بلوچستان کے آنسو – زہرہ جہاں

73

بلوچستان کے آنسو

تحریر: زہرہ جہاں

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کے آنسو بالکل اس کے پہاڑوں میں بہنے والی چشموں کی طرح ہیں. دونوں کا شیوہ مزاحمت ہے زندگی کے لیۓ، دونوں کا سبق ایک ہے, ” مزاحمت زندگی ہے ” دونوں ہی زندگی بخشنے کے لیۓ جدوجہد کرتے ہیں، اور اسی اصول کے لیۓ بہتے رہے ہیں اور بہہ رہے ہیں. چشمے سخت سے سخت ترین چٹان کو چیر کے زندگی کے لیۓ رستہ بناتے ہیں تو آنسو سخت سے سخت ترین آدمی کو بھی انسان بناتے ہیں. منزل و مقصد تک پہنچنے سے پہلے ممکن ہی نہیں کہ یہ روانی رُک جاۓ. چشمے اور آنسو تب تک نہیں رُکتے جب تک ان کی ضرورت باقی رہتی ہے اور یہ یونہی جہد مسلسل کی طرح رواں رہتے ہیں.

آنسوؤں کو بہت سے لوگ کمزوری سمجھتے اور کہتے ہیں کہ آنسو کمزور لوگوں کے ہی بہتے ہیں. جو کمزور نہیں ہوتے وہ کبھی آنسوںنہیں بہاتے ہیں تو اُن کے لیۓ عرض کہ آنسو حقیقت میں بہتے ہی کمزور کو طاقتور بنانے کے لیۓ. یہ تو مولہ و بولان کے چشموں کی طرح بہتے ہی اس لیۓ ہیں کہ پہاڑوں کے دامن میں بسنے والے وطن زادوں یعنی شہزادوں جیسا ہمت و حوصلہ اور طاقت پیدا کریں. جس طرح چشمے بنجر زمینوں کو سیرآب کرتے ہیں بالکل اسی طرح یہ آنسو بنجر یعنی مرے ہوۓ دلوں میں روح پھونکتے ہیں. انھیں زندگی کی راہ دکھاتے ہیں اور زندہ دلی کی پٹھڑی پہ چلنا سکھاتے ہیں.

یہ آنسو کی ندیاں جو کچھ دنوں سے اسلام آباد میں بہہ رہی تھیں یہ وہاں صرف بہہ نہیں رہی تھیں بلکہ وہاں بنجر و زنگ آلود دلوں کو میل سے پاک کررہے تھے، یعنی سیر آب کر رہے تھے. یہ وہاں صرف بہہ نہیں رہی تھیں بلکہ آخری جدوجہد و آخری فتح تک یعنی آزادی تک مزاحمت کا ایک چیدہ بنارہے تھے. یہ وہاں صرف بہہ نہیں رہی تھیں بلکہ ہمت, حوصلہ اور جہد مسلسل کے مینار کھڑے کر رہے تھے. یہ وہاں صرف بہہ نہیں رہی تھیں بلکہ ظلم و ستم کے بت کدوں کو مسمار یعنی نیست و نابود کر رہے تھے. یہ صرف بہہ نہیں رہی تھیں بلکہ پیغام دے رہے تھے کہ قید و بند یعنی ظلم و ستم سے زندگی کو روکا نہیں جاسکتا ہے.

زندگی چلتی رہتی ہے ہر حال میں. زندگی کو موت چاہ کر بھی ختم نہیں کرسکتا اگر زندگی خود زندہ رہنا چاہے یعنی امر ہونا چاہے جیسا کہ ہوئی ہے بانڑی , سمل و بیبل, اسی طرح مہراب, نوروز و اکبر کی صورت۔

یہ آنسو اس لیۓ نہیں بہہ رہی تھیں کہ ہم کمزور ہیں اور کمزور کی آنکھ سے ٹپک رہے ہیں بلکہ بتا رہی تھیں دیکھو تم نے ہمیں روکنے کے لیۓ کیا سے کیا نہیں کیا. تم نے ہمیں زندگی میں موت کو گلے لگانے کے لیۓ کتنی کوششیں کیں. تم نے ہمیں خُشک و نا اُمید کرنے کے لیۓ کون کون سے حربے استعمال کیں. تم نے ہمیں خاموش اور ڈرانے کے لیۓ کون کون سے خطرناک و خوفناک چالے چلیں لیکن سب ناکام سب بے سود.

ہم زندگی کی لیۓ روانی سے بہہ رہی تھیں اور بہہ رہی ہیں اور تم کو پتہ چل ہی گیا ہوگا کہ ہم تب تک بہنا نہیں چھوڑیں گے جب تک تم ہمیں اُس زندگی سے یعنی آجوئی و آزادی سے بہر آور نہیں کراتے ہو جو ہماری ہے, جو تم نے زور و زبردستی یعنی دھوکہ و دغا بازی کر کے ہم سی چھینا ہے.

یہ زندگی تو ہم تم سے چھین کے ہی رہنیگے. اپنی زندگی کو تم سے آجو و آزاد کرکے ہی دم لنیگے. جب تک ہماری زندگی تمھاری قید میں ہے تب تک ہم بہتے ہی رہینگے تم کو للکارتے ہی رہنیگے اور تمہاری ہار پر ہی ہمارا اختتام ہوگا یہ یاد رکھو یا نہ رکھو.

یہ آنسو بہاول و سفر خان جیسے سپوت, خیر بخش و میر عبدالنبی جیسے کامریڈ و زانتکار, غلام محمد و بالاچ جیسے فرزند, اسلم و نورا جیسے جنگجو, دلجان و شیہک جیسے وطن زادے, حق نواز و ریحان جیسے پھول, زاکر و زاہد جیسے مزاحمتکار, امیر و بارگ جیسے شہید, اھوگ و مرید جیسے شاعر, میر احمد و منہاج جیسے آواز, نوشین و افشین جیسی سوچ, ساہ کندن و چینڈوں جیسے ساز, حوران و ماہرنگ جیسے مزاحمتکار, حسیبہ, سمی و سیما جیسی مہر زادیاں پیدا کرتی رہیگی. یہ سلسلہ یونہی جاری و ساری رہیگی. یہ سلسلہ محض درد ء دل کم کرنے کے لیۓ نہیں بلکہ آجوئی و آزادی کے لیۓ چلی ہے اور آجوئی و آزادی پہ ہی ختم ہوگی… یہ مزاحمت ہے اور مزاحمت زندگی ہے, مزاحمت آجوئی ہے.


بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں