امید ہے وزیر اعظم کا بیان عملی طور پر لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے ہے – سمی دین

120

لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی اور لاپتہ افراد کیلئے آواز اٹھانے والی ایکٹوسٹ سمی دین بلوچ نے کہا ہے کہ امید کرتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان کا بیان صرف اخبارات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ وہ عملی طور پر بلوچ لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرینگے۔

ان خیالات کا اظہار سمی دین نے سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر کیا۔ سمی دین کا اپنے ٹویٹ میں کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان صاحب، میرے والد ڈاکٹر دین محمد 11 سالوں سے زائد عرصے سے لاپتہ ہے۔ ہم نے والد کی بازیابی کیلئے انصاف کے تمام دروازے کھٹکھٹائے ہیں لیکن ہر جگہ سے مایوسی کے علاوہ اور کچھ نہیں ملا ہم امید کرتے ہیں کہ اس بار صرف اخباری بیانات نہیں بلکہ آپ عملی طور پر لاپتہ افراد کے مسئلے پر کام کرینگے۔

 خیال رہے ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو اٹھائیس جون 2009 کو ضلع خضدار کے علاقے اورناچ سے ان کے سرکاری رہائش گاہ سے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہے۔

دین محمد بلوچ کے بیٹیوں سمی بلوچ اور مہلب بلوچ نے ان کی بازیابی کے لیے کوئٹہ اور کراچی میں پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کیا، مختلف فورمز پر جاکر اپنے والد کے بازیابی کے لیے آواز اٹھائی۔ علاوہ ازیں انہوں نے کوئٹہ تا کراچی اور اسلام آباد تک وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے لانگ مارچ میں بھی حصہ لیا۔