اپنے عہد کا مجرم۔۔۔ عطاء شاد – منظور بلوچ

181

‎اپنے عہد کا مجرم۔۔۔۔ عطاء شاد

‎تحریر: منظور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

‎زندگی تو خیر معمہ ہے۔ ہر بات تو سمجھ میں آنے سے رہی۔ لیکن میں تو بسا اوقات سیدھی اور سامنے کی بات کو بھی نہیں سمجھ پاتا۔عطا شاد کی برسی کے حوالے سے لکھنا ہے۔ لیکن لکھنا کیا ہے؟ لیکن اس سے پہلے سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ لکھنے کی کوئی تہذیب بھی ہے یا نہیں؟یاجو من میں آیا لکھ دیا۔ جس کے بارے میں جو کہا، سو کہہ دیا…… لکھنا بہت مشکل ہے۔ لیکن اتنا آسان بھی ہے۔

‎ جی ہاں!کوئی مانے یا نہ مانے …… لیکن جب ہم بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو یہ بات دو صد فیصد سچ نظر آتی ہے اور بقول جون ایلیا جس کسی نے دو سطریں بھی نہیں پڑھیں آٹھ دیوانوں کا شاعر اور دس کے قریب نثری کتب کا مصنف ہو گا۔ یہاں، جہاں پر دانش وروں، کی بھیڑ لگی ہوئی ہے…… بھلا ڈھنگ کی بات کیسے ہو گی اور کہاں سے ہو گی! اور وہ بھی عطا شاد پر بات کرنے کی۔

‎ عطا شاد کو بلا شبہ ایک بڑا شاعر مانا جاتا ہے۔گو کہ یہ حلقہ بہت وسیع نہیں، لیکن پھر بھی بات پلے نہیں پڑتی کہ عطا شاد عصری شاعری میں ایک معتبر حوالہ ہے۔حوالہ تو حوالہ ہوتا ہے۔ معتبر کیا ہوتا ہے اور کیسے ہوتا ہے؟یہاں سے میرے خیال میں گھپلا شروع ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر گھپلا نہ ہو تو ”معتبر حوالہ“ قرار دینے کی کیا ضرورت اور پھرسب سے اہم بات یہ کہ ”عصری شاعری“کیا ہوتی ہے اور یہ جملہ تو خیر خاصا بدنام ہو چکا ہے کہ ”عطا شاد کا لہجہ منفرد رہا ہے“ اب تو جسے دیکھو اس کی شاعری کا لہجہ منفرد نظر آتا ہے۔ اب ان سکہ بند دانش وروں کو کون سمجھائے کہ اگر فن میں انفرادیت نہ ہو تو فن کہاں رہتا ہے؟ہر شخص اپنے طور پر منفرد ہے۔ اس کی گفتگو کا انداز ہے۔ زندگی کو برتنے کا طریقہ سبھی جدا ہوتا ہے۔کیونکہ ایک شخص دنیا میں ایک بار ہی جنم لیتا ہے پھر اس سا دوسرا نہیں آتا لیکن پھر بھی اصرار ہے کہ ”انفرادیت پر مبنی لہجہ“ کیا ہمارے آج کے لکھنے والوں کے پاس الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے یا پھرلفظ ہی اپنی معنویت کھو بیٹھے ہیں؟

‎یہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا کہ ”وہ (عطا شاد)اردو اور بلوچی دونوں زبانوں کے صاحب اسلوب شاعر تھے“ یقیناًہر شخص فن کار صاحب اسلوب ہوتا ہے۔ اسلوب نہ ہو تو کوئی کیسے اور کیونکر لکھے؟ عطاشاد پر گفتگو کرنے والوں کے لئے بھی یہ ضروری نہیں کہ ان کو بلوچی بھی آتی ہو۔ لیکن اس کے باوجود وہ ان کو بلوچی کا ”صاحب اسلوب“ شاعر قرار دیتے ہیں۔

‎اردو کے ساتھ بلوچی کا تڑکہ لگانا بھی ضروری ہے۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جن بڑے دانش وروں، نے اب تک عطا شاد پر جو کچھ لکھا اور پڑھا ہے وہ عطا شاد کو پڑھے بغیر ہی لکھا گیا ہے۔ اس لئے کہ عطا شاد کے لئے جن رومانوی جملوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ تو اوسط درجے کے شاعروں کے لئے بھی کہا جا سکتا ہے۔ یہاں تو مشاعروں کے لئے بھی ایسے ہی لفظ استعمال کئے جاتے ہیں۔لگتا ہے کہ عطاشاد پر گفتگو کرنے والوں کے ہاں بڑی جلدی ہے …… اور جو منہ میں آئے کہے چلے جاتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان کی باتوں کو اول تو کوئی پڑھے گا نہیں اور جو پڑھیں گے۔وہ عطا شاد کی شاعری کی بجائے ان کی جملہ بازیوں پر واہ واہ کریں گے۔ کیونکہ ”درباری کلچر“ تو نہیں ختم ہو چکا ہے۔

‎ ہمارے ٹکسالی دانشور جھٹ سے عطاشاد کو گل خان نصیر کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔ درمیان میں ایک پرچم بھی آتا ہے۔جوان تئیں گل خان نصیر کے ہاتھوں میں تھا۔جو انہوں نے جاتے جاتے عطا شاد کے حوالے کیا کہ”بھئی اس پرچم کو سنبھالے رکھنا“ کیونکہ یہ ”پرچم“بڑا مقدس ہے۔ لیکن یہ ”پرچم“ کیا ہے؟ کہاں سے آیا؟ گل خان نصیر کا ”پرچم“کیا تھا؟ اگر ”پرچم“ سے مراد ترقی پسندی اور کمیونزم ہے تو پھر اللہ ہی خیر کرے۔ ہمارے ہاں کچھ یار لوگوں نے سوشلزم کی ایک فیکٹری بنا رکھی ہے۔ جس میں اچھے بھلے شخص کو ایک طرف سے ڈال کر جب دوسری جانب سے نکالا جائے تو وہ اچھا خاصا ”سرف“ بن جاتا ہے۔ ویسے تو ”سرف“ کا لفظ بڑا معیوب ہے۔ لیکن لفظوں کے ساتھ یہ کھلواڑ کس نے کیاہے؟ اورجن لوگوں نے کیا ہے۔ انہوں نے ہی شعر، شعر کی معنویت اور شعریت کو بھی فراغت کا ایک مشغلہ بنا ڈالا اور ان کے ہاں بلوچستان کا ہر لکھنے والا، ترقی پسند، کمیونسٹ اور نہ جانے کیا کیا بن جاتا ہے؟

‎کیا گل خان نصیر اور عطا شاد کا موازنہ ہو سکتا ہے؟ اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں۔ وہ دراصل اس بات کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے گل خان اور عطا شاد دونوں کو پڑھا نہیں ہے۔ پڑھنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے چند اشعار آپ کو یاد بھی ہیں۔ پڑھنا، سمجھنا اور ہضم کرنا بڑا مشکل کام ہے اور ہم مشکل کام کرتے نہیں۔کیونکہ ہم اس کے عادی نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں نثر تو خیر اپنی جگہ شعری روایتیں بھی نہ بن سکیں۔اس کی وجوہات تو بہت سی ہیں۔ اول تو ہم نے بڑے شعراء ہی پیدا نہیں کئے اور غلطی سے عطاشاد جیسے شاعر نے ہمارے ہاں جنم لیا تو ہم اس کی شعریت کی درست تفہیم ہی نہیں کر سکے۔ کیونکہ ہمارے ہاں اسکی کوئی روایت موجود نہیں۔

‎ چونکہ ادب کے حوالے سے ہم بڑے تہی دست ہیں۔ اس لئے ہر لکھنے والا ہمارے ہاں بڑا آدمی ہے۔ اس کے لئے یہ دلیل ہی کافی ہے۔ ”بھئی اس نے تو کچھ لکھا ہے“کیا لکھا ہے؟ اس کا جواب دینا ہماری ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہے۔ اگر ہر سوال کا جواب دیا جانے لگا تو ادب تو گیا کام سے لیکن مشکل یہ ہے کہ ادب کب کام کا تھا اور جو کل وقتی ادیب تھے۔ ان کی ہم نے کیا درگت بنائی۔ خودعطا شاد کے ساتھ کیا ہوا؟ لیکن آج تک ان کی شعریت تو اپنی جگہ ان کی زندگی کے حوالے سے بھی ہمیں کچھ نہیں ملتا۔

‎وہ تو خیر اپنے عہد کا مجرم تھا۔وہ جس انداز میں شعر کہتا تھا یہ کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی اور پھر یوں بھی ہم اپنے درمیان میں کسی ذرخیز ذہن کو کہاں برداشت کرتے ہیں اور پھر وہ بھی شرابی جو ہر وقت نشے میں دھت رہتا تھا۔ اس کی تعریف کی جائے؟ اس کی اپنی زندگی میں کیا تھا؟ یہی نہ کہ اس کی ذات مکمل کرب کا حصہ تھا۔ وہ بلا کا حساس تھا اور بلا کا پینے والا تھا۔نہ جانے ایسے حساس لوگ شراب پی پی کر اپنی زندگیاں تباہ کیوں کر دیتے ہیں؟ اس لئے کہ ایسے حساس لوگ معاشرے سے نہیں لڑ سکتے۔ حلال اور حرام کے جو سانچے ہیں۔ ان کو توڑ نہیں سکتے۔ اس لئے خود ٹوٹ جاتے ہیں۔
‎عطاشاد بھی اندر سے ٹوٹا ہواشخص تھا۔ وہ اتنا ٹوٹ چکا تھاکہ اسے چھونے سے اس کے بکھرنے کا خدشہ تھا اور خدشہ سچ ہی ثابت ہوا۔ وہ لکھ گیا:
‎وہ اک دل جو دریچے کا دیا ہے
‎نظر کی ظلمتوں میں بجھ گیا ہے
………………………………
‎پس کہسار مہر و ماہ رخشاں
‎سر وادی نہ کوئی لب نہ رخسار
………………………………
‎چہرہ ہے شفاف مگر
‎دل کی چادر میلی ہے

‎جی ہاں …… جن کے دلوں کی چادریں میلی ہیں۔ اب انہوں نے اس نئے زمانے میں عطاشاد کو ایک نئے روپ میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کو بلوچستان کے موجودہ حالات کے سامنے کھڑا کرانا ہے تاکہ ان کی شاعری سے اپنا مطلب برآری کا کام لیا جاسکے۔جنہوں نے عطا شاد کو آنکھوں خون رلایا۔ اب وہ اس خوں کی قیمت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اس فن میں ماہر ہیں۔ فن کار کو زندگی میں کیسے صلیبوں پر لٹکایا جاتا ہے۔ یہ کام بھی جانتے ہیں اور پھر وقت آنے پر وہ اس فن کار کو اس کی صلیب سمیت بیچ دینے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے ہیں۔

‎موجودہ حالات میں گل خان نصیر کو ایک نئے روپ میں ڈھال کر اس کی شخصیت کا کاروبار چل پڑا ہے۔ حاکمان وقت کو بھی مسخرگی کی بڑی ضرورت ہے تاکہ وہ ادب سے اپنی شناسائی کا نقارہ بجا سکیں اور سادہ لوح عوام کو بتایا جائے کہ ان کے حکمران کتنے ادب دوست ہیں۔

‎حالانکہ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ فن کار اور اقتدار ہمیشہ سے دریا کے دوکنارے ہیں۔ یہ نہ ملے ہیں نہ ملیں گے اور جب فن کار اور اقتدارآپس میں مل جاتے ہیں تو فن باقی نہیں رہتااور کوئی بھی حکومت سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ادب شناس ہو گی۔ اس سے بڑا کھلواڑ ادب کے ساتھ ہو نہیں سکتا۔ حکومت کون ہوتی ہے جو یہ بتائے کہ کون سا فنکار بڑا ہے۔ اس کے فن کی ماہیت اور قدر وقیمت کیا ہے؟
‎وہ معتبر بھی ہمیں کر گیا سپرد ہوا
‎یہ مہرباں بھی موجوں کی ناؤ رکھتا ہے
………………………………
‎قریب ہے تو قریب آئے دور ہے تو دور رہے
‎یہ کیا کہ پاس بھی ہے اور کھنچاؤ رکھتا ہے
………………………………
‎عطا سے بات کرو چاندنی سی شبنم سی
‎خنک نظر ہے مگر دل الاؤ رکھتا ہے

‎گل خان نصیر کو کیش کرنے کے بعد اب عطاشاد کو کیش کرنے کی باری ہے، کیونکہ عطا شاد کے ذریعے اقتدار کی غلام گردشوں تک رسائی ممکن ہے۔ اس کے لئے تیاریاں ہو رہی ہیں۔ تقاریب ہو رہی ہیں۔ ایک نئے ڈھنگ سے ایک نئے نام سے عطاشاد کو بھی وہی لوگ کیش کریں گے۔ جنہوں نے ادب کا ٹکسال کھول رکھاہے۔یہ بڑے”گھاگ“قسم کے لوگ ہیں۔ٹھیٹ قسم کے کاروباری ہیں۔ان کے ہاں عطا شاد کے لطیف جذبوں اور معصوم الفاظ کے لئے کوئی نازک دل نہیں ہے۔ وہ تو مال دیکھ کر ان کی قیمت لگاتے ہیں۔
‎ادب کے یہ بیوپار سمجھتے ہیں کہ ”نئے“ معاشرے میں ادب کی اب وہ اہمیت نہیں رہی۔ ادب عوام کا تھا ہی کب …… درباروں سے لے کر اب تک یہ سرکار کی مال ہے۔ لہذا اس کے اچھے دام بھی سرکار سے ملیں گے۔

‎ادب پروفیشنلزم بن چکا ہے۔ ایک جنس ہے۔ جسے مناسب طریقے سے بیچا جائے، تو کھپ سکتا ہے۔

‎منٹو سے لے کر عطا شاد تک۔ ہر جینوئن لکھنے والے نے گالیاں کھائیں۔ عمر بھر کے دھکے اور کرب اٹھائے۔ لیکن جب ان کی آنکھیں بند ہوئیں تو ان کو کیش کا مرحلہ شروع ہوا۔

‎منٹو جواپنی زندگی کے آخری دنوں میں تنگ دستی کی خاطر بیس روپے میں اپنا افسانہ فروخت کرکے اپنی وسیکی کا بندوبست کرتا تھا جب مرنے لگا تو اس نے کہا کہ اب اس ذلت کو ختم ہونا چاہیے۔ ان کو پوری زندگی میں گالیوں کے سوا کیا ملا۔ وہ بھی مانتا تھا کہ اسے گالیاں دی جائیں۔ لیکن وہ فن کار ہے۔ کم از کم سلیقے کی گالیاں دی جائیں۔
‎لیکن اب بات گالیوں سے بڑھ کر بیوپار تک پہنچ گئی ہے اور ہم نے بھی اب یہ تماشہ دیکھنا ہے کہ اقتدار کی غلامہ گردشوں میں عطا شاد بعد از مرگ کس طرح فروخت ہوتا ہے۔
‎عطاشاد نے تو خود ہی کہہ دیا تھا کہ:
‎ابن آدم بن جاؤں
‎ایک لمحے کا گنہ گار بنا دے مجھ کو
‎میں کہ اک بندہ ہوں اوتار بنا دے مجھ کو
‎لگتا ہے کہ ان کی دعا قبول ہو چکی ہے۔ اپنے عہد کا مجرم، شرابی، گنہ گار، خطا کار، اب ایک اوتار بن چکا ہے۔ اس کے مجاوروں نے ان کے مقبرے پر پھول چڑھائے ہیں۔ خوشبو نہیں لٹائی جارہی ہیں۔ اس لئے کہ وقت کا حاکم، گنہ گار اور خطا کار اوتار کے لئے اپنے قیمتی وقت میں سے چند لمحے نکال کر ان کے مجاوروں کی داد رسی کرنا چاہتا ہے۔ کاش عطا شاد خود کو ”اوتار“ بڑا دیکھ سکتا۔ لیکن نہیں، اچھا ہی مرا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں۔ اس لئے کہ وہ بڑا حساس تھا۔آج کے ”اتار“کو دیکھ کر وہ اپنی خطاکاری پر زیادہ خوش ہوتا۔ شاید بچوں کی طرح……!!


بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں

SHARE
Previous articleاسلام آباد: منظور پشتین کا بلوچ لاپتہ افراد بازیابی کمیپ آمد، ملکر جدوجہد کرنے کا اظہار
Next articleآئیں شازیہ کے پیر چھوئیں – محمد خان داؤد
منظور بلوچ
بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے بینچہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ اس وقت بلوچستان یونیوسٹی میں براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے براہوئی زبان میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، اسکے علاوہ آپ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز اور ایل ایل بی بھی کرچکے ہیں۔ آپکے براہوئی زبان میں شاعری کے تین کتابیں، براہوئی زبان پڑھنے والے طلباء کیلئے تین کتابیں اور براہوئی زبان پر ایک تنقیدی کتابچہ شائع ہوچکا ہے۔ منظور بلوچ بطور اسکرپٹ رائٹر، میزبان اور پروڈیوسر ریڈیو اور ٹی وی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ آپ ایک کالم نویس بھی ہیں۔ آپ بطور صحافی روزنامہ مشرق، روزنامہ رہبر، روزنامہ انتخاب، روزنامہ آزادی، روزنامہ آساپ، روزنامہ ایکسپریس نیوز میں بھی کام کرچکے ہیں اور آپ ہفتہ وار سالار کوئٹہ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ دی بلوچستان پوسٹ میں بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔