بلوچ لاپتہ افراد کیلئے کوئٹہ میں احتجاج جاری

66

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاج کو 4285 دن مکمل ہوگئے۔ خضدار سے محمد اشرف، خیر محمد بلوچ، علی محمد اور دیگر نے کیمپ کا دورہ کرکے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے رہنماء ماما قدیر نے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم پرامن جدوجہد کی نعمت سے بارآور ہونا چاہتے ہو تو قربانی دینے سے پس و پیش نہ کرو لیکن قربانی کیساتھ آپس میں نئے اتحاد و یکجہتی اور متحدہ عمل نہایت ضروری ہے، آپس کے اختلافات سے صرف دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس بات سے ہر عام و خاص معلومدار ہے کہ بلوچستان کی تاریخ اور بلوچستان کے بلوچوں نے مساعد اور مشکل حالات میں اپنے ظالموں اور ستم گروں کے خلاف بھرپور پرامن جدوجہد کی ہے۔

ماما قدیر کا مزید کہنا تھا کہ یہ ضمیر فروش ریاستی دلال چند مراعات کی خاطر اپنے ہی نوجوانوں کی مخبری کریں، یہ ضمیر فروش ہمسایہ داری علاقہ داری کا فائدہ اٹھاکر نوجوانوں سے قربت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اور وہ ریاستی حکمت عملی کے ذریعے اپنے آپ کو ان وطن دوست نوجوانوں کے سامنے ان سے زیادہ وطن دوست ثابت کرنے کی کوشش کرکے ان کے صفحوں میں گھس جاتے ہیں اور بلوچ نوجوانوں کے متعلق اپنے آگاوں کو معلومات دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ عوام کو قریب سات دہائیوں سے پاکستانی جبر کا سامنا ہے۔ پاکستان بلوچ عوام کو اعتماد کھو چکا ہے، بلوچوں کو توپوں، فضائی حملوں سے دبانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔