اگر منہ کھولاتو ؟ – افروز رند

132

اگر منہ کھولاتو ؟

تحریر: افروز رند

دی بلوچستان پوسٹ

یہ کامریڈ کی رہائی کا آٹھواں مہینہ تھا، جب میں ان کی حال پرسی کیلئے گیا، اس کی حالت انتہائی ناگفتہ تھی۔ بہت سماجت ‘اسرار’اور میرے ضد پر اٹکنے کی وجہ سے اس نے مجھے بتایا کہ منہ کا تالا کھولنے کی صورت میں مجھے شدید قسم کے دھمکی دی گئی ہے۔ سو اسلیئے میں خاموش ہوں اور چھوڑنے والے مسلسل مجھے حراساں کررہے ہیں۔بہت مجبور کرنے پر انہوں نے صرف 10%فیصد یعنی بہت مختصر کہانی بتائی۔

کامریڈ نے بات جاری رکھتےہوئے کہا یہ میرا پہلا دن تھا اور چوبیس گھنٹے تشدد کے بعد مجھے سیل میں داخل کردیاگیاتھا تھوڑی دیر بعد ایک پہرے دار پھر آگیا۔ اس نے درشتگی کے عالم میں مجھے کئی لات رسید کرتے ہوئے اپنی قومی زبان میں میری ماں کو گالم گلوچ کا نشانہ بنایا اورکہا ‘گندی نسل کے اولاد تم لوگ پنجابیوں کے دشمن ہو آج تمہیں پتہ چل جائے گا پنجابیوں کی طاقت کیا ہے ۔ آج کے بعد تمہاری سندھیت ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مدھم پڑجائیگی دیکھو پنجابیوں کے پتر تمہارے ساتھ کیا کرینگے۔آج کے بعد تم سندھو دیش کے ساتھ اپنی ماں کو بھی بھول جاوگے۔”

اس نے بڑی بے دردانہ اور بدتمیزی کے ساتھ گالی دی اور ڈنڈوں کی بارش کرنے لگا غضب ناک آواز میں بولاتمہاری مسخ شدھ لاش بھی نہیں ملے گی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی یہاں آنے کے بعد لاش مل چکی ہے۔ تم نے سنا ہے کئی لوگ لاپتہ ہیں۔ اب تم ان کی لسٹ میں ہو۔ ہمارے لئے پریشانی کی کوئی بات نہیں ہم کسی سے نہیں ڈرتے۔ دیکھو مجھے تم پر اتنا تشدد کررہا ہوں، کون ہے پوچھنے والا؟ یہ تو صرف ناشتہ ہے، کھانا بعد میں ملے گا۔ تم نے سنا ھوگا کہ موت کے بعد قیامت کے دن ھرکسی نے اپنا جواب دینا ہے۔ اب دو جواب تم پکڑے گئے ہو، تمہارے لئے کچھ نہیں بچا تمہارے بیوی بچے اور بہن سب لوگ ہمارے قبضے میں ہیں۔ اگر تم نے زبان نہیں کھولی تو سب کو ختم کردیا جائے گا ۔اور توُ تو ویسے بھی مرنے والوں میں شامل ہے اگر کچھ کرنا ہے تو سب کچھ اُگل دئے۔ تمہاری بیوی بچوں کی خیر ھوگی۔”

یہ بہت بے رحم اور ظالم لوگ تھے ۔ کامریڈ نے ہچکچاتے ہوئے کہا دیکھو اس ملک میں رہتے ہوئے ان کے بارے میں بات کرنا میرے صحت کیلئے نیک شگون نہیں لیکن تم نے مجھے مجبور کردیا اور تم میرے دوست ہو۔ اس نے مسکراتے ہوئے کھانسی کے بعد پانی پی اور بات کو رواں رکھا۔ دوسری بات یہ کہ وہ میرے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔

بس وہ تشدد کرکے کہتے تھے کہ ھم سب کچھ تمہارے بارے میں جانتے ہیں۔ بس خود بتاو وہ زہنی دباوء کے ساتھ ساتھ مجھے شدید جسمانی ٹارچر کررہے تھے۔ اور کہتے تم لوگوں نے کتنے بندے مارے ہیں اور کس کو مارنے کا ارادہ رکھتے ہو، کتنے دھماکے کئے ھیں، تم لوگوں نے کہاں سے ٹریننگ لی ہے۔ حقیقت میں یہ تمام باتیں بکواس تھیں کیونکہ میں ایک سیاسی ورکر تھا اور میں تو کسی بھی کاروئی میں نہ ملوث تھا اور نہ ہی مجھے علم تھا۔ اگر مجھے کچھ علم تھا بس یہ کہ ھم سماجی سیاسی شعور پھیلا رہے تھے لیکن ہمارے تنظیم کا منشور سندھ دوستی پر مبنی تھا۔ اُس دن واقعی مجھے اپنے ایک بلوچ دوست کے باتیں یاد آرہی تھیں۔ جنہوں نے مجھے ایک سال پہلے کہاتھا کہ یہ لوگ کسی کو نہیں چھوڑتے بہتر ہے کہ اپنا راستہ پہچانو اپنی قومی طاقت کو یکجا اور منظم کرو ۔ دیکھو یہ کسی بھی لکھے پڑھے شخص کو نہیں بخشتے اور اس شخص کو غلطی سے بھی نہیں جس کی قومی شعور بیدار ھو۔میں اسی سوچ کے عالم میں تھا کہ میرے پیچھے ڈنڈے پڑنے شروع ھوگئے پھر وہ فرشتہ مجھے گھسیٹتے ھوئے کسی اندھیرے بڑے کمرے میں لے گیا۔ جہاں اس کے کئی ساتھی موجود تھے جب میں پہنچا تو سب نے بہ یک آواز کہا ذبح کردو سندھو کے اولاد کے بچے کوغدار ہے ہندووں کا ایجنٹ ہے۔

اس نےمجھے زمین پر لٹاتے ہوئے کئی لات مارے اور کہا آج سے پہلے کبھی ننگا کیا ہے کسی نےتمہیں ۔ میں نےکوئی جواب نہیں دیا ۔
آنہوں نے اپنے اوزاروں کے ساتھ مجھے مارنا شروع کردیا اور فوری مجھ پر بے حوشی طاری ہوگئی۔ تھوڑی دیر بعد جب مجھے ھوش آیا۔ اگر چہ میری آنکھیں بند تھیں جیسے سب پہ سکت طاری ہو اچانک سب نے یک آواز ہوکر کہا مارو بین۔۔۔۔ کے بچے کو جو جھوٹ بولتا ہے میں نے کہا جی میں کچھ نہیں جانتا۔ تو انہوں نے کہا پھر کون جانتاہے۔ میں نے کہا آپ کے ادارے کو بہتر معلوم ھوگا مجھے کچھ نہیں معلوم فورا ایک شخص نے چیختے ہوئے کہا ھمیں پتہ ہے اسلئے تمہیں پکڑا ہے تم خود بتاو۔

جب وہ فرشتہ مجھے واپس سیل میں لیکر گیا اس وقت میں خون سے شرابور تھا، جبکہ میرے ہاتھ پیچھےاور آنکھوں پر ڈبل پٹی بندھی ہوئی تھی ۔ فرشتے نے مجھے کہا اگلا تشدد اس سے سخت ھوگا جلدی بتادو۔ کئی مہینے کے مسلسل تشدد کے بعد اچانک ایک رات انہوں نے میرے ذاتی گھر والے کپڑے پہناتے ہوئے کہا کوئی آخری خواہش ہے تو بتاو پھر انہوں نے مجھے کوٹڑی سے نکالنے کے بعد کسی گاڑی کی ڈکی میں ڈال دی۔ اور آپس میں کہا آج اس کو موت کا تجربہ حاصل ھوجائیگا پھر آپس میں قہقہہ لگانے لگے۔ میرے توقعات کے برعکس انہوں نے مجھے رات کے اندھیرے میں ایک ندی کے کنارے زندہ چھوڑدیا ۔کہا اگر تم نے کبھی میڈیا کے سامنے منہ کھولا تو وہ تمہاری زندگی کا خری دن ہوگا پھر وہ چلے گئے۔


بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں