لسبیلہ یونیورسٹی انتظامیہ کا طلباء مسائل حل نہ کرنا افسوسناک ہے – بی ایس سی

62

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں لسبیلہ یونیورسٹی کے طلباء کے مسائل پہ یونیورسٹی انتظامیہ کو غیر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔ مذکورہ یونیورسٹی میں طلباء اپنے جائز اور قابل حل مسائل پہ کئی روز سے احتجاجی مظاہرے کی شکل میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں، مگر یونیورسٹی انتظامیہ ان مسائل کو حل کرنے کے بجائے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ یہ نہ صرف طلباء کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ یونیورسٹی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی ہے۔

بی ایس سی (اسلام آباد) کے ترجمان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ گزشتہ سال کورونا وبا کے پھیلنے کے باعث ایچ ای سی کے احکامات کو مد نظر رکھ کر تمام تعلیمی سرگرمیاں آنلائن جاری کی گئی تھی۔ ایک طرف بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں انٹرنٹ بندش کی وجہ سے طلبہ آنلائن سسٹم سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور دوسری جانب یونیورسٹی انتظامیہ نے مشکلات میں اضافہ کرتے ہوئے پریکٹیکلز بھی آن لائن کروائے۔ مشکلات یہاں ختم نہ ہوئے بلکہ اکثر طلبہ کو پریکٹیکلز میں فیل بھی کیا گیا۔
واضح رہے کہ کورونا وبا کے پھیلاؤ کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ بلوچ طلبہ کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ آنلائن پریکٹیکلز کروا کر بہتر امید رکھنا سمجھ سے بالا عمل ہے۔ دھرنے پر بیٹھے طلبہ دوبارہ امتحان لینے اور پریکٹیکل لیبز کھولنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جو مکمل جائز ہے۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں بتایا کہ ہم انتظامیہ کے غیر سنجیدہ رویہ کی مذمت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبا و طلبات کے جائز مطالبات کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کرے گا۔