انقلاب کیا ہے – ملا امین بلوچ

176

انقلاب کیا ہے

تحریر: ملا امین بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ہر انسان اپنے سمجھ کے مطابق انقلاب کا اپنا مطلب نکال لیتا ہے کوئی معمولی تبدیلی کو انقلاب کا نام دیتا ہے، کوئی اپنے کاروبار کو وسیع کرنے کو انقلاب کہتا ہے۔ کوئی انقلابیوں کے کتابوں کو پڑھ کر انقلابی عمل سے دور رہ کر اپنے آپ کو انقلابی سمجھ لیتا ہے حالانکہ اس تبدیلی میں اس کا کوئی کردار نہیں ہوتا ہے۔ وہ صرف خواہش ہوتی ہے کہ انسان اپنے تبدیلی کو ہمارے بتائے ہوئے طریقے پر سر انجام دے لیکن خود اس چیز سے کنارہ کش رہ کر اپنے پر اشوب زندگی کو ترجیح دیتا ہے۔ کچھ لوگ انقلابیوں کے بھیڑ میں رہ کر ناکارہ پرزے کی طرح ھوتےہیں، خود اس پرعمل نہیں کرتے لیکن صرف موجود رہتے ہیں پھر بھی تبدیلی کو اپنی مرضی کے مطابق چاہتے ہیں۔ حقیقت میں وہ خود بے عمل ہوتے ہیں، وہ تبدیلی کے نئے طریقے کی تگ و دو میں نہیں رہتے، وہ اپنے عوام، سماج اور وقت کی ضرورت کو انقلاب کی ضرورت کو سمجھ نہیں پاتے، وہ دنیا کے کشمکش کا تجزیہ نہیں کرتے، وہ بنتے ٹوٹتے ریاستوں کا تجزیہ نہیں کرتے، وہ سرد جنگوں کی کھوج لگانے میں ناکام رہتے ہیں، لیکن پھر بھی انقلابیوں کے اندر موجود ہوتے ہیں۔

بلوچ قوم اپنی آزادی کے لیے جنگ لڑ رہی ہے ل، جو اسطرح کے انقلابیوں سے بھری پڑی ہے کچھ لوگ چند دن کے لیے اس انقلابی جدوجہد کا حصہ بننے کے بعد تھک جاتے ہیں کیونکہ وہ عمل نہیں کرتے انکے انقلابی ہونے کے خواہشات پورا نہیں ہوتے ہیں کیونکہ وہ خود بے عمل انقلابی ہوتے ہیں، وہ انقلاب کی بھٹی میں کودنا نہیں چاہتے، وہ انقلاب کے دوران پیش آنے والے مشکلات اور مصائب کو برداشت نہیں کرتے، وہ خود کوتبدیل نہیں کرتے، وہ انقلاب کی اکائی کو نہیں جانتے کہ کہاں سے شروع ہو جاتاہے کہ سب سے پہلے کس چیز کو تبدیل کرناپڑتا ہے، وہ اس طرح سرگرداں رہتا ہے کہ انقلاب کی ضرورت کی چیزوں کو باہر پھینک دیتا ہے اور غیر ضروری چیزوں کو انقلاب کی سمندر میں گھسیٹ کر لاتا ہے پھر اسے اسی سمندر میں روکنے کی کوشش کرتا ہے وہ چیزوں کی جگہ کا تعین نہیں کر سکتا اسے سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ لائی ہوئی چیز انقلاب کی ضرورت ہے یا ہماری؟وہ اپنے ضرورت کی چیزوں کو انقلاب کی ضرورت سمجھتا ہے وہ جلدی نتیجے کا انتظار کرتا ہے، وہ انقلاب کی قیمت چکانا نہیں چاہتا وہ صرف کامیابی چاہتا ہے وہ بھی اپنی مرضی کے مطابق۔

اسے سمجھ میں نہیں آتا کہ میرے اور انقلاب کے درمیان رشتہ کیا ہے، فرق کیا ہے، کس کو کس کی ضرورت ہے وہ اس فیصلے کے قابل نہیں ہوتا پھر ٹوٹ جاتا ہے جب انقلاب کی پیچیدگیوں کو سمجھ نہیں پاتا تو سب چیزوں کو توڑ دیتا ہے، سب اس کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں، وہ خالی میدان میں رہ جاتاہے پھر اپنے بنائی ہوئی چیزوں کی مخالف کرتا ہے۔

اس طرح کے عمل کرنے والے کو انقلابی نہیں کہتے ہیں انقلاب خود ایک عمل کو کہتے ہیں انقلاب کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں اس کے اپنے طریقے ہوتے ہیں، اس کے اپنے شرط و قانون ہوتے ہیں، وہ کسی باہر سے لائی چیز کو قبول نہیں کرتاوہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا اس کا اکائی موجود ہے وہاں سے شروع کیا جاتا ہے۔

انقلابی عمل کے لیے انسان کو سب سے پہلے اپنے سے تبدیلی شروع کرنا ہوتا ہے، سب سے پہلے وہ خود کو تبدیل کرے اس کے بعد وہ سماج کو تبدیل کرنے کا ذمہ داری اٹھاتا ہے، پھر وہ اپنے انقلابی ہونے کا سفر شروع کر لیتا ہے، دوران سفر وہ ہر قسم کے مشکلات کا مقابلہ کرتا ہے۔ حالات چاہے جیسے بھی ہوں وہ اسے تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔


بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں