ایک دوسرے کے ساتھ بلند آواز میں گفتگو کرتے ہوئے گراونڈ کی جانب جارہے تھے۔

استاد نورا اور کمانڈر سمالان کے ہدایت پر پہلے سے ہی کمانڈر کلاتی نے ٹریننگ گراونڈ میں مٹی اور بجری کی مدد سے میدان جنگ کا نقشہ بنالیا تھا، تمام ساتھیوں کے جمع ہونے کے بعد سب سے پہلے وہ محل وقوع اور دشمن کے پوزیشن پر ساتھی سرمچاروں کو تفصیل سے بریفینگ دینے لگا۔ اسکے بعد کمانڈر سمالان آگے بڑھ کر ساتھیوں سے مخاطب ہوکر بولنے لگا “ہمارا ٹارگٹ جھالاوان تنک میں دشمن کے پوسٹ پر نا صرف حملہ کرنا ہے بلکہ اس پر مکمل قبضہ کرنا ہے اور ہم یہ حملہ آج سے ٹھیک بائیس دن بعد بچیس دسمبر کو کریں گے۔ اسکا مطلب ہمارے پاس اس حملے کی تیاری، ٹریننگ، سفر کیلئے صرف بائیس دن ہیں۔ حملے کے مقام پر پہنچنے کے بعد ہم پانچ یونٹوں میں تقسیم ہونگے۔ ہر اول دستے کی کمان استاد نورا کریں گے اور اسکے ساتھ پانچ ساتھی ہونگے، دوسرے دستے کی کمان میں کروں گا جو استاد نورا کے یونٹ کے حملے کے ساتھ ہی عقبی حصہ سے دشمن پر حملہ آور ہوگی۔ یہ دو یونٹ دشمن سے مقابلہ کرکے آھستہ آھستہ ان راستوں سے پیش قدمی کریں گے ( نقشے پر راستوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے) اسی دوران تیسرا یونٹ ماما سگار کے کمان میں شمالی ڈھلان سے خاموشی سے پیشقدمی کرتے ہوئے دشمن کے کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔ باقی دو یونٹ “بیک اپ” کے طور پر الگ الگ کمانڈر کلاتی خان اور کمانڈر مندل خان کی کمان میں ہر اول دستوں کو “کَور” دیتے جائیں گے۔ اور ولو جان میڈیکل یونٹ کی کمان کریں گے۔” کمانڈر کلاتی ایک گھنٹے تک حملے کی منصوبہ بندی کے بارے میں بریف کرتا رہا اور آخر میں تمام ساتھیوں کو انکے یونٹوں میں تقسیم کیا گیا۔”

بریفینگ کے اختتام پر استاد نورا دوستوں کی جانب دیکھتے ہوئے بولنے لگا “ساتھیوں! ہم میں اور اس وقت جھالاوان تنک میں بیٹھے، ان دشمنوں میں فرق یہ ہے کہ جب پہلی گولی چلے گی تو وہ جان بچانے کیلئے لڑیں گے اور ہم ایک پوری قوم اور نسل بچانے کیلئے لڑیں گے، اسلیئے انکی غلطی اور انکی بزدلی کی قیمت انکی جان ثابت ہوگی لیکن دوستوں اگر خدا نخواستہ ہم بزدل نکلے یا پھر ہم نے غلطی کی تو ہماری قیمت قوم و نسل چکائے گی۔ اسلیئے ہر دوست خود کو ذہنی و جسمانی طور پر ہمیشہ تیار رکھے۔ اگر کسی دوست کے ذہن میں کوئی سوال ہے تو وہ پوچھے۔”

“استاد نورا، ہم دشمن کو راستے میں نشانہ بناسکتے ہیں، ہم حملہ کرکے بحفاظت نکل سکتے ہیں، ماضی کی طرح بہت سے ممکنہ دورمار حملوں کے طریقہ کار استعمال کرسکتے ہیں، تو پھر دشمن کے پوسٹ پر قبضہ کرنے کی کیا ضرورت” کیموفلاج پرنٹ کوٹ میں ملبوث نوجوان شیہک نے نگاہیں زمین پر بنے نقشے پر گاڑھے ہی سوال کیا “سب سے پہلے تو اس حملے کا مقصد وہی ہے، جو ہر چھوٹے بڑے حملے کا مقصد ہوتا ہے کہ ہم اپنی سرزمین پر دشمن کو برداشت نہیں کرتے، اور ہم اپنی پوری قوت اور ہر ممکن ذرائع کا استعمال کرکے، دشمن کو اپنے زمین پر بیٹھنے نہیں دینگے، جہاں تک پوسٹ پر قبضہ کرنے کا سوال ہے تو ایک بات یاد رکھیں دنیا کی ہر جنگ جگہ پچاس فیصد اگر میدان جنگ میں لڑی جاتی ہے تو نصف جنگ نفسیاتی جنگ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن ہمارے قوم کو نفسیاتی طور پر دبائے رکھنے کیلئے شہروں میں فلیگ مارچ کرتی ہے، فوجی پریڈ کرکے اسلحہ کی نمائش کرتا ہے، اپنی پوری میڈیا استعمال کرکے پروپگنڈہ سے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ اسکا فوج ایک تنخواہ خور بزدل فوج نہیں بلکہ بہادر فوج ہے، اسی لیئے سرینڈر کے ڈرامے رچاتا ہے تاکہ یہ ظاہر کرسکے کہ سرمچار خوفزدہ ہیں اسکی فوج سے، بیگناہوں کو پکڑ کر ہاتھ باندھ کر سروں میں گولیاں مارکر شہید کرکے مقابلہ ظاہر کرتا ہے تاکہ یہ ظاہر کرسکے کہ دوبدو مقابلوں میں اسکی فوج کیسی پیشہ ورانہ صلاحیت رکھتی ہے اور بہادری کا مظاہرہ کرکے مقابلہ کرتی ہے۔ لیکن ہم بخوبی جانتے ہیں کہ دشمن کی تنخواہ خور فوج کتنی بزدل ہے۔ دشمن کے کیمپ پر قبضہ کرکے، انکے محفوظ چیک پوسٹوں کے اندر گھس کر انہیں مارکر ہم اپنی قوم اور دنیا کو دِکھاسکتے ہیں کہ یہ کیسے بزدل اور بگھوڑے ہیں، کیسے پہلی گولی چلتے ہی ان میں سے جسے بھی بھاگنے کا موقع ملتا ہے، وہ اپنے ہی ساتھیوں کو مرنے کیلئے چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ قبضہ کرنے یا انکے اندر گھس کر مارنے سے ہم حقیقی بہادر و بزدل کا فرق آشکار کردیں گہ ہم نا صرف دشمن کو نفسیاتی شکست دینے میں کامیاب ہونگے بلکہ اپنی قوم کو یہ یقین دلائیں گے کہ وہ اگر اٹھ کھڑے ہوجائیں تو یہ بزدل فوج انکے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔” نورا نے تحمل سے شیہک کی طرف دیکھتے ہوئے وضاحت کی۔

نورا کے بات کی اختتام کے بعد لنگری کے ذمہ دار ساتھی اجازت طلب کرکے، دوپہر کے کھانے کے بندوبست کیلئے نکل گئے، دو ساتھی لکڑیاں جمع کرنے اور ایک ساتھی پانی لانے کی اپنی ذمہ داری پوری کرنے نکل گئی اور باقی ساتھی دوپہر کے کھانے تک وہاں بیٹھے رہے اور مختلف موضوعات پر بحث مباحثہ کرتے رہے۔

(۷)
اگلے دن کمانڈر کلاتی صبح ناشتے کے بعد ٹریننگ گراونڈ کی جانب چہل قدمی کررہا تھا، تو اس نے دیکھا نورا ٹریننگ کیلئے آئے چار نئے نوجوانوں کے ساتھ سرکل کی صورت میں بیٹھا ہوا باتیں کررہا ہے، وہ تھوڑے فاصلے پر چار زانوں ہوکر بیٹھ گیا اور نورا کو سننے لگا “ایک گوریلہ کا سب سے بڑا استاد پہاڑ ہوتے ہیں، کامیاب گوریلا وہی ہوتا ہے، جو پہاڑ جیسا کردار رکھتا ہو، پہاڑ سے چشمے بھی پھوٹتے ہیں جو زندگی کا جوہر ہوتا ہے اور پہاڑ لاوا بھی اگلتا ہے جو ہر چیز جلا کر خاکستر کردیتا ہے، لیکن تم نے دیکھا ہوگا پہاڑ اپنا غصہ، اپنا لاوہ کیسے خاموشی کے ساتھ اندر دبائے رکھتا ہے، لیکن اس سے چشمے ہر طرف خاموشی و بے نیازی کیساتھ پھوٹتے نظر آتے ہیں۔ اسی طرح ایک گوریلہ کو بھی اپنا غصہ بہت مضبوطی کے ساتھ بہت اندر دبائے رکھنا چاہیئے، اور جب وہی غصہ ظاہر کرنے کا وقت آئے تو پھر کسی آتش فشاں کی طرح ہی ظاہر کرے جو پوری دنیا کو ہلا دے۔ پہاڑ مضبوطی و استقامت سے ہر قسم کی سختیوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنے جگہے پر کھڑا رہتا ہے، یہی مضبوطی و استقامت ایک گوریلہ کا بنیادی صفت ہونا چاہیئے۔ ہر پہاڑ کو قریب سے دیکھو تو اس میں الگ نقش و نگار نظر آئیں گے، ہر ایک کی اپنی ہیت، اپنا عمر اور اپنا ہی الگ رنگ ہوگا، لیکن جب دور سے دیکھو تو ہر ایک پہاڑ اپنی انفرادیت کھوکر باقی پہاڑوں کے جمگھٹے میں گم ہوجاتا ہے اور فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح ایک گوریلہ اپنے کردار و افکار میں اپنی برقراریت رکھتا ہے لیکن وہ کبھی اپنی انفرادیت کو اجتماعیت پر حاوی نہیں ہونے دیتا، جب سے انسان نے غور کرنا شروع کیا ہے تب سے یہ پہاڑ مضبوطی و استقامت کا استعارہ ہیں اور جب تک انسان اس زمین پر رہیں گے تب تک پہاڑ استقامت و مضبوطی کا استعارہ رہیں گے”

نورا اپنی بات ختم کرکے کپڑے جھاڑتے ہوئے کھڑا ہوا، وہ اور کمانڈر کلاتی ایک ساتھ ٹریننگ گراونڈ سے تھوڑی دور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے نکل گئے “میں اور تم، گاجی اور سمیر کے ہمراہ کل صبح جھالاوان تنک کی جانب نکل جائیں گے۔ ہم ایک لاغ اور ضروری سامان بھی لیجائیں گے، تب تک علاقے کی اچھے طریقے سے معائنہ کریں گے، تب تک ہر یونٹ کا کمانڈر اپنے یونٹ کی تربیت کریگا، یہاں حکمت عملی کی مشق کریگا اور دو ہفتوں بعد وہ روانہ ہوکر ہم سے وہیں ملیں گے” نورا اور کلاتی مشن کی تفصیلات پر بات کرتے رہے اور ساتھ میں جلانے کی لکڑیاں جمع کرتے رہے۔ پھر دونوں نے مضبوطی سے لکڑیوں کو گھانٹ باندھ کر کندھے پر اٹھاتے ہوئے رخ کیمپ کی جانب کردیا۔

(۸)
“پہاڑوں میں تمہارا سب سے پسندیدہ منظر کونسا ہے؟” اگلے روز پورا دن چلنے کے بعد دوپہر کو سستانے کیلئے نورا، کلاتی، گاجی اور سمیر ایک پہاڑی کے دامن میں ایک چشمے کے کنارے بیٹھے تو کلاتی نے بے اختیار نورا سے سوال کیا۔ نورا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ” پورے چاند کے دنوں میں جب طلوع آفتاب کے وقت مشرق کیجانب پہاڑوں سے سورج اُگ رہا ہوتا ہے اور مغربی پہاڑوں میں پورا چاند چھپ رہا ہوتا ہے، تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ آسمان پر چاند اور سورج ہلکی روشنی میں آمنے سامنے نظر آتے ہیں، کبھی کبھار جب زیادہ دھند پڑرہی ہو تو فرق کرکے بتانا مشکل ہوجاتا ہے کہ کونسا چاند ہے اور کونسا سورج، اس سے زیادہ خوبصورت منظر میں نے آج تک کہیں نہیں دیکھا ہے، یہ ایک طرح سے مجھے یقین دلاتا ہے کہ کیسے روشنی کو موت نہیں۔” گاجی نے ہنستے ہوئے نورا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ” پھر ظالم پورے چاند تک کیمپ میں رک جاتے، تھوڑا آرام کرتے، تین ہفتے پیدل چلنے کے بعد آئے، دو دن بھی کیمپ میں نہیں رکے اور دوبارہ نکل پڑے، اس لمبے مسافت پر، معائنہ کرنے کیلئے میں اور کلاتی کافی تھے۔” نورا قہقہہ لگاتے ہوئے بولا ” اڑے فکر نہیں کرو، میں برابر ہوں، اور ویسے بھی سائنس فکشن فلموں کے ایلینوں کی طرح جب کوئی سخت جان سرمچار مرجائے تو پھر دو بن جاتا ہے، تمہاری جان آسانی سے مجھ سے نہیں چھوٹے گی۔”

تھوڑی دیر آرام کرنے، ہنسی مزاق اور چائے پینے کے بعد چاروں دوبارہ سفر پر روانہ ہوئے، کافی دیر وہ خاموشی کے ساتھ بلند پہاڑوں کے بیچوں بیچ چلتے رہے، کلاتی نے خاموشی توڑتے ہوئے نورا سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا “یار، یہاں آنے سے پہلے تمہارا رابطہ اور نظر تھا شہری سیاست پر یا نہیں؟ کیسا چل رہا ہے سب؟ سنا ہے اب سیاسی تحریکیں زمین کے بجائے سوشل میڈیا پر چلتی ہیں، تمہاری کیا رائے ہے سوشل میڈیا کے بارے میں؟ “دیکھو یار کلاتی، ہم ایک جدوجہد کررہے ہیں، اسے کامیاب کرنے کیلئے، ہمیں ہر ممکن ذرائع بروئے کار لانے چاہئیں، ان میں سے ایک ذریعہ سوشل میڈیا بھی ہے، یہ بالکل اہم ہے لیکن بات صرف یہ سمجھنا چاہیئے کس ذریعے کا کیا استعمال ہے۔ ایک بات ہمیشہ یاد رکھو، زمین پر عملی تبدیلی دیکھنا چاہتے ہو تو پھر اسکیلئے عمل اور جدوجہد بھی زمین پر ہی کرنا پڑے گا۔ سوشل میڈیا پر آپ تبدیلی نہیں لاسکتے، بلکہ لوگوں تک اپنی بات پہنچا سکتے ہیں، رابطہ کاری کرسکتے ہیں، انہیں موبلائز کرسکتے ہیں تاکہ وہ آکر زمین پر عملی تبدیلی لائیں۔ سوشل میڈیا ایکٹویزم خود ایک ایکٹویزم نہیں ہے بلکہ وہ گراونڈ ایکٹویزم کی تیاری ہے، اگر اس سے آپ گراونڈ کو خارج کرکے، اسے ہی کُل سمجھوگے تو پھر آپ اپنا وقت برباد کررہے ہو، بس اسی فرق کو سمجھنا ہے۔ آج بدقسمتی سے میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے سیاسی کارکن بلکہ ہماری پوری بڑی سیاسی پارٹیاں تک یہ فرق بھول رہے ہیں اور بیٹھ کر سوشل میڈیا پر تبدیلی لانے کی کوششوں میں لگے ہیں اور دلیل میں عرب بہار یا بلیک لائیوز میٹر کی مثالیں دیتے ہیں۔ عرب بہار یا بلیک لائیوز میٹرز میں سوشل میڈیا کا کامیاب استعمال ایسے ہوا کہ وہ لوگوں کو سڑکوں پر لے آئے، پھر سڑکوں پر جو ہوا، اسکے ہر پَل کی خبر سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا تک پہنچائی، تبھی کامیاب ہوئے۔”

نورا گرمجوشی سے سوشل میڈیا پر بات کررہا تھا، اس دوران مسلسل خاموشی سے سنتا سمیر اچانک نورا کی بات کاٹتے ہوئے بول پڑا “استاد، بیرون ملک جو بلوچ سیاست ہورہی ہے، اسکے بارے میں آپکا کیا خیال ہے؟” نورا مسکراتے ہوئے بولا “سیاست ہاں، یہی تو مسئلہ ہے، قومیں بیرون ملک سفارت کرتی ہیں، سیاست نہیں لیکن ہم سیاست کررہے ہیں، یہاں بھی ہم ایک باریک سا فرق بھول گئے ہیں۔” سوال و جواب کا یہ سلسلہ رات اندھیرا چھانے تک چلتا رہا اور پہاڑ خاموشی سے کھڑے سنتے رہے۔

(۹)
دو ہفتوں بعد باقی یونٹ جھالاوان تنک کے مقام پر نورا اور ساتھیوں سے ملے، چوبیس دسمبر کو تمام کمانڈروں نے دشمن کے پوسٹ کا بغور مشاہدہ کیا اور اگلے دن یعنی پچیس دسمبر کو منصوبے کے مطابق حملے کی تیاری شروع کردی۔

حملہ انتہائی شدید اور کامیاب نوعیت کا رہا، جو دنیا بھر کے میڈیا کی زینیت بنی۔ ستائیس دسمبر کو بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا میں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ” بی ایل اے کے سرمچاروں نے آج شام بولان میں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت دشمن فوج کے ایک چیک پوسٹ پر حملہ کرکے کامیابی کے ساتھ پورے کیمپ پر قبضہ کرلیا۔ سرمچاروں کے حملے و قبضے میں گیارہ فوجی اہلکار موقع پر ہلاک کردیئے گیئے جبکہ بزدل دشمن کے متعدد اہلکار ہتھیار اور اپنے زخمی ساتھیوں کو پیچھے چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ بلوچ سرمچار دوگھنٹوں تک دشمن کے چیک پوسٹ پر قبضہ جمائے رہے اور بھاری تعداد میں موجود انکا فوجی سازو سامان اور اسلحے کے ذخیرے کو قبضے میں لیکر اپنے ساتھ لے آئے۔”

کچھ عرصے کے بعد اس حملے اور چیک پوسٹ پر قبضے کی ویڈیو بھی نشر ہوئی، پوری قوم نے دشمن فوجیوں کو بھاگتے، چھپتے اور مرتے دیکھا اور دوسری طرف کوہزادوں کی بہادری دیکھی۔

(۱۰)

“جب ہمیں پیاس لگتی ہے، تو یہ پہاڑ اپنے دامن سے چشمے انڈیل کر ہماری پیاس بجھاتے ہیں، جب سرد ہوائیں چلتی ہیں تو یہ ہمیں اپنی بانہوں میں لیکر ہواوں کے سامنے دیوار بن جاتی ہیں، جب تیز دھوپ ہوتی ہے تو یہ پہاڑ اپنا چھایا ہمارے سروں پر پھیلادیتے ہیں، جب دشمن ہم پر حملہ کرتا ہے تو یہ پہاڑ مضبوط فصیلیں بن کر ہماری رکھوالی کرتی ہیں، لیکن یہی پہاڑ دشمن کیلئے کیوں ہمیشہ عذاب سی ہیں؟ جب بھی ان پہاڑوں میں ہم ان پر حملہ کرتے ہیں، کبھی بھی یہ پہاڑ ان پر مہربان نظر نہیں آتے، انہیں کبھی کیوں نہیں بچاتے؟ بلکہ وہ ان میں کھوکر، لڑکھڑا کر، تھک کر مزید خود کو موت کے منہ کے قریب لے آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے استاد؟” دشمن سے چھینا ہوا اسلحہ کندھوں پر اٹھایا ہوا نوعمر دلوش، نورا کے ہمراہ واپس کیمپ پہنچتے ہوئے دریافت کرتا ہے۔ نورا اسکی جانب تھکن بھرے مسکراہٹ کیساتھ دیکھتے ہوئے بولتا ہے” کیونکہ ہم کوہ زاد ہیں بیٹا اور وہ کوہ فروش”

کیمپ میں موجود ساتھی، آنے والے ساتھیوں کا استقبال کرتے ہیں اور کامیاب آپریشن پر مبارکباد دیتے ہیں۔ رات دیر گئے کمانڈر سمالان کے جُھگ میں سینئر کمانڈر ایک بار پھر جمع ہوئے ہوتے ہیں اور نورا کی آواز آرہی ہوتی ہے “میں اور ماما سگار کل کاہان کو نکلیں گے۔۔۔۔۔”


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔