کراچی : ایرانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ مزدوروں کی قتل کے خلاف مظاہرہ

153

سندھ کے مرکزی شہر کراچی میں بلوچ متحدہ محاذ کی اپیل پر کراچی پریس کے سامنے گذشتہ مہینے مغربی بلوچستان میں ایرانی فورسز کے ہاتھوں بلوچ مزدوروں کے قتل کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا گیا۔

بدھ کی دوپہر کو خواتین، نوجوانوں اور بچوں کی بڑی تعداد نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا کر پریس کلب کے سامنے بلوچ مزدوروں کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر بلوچ متحدہ محاذ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملا رجیم کے ہاتھوں بلوچ مزدوروں کی شہادت بلوچ نسل کشی کا تسلسل ہے۔ بلوچ جو آج ایک جعلی لکیر میں بانٹ دیئے گئے ہیں دونوں طرف ظلم جبر کے شکار ہیں۔

مقررین نے کہا کہ ہم ایک جسم کے مانند ہیں مغربی و مشرقی نہیں بلکہ بلوچستان ایک ہے اور ہمارا وطن ہے۔

انہوں نے کہا کہ ظلم کے خلاف مزاحمت بلوچ کے خون میں ہے لیکن ہماری قتل پر اقوام عالم خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

احتجاجی مظاہرہ میں کراچی سے تعلق رکھنے والے طلباء طالبات سمیت مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔


خیال رہے کہ گذشتہ مہینے مشرقی اور مغربی بلوچستان کو علیحدہ کرنے والی سرحد گولڈ سمڈ لائن پر ایرانی فورسز کی فائرنگ سے کئی بلوچ مزدور جانبحق ہوئے تھے۔

اس واقعہ کے بعد مغربی بلوچستان کے بیشتر شہروں میں حالات کشیدہ اور کاروباری مراکز بند رہیں جبکہ اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور ممالک نے اس واقعہ کے رد عمل میں ایران کو ذمہ دار ٹہرا کر واقعے کی مذمت کی تھی۔