میرا خُضدار – لونگ چے بلوچ

72

میرا خُضدار

تحریر: لونگ چے بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ قومی تَحریک آزادی، منزل اور مقصد پر ایک عرصہ دراز سے مُتحرک اور اپنی جنگی تزویرات و جنگی حکمت عملی سے دشمن کو تاوان دیکر پسپا ہونے پَر مَجبور کَرچکا ہے ۔ جس سے غاصب مکمل طور پر شکست کھانے ہونے پر مَجبور ہے۔ قومی آزادی کی تَحریک اپنی شدت اختیار کرکے ایک تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہاہے ۔جونہی وقت آگے بڑھ رہا ھے بلوچ قومی تَحریک آزادی اپنے مقصد میں آگے بڑھ رہا ھے ۔ نوجوان اپنی شعوری پختگی کی وجہ سے تحریک کا حصہ بَن رہے ہیں۔ موجودہ سائنسی جدید ٹیکنالوجی کے دور میں نوجوانوں کو اس بات کا مکمل ادراک ہوچُکا ھے کہ بحثیت قوم انکی شُناخت مِٹ رہی ھے۔ بلوچ دنیا کے کسی بھی کونے میں محفوظ نہیں ہیں اور نہ ہی اپنے مادر وطن بلوچستان میں۔ نوجوان اِس لئے بھی تحریک کا حصہ بن رہےہیں کہ انکے دماغ میں موجود نیورانز کنسٹرکٹ ھوکر اِس سوال کے جواب کا متلاشی بن رہے ہیں کہ آخر ھم دنیا میں اپنے مادر وطن میں محفوظ کیوں نہیں ہیں؟ بلوچ اپنی پناہ ، تاریخ ، شناخت، صدیوں پُرانی تاریخ کو مسخ ھونے نہیں دے رہے ہیں بلکہ اِن سازشوں کے خِلاف مکمل مزاحمت میں نظر آرہے ھیں۔ بلوچ اَپنی تَاریخ پر پاکستان کے مغلوب ہونے کے خلاف اپنی ماؤں، بہنوں کی عزت کی خاطر مزاحمت کرتے ھوئے اپنی جان تک نِچھاور کررہے ھیں۔ اپنے ساتھ ناانصافیوں کا منطقی و معروضی انداز میں دیکھ رہے ہیں اور اور یہی تفکر اِنکو ریاست کے خِلاف مزاحمت کَرنے ہر مَجبور کررہی ھے۔ مزاحمت مختلف انداز میں ہوسکتاہے جو مسلح جدوجہد کی صورت میں بھی نمودار ھوچُکا ھے ۔

بلوچستان بھر میں پَاکستانی کاونٹر انسرجنسی کے خِلاف تَحریک آزادی چل رہی ھے۔ بَلوچستان کا ایک شہر خُضدار ہے، جسکا ھم اگر جَائزہ لیں تو ایک عرصہ سے مکمل طور پر مایوسی ، کمزوری اور خوف کا شِکار ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ یہاں پڑھے لِکھے سے لیکر دور دراز علاقوں کے شوان تک ریاست کا کاؤنٹر انسرجنسی پھیل چُکی ہے، جو خود کو صرف بلوچ کہلاونے میں خوف محسوس کررہے ہیں۔ محض قیاس آرائی تک محدود ہُوچکُے ھیں ۔ نوجوان وقت گزاری اور غفلت کی زندگی میں مکمل مَگن ہیں۔ مختلف گروہ مِل کر رمضان میں پوری رات لُڈو ، کرکٹ ، پبجی ، فٹبال کھیل تک محدود ہوچُکے ھیں ، یا چمروک کے نزدیک ایک خالی پَٹ میں پچاس سے سو، منشیات کے عادی نَشے کی حالات میں اپنے دماغ کو سُن کرکے پڑے ہوئے رہتے ہیں، اِنکو اتنا تک پتہ نہیں کہ ریاست انکے بنیادی حقوق سلب کرچکا ھے اور ریاست کے خِلاف ایک جنگ چھڑ چُکی ھے ۔

مَنشیات ، گروپ بازی میں ملوث نوجوان ریاستی ڈیتھ اسکوڈ سے ایک سیلفی کھینچوا کر خود کو جلال اکبر سمجھ رہے ہیں۔ منشیات ، گروپ بازی میں اتنے مَگن ہوچکے ھیں کہ اپنی تَاریخی شَعور سے بیگانگی اخِتیار کرچکے ھیں۔اپنے بنیادی حقوق سے بیگانگی اپنے بلوچی روایات ، اپنے تاریخ سے مکمل لاشعوری کی حالات میں ھیں۔ ایک زندگی نہیں گذار رہے ھیں بلکہ خود پر سے بوجھ اُتار رہے ہیں۔

یہ نوجوان تنظیمی سرگرمیوں سے دور تو نظر آتے ہیں مگر ہمشہ سے اُنکے دماغ میں بلوچ تحریک کے خِلاف غلط مفہوم بیٹھ چکا ہے اور غلط استدلال پیش کرتے ہیں کہ خُضدار دوبارہ مزاحمتی پوزیشن میں نہیں آسکتا ہے۔ ہمارے پولیسیز کبھی خضدار میں مزاحمت کے حوالے سے بہتر نہیں رہے ھیں۔نوجوان سمجھتے ہیں کہ خلا سے کوئی مخلوق آئیگا یا افغانستان سے جو یہاں مزاحمت کو دوبادہ زندہ و بیدار کریگا ۔

اِس بات کا ہم خود ہی اعتراف کیوں نہیں کریں کہ ھمارے پولیسیز تو غلط رہے ھیں لیکن ھم اپنے نظریاتی ساتھیوں کے حوالے سے اِس استدلال کو نفی قراردینگے۔ جب نواب اکبر بگٹی کو شہید کیا گیا تو پورے بلوچستان میں بلوچ پاکستان کے خِلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور ریلی نکالے گئے ، پروٹیسٹ ریکارڈ ھوئے ، اِسی دوران دوسرے شہروں کے مقابلے میں خضدار زیادہ ایکٹو مانا جاتا تھا۔ ریلی پروٹیسٹ میں نوجوان حصہ لیکر اپنا فریضہ ادا کررہے تھے ۔ لیکن ان نوجوانوں میں موجود نیم سیاسی و نیم شعوری کی حالات میں بھی ایکٹو تھے ۔ جو فوٹو سیشن ھیرواِزم کےلئے ریلی کا حصہ بنتے تھے ۔ یہ نوجوان خسارے میں پڑ گئے لیکن یہاں ان میں موجود نظریاتی ساتھیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ اِس بات کو بھی قبول کریں کہ ایک انقلابی اور آزادی کی جنگ تھی اِس میں دشمن نے بھی ہمیں تاوان دینا تھا ۔ جسکا ہمیں معلوم ہی نہیں تھا۔ دشمن نے اپنے لئے ایک منصوبہ تیار کیا تھا، ایک جال بچھایا ھوا تھا ھم نے اِس چال کا سوچا ہی نہیں تھا جس میں عام عوام، سیاسی کارکن ،نظریاتی ساتھی، اُساتذہ ، صحافی سب شامل تھے۔ دشمن ایک بہتر وقت کےلئے منتظر تھا وقت آنے پر اُس نے اپنا جال بِچھایا۔

دشمن غیر مہذب تھا اس نے مذہبی جنونیت کو لاکر لوگوں کو استعمال کیا مذہب کو استعمال کیا۔ مولانا طارق جمیل کے وہ الفاظ بھی یاد ھیں “ان ساحل و وسائل کا کیا کرناہے اللّٰہ کو راضی کرو ” وغیرہ سب شامل ھیں ۔ شفیق مینگل ، ذکریا محمد حسنی، زولفقار محمد حسنی ، فدا قلندرانی ، فیض دین ساسولی، نواز ساسولی ، ایس ایچ او ممتاز حسنی کو مکمل عوام و تحریک کے خِلاف استعمال کیا گیا۔ طلبہ کو سڑکوں پر مارنا، خضدار یونیورسٹی میں بم دھماکا ، امین برگیڈیئر کو وائس چانسلر کے عہدئے پر لانا ۔ وحید شاہ کا خواتین کو چودہ اگست، تیئس مارچ میں جانے کی مکمل چُھوٹ دینا سب ریاست کی چال اور پِلان کے مُطابق تھے ۔ اغواء ہوئے اور بیگناہ لوگوں کو قتل کرنے کے بعد خُضدار میں مکمل سناٹا سا چھاگیا۔خاموشی سی چھا گئی۔ اس بیچ ساتھ سے آٹھ سال بیت گئے۔نوجوانوں کو اِس دوران مکمل وقت مِلا دشمن کے چال کو سمجھنے میں۔ کچھ ریاست کےلئے استعمال ہورہے ھیں ۔ آج نوجوان ریاست کے حقیقت کو مُکمل جَان چُکے ھیں۔

آج بھی شفیق مینگل قومی تحریک کے خِلاف مگن ہے ۔ کیونکہ یہاں پر اِس بیچ کسی ماں نے ایک درویش کو جنم نہیں دیا ہے۔

خُضدار اتنے لاشعوری کی حالات میں نہیں ہوسکتا ھے ۔ خُضدار کَبھی عِید کے تحفے کو نہیں بھول سَکتا ھے ۔ خُضدار امیرالمک کے مِشن کو ادھورا نہیں چھوڑ سکتا ھے ۔خُضدار حئی کو نہیں بھول سکتا۔ خُضدار نے تو دلجان کو جنم دیا تھا۔ میں دشمن کے آنکھوں میں یہی خوف پچھلے پانچ سال سے دیکھ رہا ھوں کہ کہیں یہ نوجوان اپنی لاشعوری کو چھوڑ کر شعوری حَالات میں چھلانگ نہ لگائیں ۔کہیں ھمارئے لئے زَمین تَنگ نہ ھو ۔ کہیں عید کے تحفے کو دوبارہ یاد نہ کریں ۔ کہیں امیرالمک کے مِشن کو واپس مُتحرک نہ کریں۔ کہیں شہید دلجان کے تعلیمات اِن میں منتقل نہ ہوں۔ حئی کے جنگی چال کو دوبارہ نہ دوہرائے __ اِس دھرتی نے کئی چی گویرا جنم دیئے ہیں۔ یہ اپنے وطن کے مالک خود رہینگے لیکن دشمن ہمشہ سے نفسیاتی مَریض بن جائیگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں