پاکستان ایک فیڈریشن ہے قوموں کے حقوق تسلیم کیے جائیں – نیشنل پارٹی

40

نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سکریٹری قانون و پارلیمانی امور راحب خان بلیدی اور ایڈووکیٹ قاسم گاجزی کی سربراہی میں ریٹائرڈ سیشن جج سپریم کورٹ کے وکیل امان اللہ بلوچ، سپریم کورٹ کے وکیل محمد حسن مینگل، اصل بادشاہ خٹک ایڈووکیٹ، رضاخان آفریدی ایڈووکیٹ، حمیداللہ محمدشہی ایڈووکیٹ، فاضل محمدشہی ایڈووکیٹ، ثنان ہوت ایڈووکیٹ، اکرام بلوچ ایڈووکیٹ اور محمد عامر ایڈووکیٹ نے مرکزی سکریٹریٹ کوئٹہ میں ملاقات کرتے ہوئے باقاعدہ نیشنل پارٹی میں اپنی شمولیت کا اعلان کردیا۔

اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے تعلیم یافتہ لوگوں کا نیشنل پارٹی میں شمولیت اس بات کی دلیل ہے کہ نیشنل پارٹی ایک نظریاتی و فکری جماعت ہے جو بلوچستان کے عوام کا سیاسی مقدمہ ایک بہتر انداز میں لڑرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ لوگوں کی شمولیت سے قومی تحریک کو تقویت ملے گی، نیشنل پارٹی کی جدوجہد بلوچستان کے عوام کی قومی معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے ہیں۔

پاکستان کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ یہ ایک حقیقی فیڈریشن بنے اور قوموں کی خودمختاری کو تسلیم کرتے ہوئے ساحل وسائل پر ان کا حق اختیار تسلیم کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد بلوچستان میں بسنے والے عوام کے لیے ہے جب تک بلوچستان کے تمام لوگ بلوچ، پشتون، آبادکار یا سیٹلر اور ہزارہ ایک سیاسی پلیٹ فارم پر متحد نہیں ہونگے تب تک کامیابی ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ نیشنل پارٹی کو نیشنل عوامی پارٹی نیپ جیسا پارٹی بنائیں۔

ریٹائرڈ سیشن جج ایڈووکیٹ امان اللہ بلوچ اور ایڈووکیٹ محمد حسن نے نے اس موقع پر کہا کہ طویل سیاسی جدوجہد کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ نیشنل پارٹی واحد سیاسی جماعت ہے جو بلوچستان کے عوام کے سیاسی معاشی اور قومی حقوق کے حصول کی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پارٹی قیادت کے کردار اور گفتار میں کوئی فرق نظر نہیں آیا نیشنل پارٹی قیادت نے اپنے ڈھائی سالہ دور اقتدار میں عمدہ کام کیا تعلیم کے فروغ میں ڈاکٹر مالک بلوچ کا نمایاں کردار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کو وسعت دینے میں وہ اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔