پرائے شہر میں انجان قبر – سفرخان بلوچ

272

پرائے شہر میں انجان قبر

 تحریر : سفرخان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

امی میں جارہا ہوں،یہ اس کے وہ آخری الفاظ تھے جو اس کے ماں کی کانوں میں پڑی تھی،اور وہ کاپی قلم اور کتابیں سمیٹ کر چل پڑا، پھر اس کی ماں نے یہ آواز کبھی سنی بھی نہیں، اور صرف چند گھنٹوں کے اندر جو کچھ ہونے والا تھا کسی نے یہ تصور بھی نہیں کی تھی۔

اس کے پاس بیٹھے اس کے ہم سبق طالب علم یہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ وہ اس کو آخری بار دیکھ رہے ہیں اور وہ معلم جو باری باری یہ کہہ رہا تھا کہ آپ سب اس سبق کو یاد کرکے اپنے اپنے گھر کے کام کیا کریں اور کل ملیں گے، وہ بھی اس وقت یہ تصور نہیں کرسکتا تھا کہ آج کے بعد وہ اس کو اس کلاس میں کبھی دیکھنے والے نہیں ہیں اور اس کے تمام کتابیں اور کاپیاں کچھ ہی منٹوں کے بعد کسی انجان گاڑی میں ایک مردہ لاش کی مانند پڑے ہونگے اور کسی تحقیقاتی ادارے کے دفتر میں سالوں تک پڑے ہونگے اور لیجانے والوں کو یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ انہوں یہ کاپی اور قلم کیوں لائی ہوئی ہے اور وہ کتابیں جو اس کے مستقبل کے ضامن تھے وہ بھی اسی کی طرح کسی انجان شہر میں انجان لوگوں کے بیچ بے یار و مدد گار پڑے ہونگے۔

کہانی شروع ہوتی ہے یہاں سے ایک ، دو اور تین ،تین کک لگا کر موٹر سائیکل کو اسٹارٹ  کرتے ہوئے اس وقت اس کے اونٹوں پہ مسکراہٹ آجاتی ہے اور پیچھے بیٹھتے ہوئے اس کے بھائی اور آگے اسکی چھوٹی بہن بس چل پڑے، جو یہ تصور ہی نہیں کرسکتے تھے کہ اگلے پانچ منٹوں میں ان لوگوں کے ساتھ کیا ہونا والا ہے اور یہ پانچ منٹ ان کے زندگی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہونے والے ہیں ان کے زندگی کی کئی اہم فیصلہ کرنے والےہیں۔

جس سڑک پہ وہ سفر کر رہے تھے اسی سڑک پہ اب سے سات منٹ پہلے کچھ باراتی گاڑیاں گزری تھیں جس میں خواتین بچے بڑے و بوڑھے سب ڈھول کے تاپ پہ مدہوش ہوکر ناچ رہے تھے، اب سات منٹ بعد وہی سڑک بھی یہ تصور نہیں کرسکتا تھا کہ میں نے اب سے کچھ منٹ قبل لوگوں کو خوشیاں بانٹتے ہوئے دیکھا تھا اور اب میں خود قاتل ثابت ہونے والا ہوں۔

بس یوں ہی کوئی انجان ٹرک اور موٹر سائیکل کی ٹکر سے کہانی بدل گئی، خواب ٹوٹ گئے، روشن زندگی کی خواہش رکھنے والی آنکھیں ابدی اندھیرے کے نذر ہوگئے۔زوردار ٹکر اور خاموشی،کان، ناک اور منہ سے دریا کے مانند بہتی ہوئی خون دیکھتے دیکھتے سنسان سڑک لہولہاں ہوگیا۔

بس ایک تیز رفتار گاڑی پوری رفتار سے آکر انکے پاس رکھ جاتی ہے دو تین لوگ جلدی جلدی گاڑی سے اتر کر انہیں گاڑی میں ڈالتے ہوئے جانب اسپتال چل پڑے۔

اسپتال میں ڈیٹول اور اسٹرپٹ کی بو کے بیچ اب فیصلہ ہونے والا تھا اتنے میں اس کے قریبی رشتہ دار بھی آ پہنچ گئے،بس اب ایمرجنسی وارڈ میں فیصلہ کی گھڑی تھی،ایمرجنسی وارڈ سے ڈاکٹر باہر نکلتا ہے تو سب کے سب اس کو دیکھنا شروع کردیتے ہیں اور کسی انجان زبان میں ڈاکٹر دو تین الفاظ کہہ دیتا ہے اور پھر اپنے نجی دفتر کے جانب چل پڑتا ہے سامنے والے یہ سمجھے ہی نہیں تھے کہ ڈاکٹر نے کہا کیا تھا، پاس کھڑے کسی انجان شخص انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے بڑی مشکل سے وہ اپنے ٹوٹے پوٹے انگلش میں صرف یہ بول پڑا ،،Dr says your belove is no more،،

غروب آفتاب ہوتے ہی سورج کا وجود عارضی طور پر اندھیرے کے ہاتھوں یلغار ہوتا ہے مگر پھر بھی لوگ طلوع آفتاب کے امید باندھتے ہوئے کئی خواب دیکھتے ہیں مگر اس دن اس کے لئے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب بے معنی ہوگئے تھے،اندھیری رات میں کچھ لوگ جلدی جلدی قبر کھودنے لگے انجان شہر میں انجان لوگوں کے درمیان پرایا تربت اور اس میں سونے کے لئے تیار ایک انجان شخص جس نے کئی خواب دیکھے تھے کئی ارمان سجائے تھے سب کے سب خاموشی کے نذر ہوگئے تھے

جس قبر میں وہ دفن ہے اس کے مغرب کی جانب ایک بوڑھا شخص دفن ہے جو کسی زمانے میں دو معاشی طاقتوں کی جنگ میں مارا گیا تھا جو آج بھی تک نہیں جانتا کہ میں کیوں مارا گیا ہوں،مشرق کی جانب ایک چھوٹا بچہ دفن جس نے ایک دن کسی ڈبے کو کھلونا سمجھ کر کھیلنا شروع کیا تھا جو کسی آتشی اسلحہ ثابت ہوکر پھٹ گیا تھا جس میں اس بچے کے ہاتھ پاوں اور گردن تن سے جدا ہوگئے تھے اور اس کو چار ٹکروں دفنا دیا گیا تھا،شمال کی جانب ایک جوان لڑکا دفن ہے جو کسی فوجی آفیسر کا ذاتی ڈرائیور ہوا کرتا تھا کسی دن اس کے مالک کی گاڑی کو بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تھا خوش قسمتی مالک گاڑی میں موجود نہیں تھا بدقسمتی سے گاڑی کو ڈرائیور چلا رہا تھا اور وہ بے موت مرگیا،جنوب کی طرف ایک خاتون دفن ہے اور پتہ نہیں اس کی موت کس طرح ہوئی ہے اور پورے قبرستان اکثریت لوگوں کی موت اسی طرح ہوئی ہے۔

ان تمام چیزوں سے اٹھ کر دل دہلانے والی بات یہ کہ جس قبرستان میں دفن ہے وہاں سب لوگ ایک زبان بولتے ہیں،ان کے مذہبی قوم اور دیگر رسومات بھی ایک جیسے ہیں اور وہ اکیلا شخص ہے جس کے رہن سہن زبان ان لوگوں سے الگ ہے اور سب سے بڑی بات جس زمین پہ وہ دفن ہے وہ زمین بھی اس کے خود کی نہیں ہے،۔

وہ اپنے آپ کو انجان لوگوں کے درمیان پاکر اس کدھر خوفزدہ ہے کہ ہر روشن چیز کو گل کرنے کی جستجو کرتا ہے۔

مگر بے جان!

اسکی آنکھیں دور خلاء میں کسی چیز کی تلاش میں ہیں کوئی آواز ہی سہی جو اسے سمجھ آئے ۔

مگر ایک کال کوٹھری تربت۔

اس کے سارے وجود کو بیڑیوں نے جکڑا ہوا ہے جو اپنے ہی تلاش میں کہیں نکلا تھا اور بیڑیاں، خوابوں کی بیڑیاں اس کے نرم و نازک جسم پر اپنے نشان چھوڑ رہے تھے ۔

اس کے بے داغ وجود کو داغ دار کر رہے تھے ۔

کرب ہے انتہا کا کرب۔

کچھ آوازیں شامل ہو رہی ہیں اس سارے ماحول میں بدنما آوازیں آوازوں کا شور بڑھتا جا رہا ہے۔

لوگ بین کر رہے ہیں خوابوں کے ٹوٹنے پر ان میں شامل ایک آواز اس کی بھی تھی۔

اس کے بعد وہ اپنے ہی آواز میں اپنے نام کو سن کر چونکی گئی۔

اور رہ گیا ہے،اک لاحاصل خواب۔۔۔۔۔۔۔۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔